Posts

Showing posts from December, 2025

دسمبر کی شادیاں

Image
  دسمبر کی شادیاں بھئی ویسے تو ہم خود بھی دسمبر کی پیدائش ہیں ، مگر یہ دسمبر تو جیسے شادیوں کا باقاعدہ سیزن ہی بن چکا ہے۔ جدھر دیکھو، شادی ہی شادی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ شادی نہ کریں، مگر بیچارے اور بھی تو مہینے ہیں جو برسوں سے منتظر ہیں۔ ان مہینوں کا کیا قصور ہے؟ ویسے بھی کراچی میں سردی کا تو نام ہی بدنام ہے، مگر مان لیتے ہیں، تھوڑی بہت ہوتی تو ہے۔ اب اگر وہ بھی شادیوں میں ہی دن گزار دے تو ہم رضائی اوڑھ کر کب سوئیں گے؟ پھر کیا پتا سردی کب آئی اور کب چلی گئی۔  خیر، بات تو ہم شادیوں ہی کی کر رہے تھے۔ بچپن میں تو ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہوتا تھا۔ شادیاں ہمارے لیے بس ایک چھوٹی سی خوشی ہوتی تھیں۔ خوشی بھی ایسی کہ اچھے کپڑے پہننے کو مل جائیں گے یا کولڈ ڈرنک ملے گی، اور جتنا دل چاہے پی لو۔ اور پہلے تو بس بریانی یا قورمہ ہی عام ہوتا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ پوری دیگ صاف کر دیں، مگر سچ پوچھیں تو ایک پلیٹ سے زیادہ کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔ کھانا دیکھ کر ہی دل بھر جاتا تھا۔  اوپر سے کولڈ ڈرنک نے الگ ہی بھر دیا ہوتا تھا اور وہ منظر تو آج بھی یاد ہے جب لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے تھے او...

میرا ساتھی

میرا ساتھی  ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا  ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر  ہم  اپنی   زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...

کچھ نہ کہہ سکا

Image
 عنوان: کچھ نہ کہہ سکّا وہ کتنی چلبلی تھی… چہرے پر شرارت، آنکھوں میں شوخی، اور بات کرتے وقت ایسا لگتا تھا جیسے ہر جملہ کسی رنگین تتلی کی طرح اس کے ہونٹوں سے اڑ کر فضا میں بکھر رہا ہو۔ جینز پہنتی، اس پر رنگ برنگی کرتی، لمبی ہِیل والی سینڈلز، اور چہرہ… ہمیشہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا۔ میں آج بھی وہ دن نہیں بھولا جب یونیورسٹی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا، ماسٹرز کی تکمیل قریب تھی، اور مجھے ’’بیسٹ اسٹوڈنٹ‘‘ کا ایوارڈ ملا تھا۔  اسٹیج سے نیچے اترا تو سب سے پہلے وہ ہی آئی تھی سائرہ۔ اس کی خوشی مجھ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا، “ناصر، بہت بہت مبارک ہو!” اور بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اس کے نزدیک یہ عام سی بات تھی، وہ ایسی ہی تھی۔ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کے ساتھ وہ ایسے ہی پیش آتی ہم پانچ دوستوں کا گروپ تھا تین لڑکے، دو لڑکیاں مگر سائرہ کی بات ہی الگ تھی۔ میں پڑھائی میں ڈوبا رہنے والا لڑکا تھا۔ کتابیں، نوٹس، لائبریری… بس یہی میرا جہان تھا  مگر وہ جیسے ہی آکر بیٹھتی، میں کتاب بند کر دیتا، چاہے امتحان سر پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی باتوں میں ایک عجیب سی زندگی تھی۔ وہ بولتی رہتی...

گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ

Image
 گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ   (بچوں، گھروں اور روزمرہ زندگی کا بڑا مسئلہ): ہمارے ملک میں سردی کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلے جس چیز کی کمی شدید محسوس ہوتی ہے، وہ ہے گھریلو گیس۔ یہ مسئلہ آج کل اتنا بڑھ چکا ہے کہ صبح کے وقت چولہے جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ گھر جہاں اسکول جانے والے بچے ہیں، وہاں صبح کا وقت ایک دوڑ جیسا بن جاتا ہے۔ بچوں کو ساڑھے چھ بجے اٹھانا، نہلانا، تیار کرنا اور ناشتہ کروانا والدین کی روزمرہ ذمہ داری ہے، مگر جب گھر میں گیس ہی نہ ہو تو یہ سب محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے بچوں کا اسکول بھوکے جانا  ایک سنگین حقیقت: آج کل ہزاروں بچے صرف اس لیے ناشتہ نہیں کر پاتے کہ گھروں میں صبح گیس نہیں آتی اور  جن بچوں کی وین یا اسکول بس عموماً 7:15 پر آجاتی ہے، اور اس سے پہلے والدین کے پاس وقت تو ہوتا ہے، لیکن گیس نہیں ہوتی۔ نتیجہ؟  بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھوکے پیٹ پڑھنا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ بچے دورانِ دن چڑچڑے، تھکے ہوئے اور غیر توجہی محسوس کرتے ہیں۔  یہ وقت وہ ہے جب ان کا دماغ تازہ غذا کا سب سے زیادہ محتاج ہوتا ہے، او...