Posts

Showing posts from March, 2026

گناہ گار

Image
 گناہ گار ایک شبانہ تھی، جس کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ وہ روز طعنے سنتی تھی کہ ایک بیٹا بھی نہ جن سکی۔ ایک سارہ تھی، جو نوکری کرتی تھی، خودمختار بھی تھی، مگر اسے یہ سننا پڑتا تھا کہ جو عورت باہر کام کرے وہ گھر اچھی طرح نہیں سنبھال سکتی۔ بس اسی طرح کی باتیں وہ روز سنتی تھی۔ ایک نازیہ تھی، جس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ جب سے وہ آئی ہے، اس کے شوہر کی نوکری ختم ہو گئی۔ ایک اور “گناہ گار” عورت کی کہانی سن لیں اس کا نام عالیہ تھا، اس نے تو حد ہی کر دی، اپنے شوہر کو الگ گھر لے گئی، اور شوہر کو “جورو کا غلام” کا لقب مل گیا۔ ارے ہاں، ایک نایاب  بھی تھی، جس کی شادی کو دس سال ہو گئے مگر بچہ نہ ہوا، تو اسے “بانجھ” کا تمغہ دے دیا گیا۔ آپ نے ابھی صرف چند ہی “گناہ گار” عورتوں کی کہانیاں سنی ہیں، ابھی تو اور بھی بہت سی کہانیاں باقی ہیں، مگر آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ویسے تو یہ سب نام فرضی ہیں، مگر یہ کہانیاں سچی ہیں۔ کہیں نہ کہیں یہاں عورت کو ہی قصوروار ثابت کیا جاتا ہے۔ یہاں “گناہ گار” کا لفظ اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے باقاعدہ سزا دی جاتی ہے اور یہ سزا مار پیٹ نہیں ہوتی، بلکہ باتو...

معاف کر دو!

Image
  معاف کر دو ! یہ صرف تین لفظ ہیں، مگر کبھی کبھی ان تین لفظوں کا وزن انسان کے دل پر پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔ ہم اکثر ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلا تا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ، “معاف کر دو۔” ہم میں سے کچھ نظر چرا لیتے ہیں، کچھ خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر آج میں ان الفاظ کو کسی اور معنی میں یاد کر رہی ہوں۔ زندگی میں بھی اکثر یہی تین لفظ سننے کو ملتے ہیں  “معاف کر دو”۔ لوگ کہتے ہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی ہو جاتی ہے، دل بڑا رکھو اور معاف کر دو۔ بعض اوقات ہم خود بھی یہی کہتے ہیں کہ “معاف کر دو، کیونکہ غلطی تو ہم سے بھی ہو سکتی ہے۔” لیکن زندگی کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر یہ تین لفظ مرہم نہیں بن پاتے۔ اگر کسی کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو شاید وہ واپس مل جائے۔ اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو اس کا ہرجانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ مگر جو خوشیاں کسی کے دل سے چھین لی جائیں… جو خواب کسی کی وجہ سے آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں… جو سکون کسی کی زندگی سے چھین لیا جائے… ان کا ازالہ کون کر سکتا ہے؟ انسان مال واپس کر سکتا ہے، قرض چکا سکتا ہے، مگر کسی کے دل کی ٹوٹی ہوئی دنیا واپس ...

وقت

Image
 وقت کہتے ہیں کائنات میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے۔ سورج اپنی روشنی جس تیزی سے زمین اور دوسرے سیاروں تک پہنچاتا ہے، وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس وسیع کائنات کا ہر نظام ایک خاص ترتیب اور حساب کے ساتھ چل رہا ہے، جیسے کسی نے ہر لمحے کو ناپ تول کر اس کے حصے مقرر کر دیے ہوں۔ انسان نے ترقی کی لمبی منزلیں طے کر لی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، مشکل کام لمحوں میں ہو جاتے ہیں، مگر ایک حقیقت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی صدیوں پہلے تھی۔ انسان وقت کی رفتار کو نہ روک سکا ہے اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے موڑ سکا ہے۔ وقت ایک خاموش مسافر ہے جو کبھی رکتا نہیں۔ وہ کسی کے انتظار میں ٹھہرتا نہیں اور نہ ہی مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے۔ انسان چاہے جتنی کوشش کر لے، گزرے ہوئے لمحوں کو واپس نہیں لا سکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی لمحے میں کی گئی اپنی غلطی کو اس وقت غلطی نہیں سمجھتے۔ مگر جب وقت آگے بڑھ جاتا ہے اور شعور کی آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ لمحہ واپس آ جاتا اور ہم اسے بدل سکتے۔ مگر وقت کا دروازہ ایک بار بند ہو جائے تو پھر کبھی نہیں کھلتا۔...