Posts

Showing posts from September, 2025

کرکٹ(ہوا کا رُخ بدل گیا)

Image
       کرکٹ   ( ہوا کا رُخ  بدل گیا) کرکٹ صرف کھیل نہیں یہ تو      دلوں کی دھڑکن ہے۔ اور جب سامنے بھارت کی ٹیم ہو توصرف میچ نہیں رہتا ، بلکہ  کروڑوں جذبات کا امتحان بن جاتا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کا وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔ سب نے سانسیں روک لی تھیں، دعائیں لبوں پر تھیں، مگر انجام وہی نکلا جس کا کوئی چاہنے والا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ پاکستان ہار گیا، اور دل پھر سے بوجھل ہو گیا۔ویسے ہار برداشت کرنا بہت بھاری ہوتا ہے  میں خود کرکٹ کی دیوانی نہیں۔ روزمرہ کے دنوں میں مصروفیات اتنی ہیں کہ کھیل کے لیے وقت کہاں ملتا ہے؟ مگر جب ورلڈ کپ یا ایشیا کپ آتا ہے، اور جب پاکستان میدان میں اترتا ہے، تو دل ضد کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اس میچ کو دیکھوں۔ جیسے ایک لمحے کو ساری دنیا رک گئی ہو اور صرف گیارہ کھلاڑیوں کی قسمت پر نظریں جمی ہوں۔ یاد آتا ہے وہ دن، جب 1992 میں عمران خان نے ورلڈ کپ اٹھایا تھا۔ ہمارے گھر کے مرد حضرات خوشی سے اچھل پڑے تھے، جیسے کوئی بڑی دعا قبول ہو گئی ہو۔ وہ چیخیں، وہ قہقہے، وہ آنکھوں میں چمک  سب کچھ آج بھی دل پر نقش ہے...

مصروف ماؤں کے لیے پانچ سیلف کیئر ٹپس

Image
 ماؤں کے لیے پانچ سیلف کیئر ٹپس: ماں بننا ایک خوبصورت سفر ہے، مگر سچ کہا جائے تو یہ سفر تھکا دینے والا بھی ہوتا ہے۔ گھر کے کام سنبھالنے سے لے کر بچوں کی دیکھ بھال تک، اکثر مائیں خود کو سب سے آخر میں رکھ دیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ بے توجہی، تھکن، ذہنی دباؤ اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے سیلف کیئر کوئی عیاشی نہیں، بلکہ ماؤں کے لیے ایک ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سی خواتین خود کے لیے وقت نکالنے پر خود کو قصوروار سمجھتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ خودغرضی کر رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ تھکی ہوئی اور دباؤ کا شکار ماں اپنے گھر والوں کو بہترین ماحول نہیں دے سکتی۔ یاد رکھیں: جب آپ اپنا خیال رکھتی ہیں تو آپ دراصل اپنے پیاروں کا خیال ہی رکھ رہی ہوتی ہیں۔ یہاں پانچ آسان سیلف کیئر ٹپس ہیں جن پر ہر مصروف ماں بغیر کسی گِلٹ کے عمل کر سکتی ہے۔  1:روزانہ چند منٹ کا وقفہ لیں اگرچہ دن بھر کے کام ختم نہیں ہوتے، پھر بھی اپنے لیے 10 سے 15 منٹ نکالیں۔ خاموشی سے بیٹھیں، گہری سانسیں لیں اور کچھ دیر کچھ نہ کریں۔ یہ مختصر وقفے ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں اور آپ کو باقی دن کے لیے دوبارہ توانائی دیتے...

انوکھی باتیں(بی اماں اور ہم)

Image
انوکھی باتیں ( بی اماں اور ہم ) بچپن کی دنیا اپنی ہی نرالی تھی، اور اُس نرالی دنیا کا سب سے دلچسپ کردار تھیں ہماری بی اماں۔ بی اماں کی باتیں سن کر کبھی ڈر لگتا تھا، کبھی ہنسی آتی تھی اور کبھی ہم واقعی یقین کر لیتے تھے۔ آج جب وہ باتیں یاد آتیں ہیں تو لگتا ہے کہ یہ صرف باتیں نہیں تھیں بلکہ مزاح اور تربیت کا انوکھا امتزاج تھیں۔ اذان اور دوپٹہ: جیسے ہی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی، بی اماں فوراً آواز دیتیں: "بیٹا، سر پر دوپٹہ اوڑھ لو، ورنہ شیطان تمہارے سر پر بیٹھ جائے گا!"  اب دوپٹہ اوڑھنے والی بات تو سمجھ میں آتی مگر   شیطان 👿 ہمارے سر پر کیسے بیھٹے گا سر نہ ہوا کوئی کر سی ہو گئی   ہم ڈرے ڈرے بھی دوپٹہ اوڑھ لیتے تھے اور ساتھ سوچتے کہ آخر شیطان کے پاس کوئی اور کام کیوں نہیں ہے؟ نماز اور جانماز کا کونا: پھر جب نماز کے دوران اچانک دروازے کی گھنٹی بج جاتی یا فون کی بیل سنائی دیتی اور ہمیں جلدی سے نماز ختم کرنی پڑتی تو بی اماں فوراً ہدایت دیتیں: "بیٹا، جانماز کا کونا موڑ دینا، ورنہ شیطان نماز پڑھنے کھڑا ہو جائے گا!" اب یہ بات ہمارے لیے حیران کن تھی۔ ایک طرف بی اماں ہ...

چھپے ہوئے غم

Image
 چھپے   ہوئے غم  دیکھو، گھر نہ بس سکا! کتنا اچھا لڑکا تھا، خوبرو، اپنا گھر تھا، ساری سہولتیں بھی موجود تھیں۔ شادی کو ڈیڑھ سال ہی تو ہوئے تھے، مگر رشتہ ٹوٹ گیا۔ لوگ  میری دوست کے بارے میں   طرح طرح کی باتیں کرتے اور میں بھی یہی سوچتی کہ بظاہر اس کا شوہر بڑا خیال رکھنے والا لگتا تھا۔ ہمیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تناؤ ہے۔ پھر ناجانے ایسا کیا ہوا کہ اچانک سب کچھ ختم ہوگیا  میں یہی سوچ رہی تھی کہ ا چانک ڈوربیل بجی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہی دوست سامنے کھڑی تھی۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، میں اُسی کے بارے میں سوچ رہی تھی اور وہ سامنے آگئی، چہرے پر تھکن تھی، آنکھوں کے نیچے ہلکی سی سیاہی نمایاں تھی، لیکن مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا: "اندر آنے کو نہیں کہو گی؟" میں نے جلدی سے کہا: "ہاں ہاں، آؤ اندر۔" ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے آئی اور باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اچانک اس نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا: "تم بھی مجھے قصور وار سمجھتی ہو نا؟" میں چونک گئی میں نے پوچھا: "کس بات پر؟" وہ آہستہ سے...

اے آئی کا دور اور انسانی زندگی پر اثرات

Image
  🌍 اے آئی کا دور اور انسانی زندگی پر اثرات مصنوعی ذہانتی    Artificial Intelligence  AI نے دنیا کے ہر شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں سہولتیں پیدا کر رہی ہے وہیں انسانی رویوں، تعلیم اور معاشرت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ آج کے اس دور کو بلاشبہ   "اے آئی کا دور" کہا جا سکتا ہے۔ 1. تعلیم اور اخبارات کا بدلتا رجحان کبھی لوگ صبح کے وقت اخبار کے صفحات پلٹ کر دنیا کی خبریں پڑھتے تھے اور کتابوں میں گم ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ عادت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ موبائل فون اور اے آئی بیسڈ نیوز ایپس نے اخبارات اور کتابوں کی جگہ لے لی ہے۔ لوگ چند سیکنڈز میں تازہ خبر چاہتے ہیں اور ہر چیز اپنی اسکرین پر دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے معلومات حاصل کرنے کے طریقے کو آسان تو بنایا ہے مگر مطالعہ اور غور و فکر کی عادت کمزور کر دی ہے۔ 2. روزمرہ زندگی میں اے آئی کے فائدے اے آئی نے زندگی کو بے حد سہل بنا دیا ہے۔ علاج کے میدان میں ڈاکٹر مشینوں کی مدد سے زیادہ درست تشخیص کر رہے ہیں۔ تعلیم میں بچے آن لائن ٹولز سے گھر بیٹھے سیکھ رہے ہیں۔ کاروباری دنیا میں فیصلے تیز...

آخری پیغام

Image
    آخری پیغام میں عام طور پر میسج زیادہ پڑھتا نہیں اکثر نظر انداز ہی کر دیتا ہوں مگر اس میسج نے  مجھے چونکا دیا یہ میسج میرے بھائی جیسا دوست سمیر کا تھا جس کے ساتھ برسوں کی ہنسی، آنسو اور خواب جڑے ہوئے تھے اُس میسج میں لکھا تھا کہ" میں نے بہت کوششیں کیں مگر  اب تھک گیا ہو خود کو مضبوط کرتے کرتے  مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا ہے تم جب آ وں گے  تو میرا جنازہ میرے گھر والوں تک  پہنچا دینا میں وہیں ملوں گا جہاں ہم اپنے دکھ سکھ با ٹتے تھے" بس آگے کا مسیج  نہیں پڑھ  سکا اور بائیک نکالی اور اس جگہ کی طرف روڑا راستے بھر میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ میرا اتنا مضبوط برداشت کرنے والا دوست آج اتنا کمزور کیوں پڑھ گیا . جب میں پہنچا تو سمیر زمین پر گرا ہوا  چہرہ پیلا اور ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے   ہاتھ میں زہر کی خالی شیشی تھی  ایک پل کے لئے ایسا لگا کہ سب ختم ہوگیا مگر پھر میں نے حوصلہ کیا  اور اس کو اٹھایا اور جلدی سے ہسپتال  لے گیا خوش قسمتی سے وقت پر ڈاکٹرز   نے فوراً علاج شروع کیا ابھی وہ زندگی اور موت کے بیج ...

بارش کے بعد

Image
 بارش کے بعد بارش نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ گھنٹوں تک برسنے والی بارش نے ہر گلی، ہر سڑک اور ہر گھر کو ایک نئے رنگ میں ڈھال دیا۔ بادلوں کی گرج، ٹھنڈی ہوائیں اور بے شمار قطاروں میں پڑنے والی بوندیں کہیں سکون دیتی تھیں تو کہیں پریشانی کا سبب بھی بن رہی تھیں۔ مسلسل برسات نے جہاں زمین کو سیراب کیا، وہیں انسانوں کے لیے کئی مشکلات پیدا ہوئیں، اور شہر کا نظام چند ہی لمحوں میں بکھر کر رہ گیا۔ بارش کے دنوں کا نقصان: ان بارش کے دنوں میں ہزاروں گھروں کا سامان خراب ہوگیا۔ چھتوں سے ٹپکتے پانی نے لوگوں کے کمرے، فرنیچر اور ضروری اشیاء کو برباد کر دیا۔ نچلی بستیوں میں تو لوگوں کے کچن، کمرے، بیڈ اور پورا فرش تک پانی میں ڈوب گیا۔ کئی گھروں میں فرنیچر پھول کر خراب ہو گیا، برقی آلات میں شارٹ سرکٹ ہو گیا، اور بچے ہوئے برتن، کپڑے، بستر سب کچھ پانی میں بھیگ کر بےکار ہو گیا۔ "یقین مانیں، اونچے اور اچھے گھروں میں بھی ہم نے دیکھا کہ پانی گھٹنوں تک بھر آیا۔ وہ مکان جو ہمیشہ محفوظ سمجھے جاتے تھے، آج بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔ دیواروں میں نمی، فرش میں پھسلن اور ہر طرف گندگی لوگوں کے لیے یہ مناظ...

خاموشی

Image
خاموشی ہوا کچھ یوں کہ تین دن سے ماسی کام پر نہیں آئی تھی اور میں دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی۔ جاب کے بعد گھر کے کام کا بوجھ میرے اعصاب پر سوار تھا، اس لیے بار بار سوچتی کہ آخر وہ کس بات کی تنخواہ لیتی ہے جب اتنی چھٹیاں کرتی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے مزدور اور محنت کش ہر روز نظر آتے ہیں جو غیروں کی آسائش کے لیے اپنی جان  گھُلا ر ہے ہوتے ہیں۔ وہ دھوپ اور بھوک سہہ کر بھی محنت کرتے ہیں تاکہ شام کو اپنے بچوں کے سامنے ایک روٹی رکھ سکیں۔ انہیں تنخواہ تو ملتی ہے، مگر یہ صرف خون، پسینے کی ہی نہیں بلکہ ان کی مجبوریوں کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کئی دفعہ یہ ملازمین خود کفالت کے باوجود اپنے گھروں میں سکون کے بجائے مزید زخم سہتے ہیں۔ یہ زخم دنیا کی نظروں سے تو چھُپ جاتے ہیں، مگر اُن کی خاموشی سب کچھ چیخ چیخ کر بتا دیتی ہے۔   چوتھے  دن جب ماسی   دروازے پر کھڑی تھی تو میرا ارادہ یہ تھا کہ اسے خوب ڈانٹوں، مگر جیسے ہی اس نے سلام کیا، اس کی جھکی نظریں اور لرزتی آواز مجھے چونکا گئی ۔ وہ بار بار چہرے کو  دوپٹے سے  چھپا رہی تھی جیسے کوئی  راز چھپا  رہی ...

بارش: خوشی یا خوف؟

Image
  بارش: خوشی یا خوف؟ بچپن کی بارش خوشبو، سکون اور مسرت کی علامت تھی۔ صحنوں میں قہقہے گونجتے، چائے کے ساتھ  پکوڑوں کا انتظام ہوتا ،  بچے بھیگنے کی ضد کرتے اور مٹی کی خوشبو دل کو راحت دیتی۔ اُس وقت کی  بارش دعا کی قبولیت  اور  خوشی کا احساس دلاتی  تھی۔ مگر وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ وہی بادل جو خوشی کی نوید تھے، اب انجانی گھبراہٹ لاتے ہیں۔ وہی بوندیں جو زندگی سنوارتی تھیں، آج گھروں کی بنیادیں ہلانے لگتی ہیں۔ پہلے بارش کے برسنے کی دعائیں کی جاتی تھیں، اب اس کے تھمنے کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ حالیہ موسلا دھار بارشوں نے ایک بار پھر نظام کی حقیقت آشکار کر دی۔ بڑے بڑے گھروں کے آنگن جھیلوں میں بدل گئے، گلیاں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ قیمتی کتابیں، فرنیچر اور برقی سامان پانی میں بہہ گیا۔ کاروبار اور مزدور طبقے کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ترقی کے نعروں کی حقیقت چند گھنٹوں کی بارش نے عیاں کر دی. بارش اب بھی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی اور کمزور ڈھانچے نے اسے خوف میں بدل دیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے شہروں اور ماحول کو نہ سنبھالا تو آنے والی نسلیں بارش کو خوشی نہیں، صرف...

مصلحت

Image
مصلحت   زندگی بظاہر ہر نعمت سے آراستہ  تھی۔  سائمہ کے گرد محبت کا حصار تھا،دنیا کی تمام آسائشوں  سے اس کا گھر بھرا ہوا تھا  اور اس کے شوہر کی شفقت اس کے وجود کو ڈھانپے رہتی تھی۔ باہر والوں کی  آنکھوں کو یہ منظر مکمل دکھائی دیتا، جیسے کسی تصویر میں خوشی کے تمام رنگ بھر دیے گئے ہوں۔ مگر ان رنگوں کے بیچوں بیچ ایک ایسا خلا تھا جو کسی صورت پُر ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ایک ادھورا پن، جو ہر لمحہ اس کے دل کو اپنی یاد دہانی کراتا رہتا۔ دس برس بیت گئے اور امید کے دیے جلتے بجھتے رہے۔ سائمہ نے ہر در کھٹکھٹایا  ڈاکٹروں کی فائلوں سے لے کر حکیموں کی جڑی بوٹیوں تک، بزرگوں کی دعاؤں سے لے کر مزاروں کی گرد تک۔ مگر ہر بار جواب وہی آیا  گویا جیسے تقدیر میں گود کی محرومی کا فیصلہ لکھ  دیا ہو ۔   لوگ اپنے اپنے مشورے لاتے۔  کوئی تعویذ، تو کوئی جمعرات کی حاضری کا ذکر کرتا۔ لیکن ان باتوں کے تیر اب اس کے دل کو کاٹنے لگے تھے۔ وہ ان سب راستوں پر چل کر دیکھ چکی تھی۔ اور اب یہ باتیں اس کی روح کو اور گہرا زخم دیتی  لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کے یہ بےس...

چھوٹے ہاتھ بڑے بوجھ

Image
چھوٹے ہاتھ بڑے بوجھ  ( کچھ بوجھ ہاتھوں پر نہیں دل پر ہوتے ہیں اور وہ بہت بھاری ہوتے ہیں  ) ناصر آج بھی حسبِ معمول دفتر سے تھکا ہارا سیدھا اُس چھوٹے سے ہوٹل پر آ نکلا۔ یہ ہوٹل شہر کے کسی کونے میں چھپی ایک پرسکون پناہ گاہ جیسا تھا، جہاں کی خوشبودار اور ذائقے سے بھرپور چائے ہر آنے والے کے دل کو چھو لیتی تھی۔ ناصر کا معمول تھا کہ دن بھر کی مشقت اور ذہنی الجھنوں کے بعد وہ یہیں چلا آتا۔ ہوٹل کی ہلکی روشنی، برتنوں کی کھنک اور چائے کے اُبلتے قلقلاتے ہوئے برتن گویا اُس کے لئے سکون کا مرہم بن جاتے۔ وہ ہمیشہ اپنی مخصوص میز پر جا بیٹھتا، موبائل ایک طرف رکھ دیتا اور لمحہ بھر کے لیے خود کو دنیا کے شور سے کاٹ لیتا مگر آج کا دن  عام دنوں سے مختلف تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ایک چھوٹا سا بچہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ گیارہ برس کا معصوم، جس کے تن پر پرانے،  جگہ جگہ پیوند لگے کپڑے تھے اور پاؤں میں گھسی ہوئی چپل۔    مگر آنکھوں  میں عجیب سی معصومیت لیے ننھے ہاتھوں میں ٹرے تھامے وہ ادب سے بولا     " صاحب، یہ رہی آپ کی گرم چائے۔ " ناصر نے...