Posts

Showing posts from October, 2025

عمرواؤ جان ادا(ایک داستان )

Image
عمرواؤ جان ادا (ایک سچی داستان ) آج میں جس عورت کی تحریر قلم بند کر رہی ہوں، وہ ہے عمرواؤ جان ادا ایک ایسی ہستی جس کا نام سن کر دل میں ایک انوکھی کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، بلکہ ایک سچی داستان ہے، جس میں درد، علم، حسن اور قسمت کا امتزاج ہے۔ عمرواؤ جان ادا کا اصل نام تو معلوم نہیں اختلاف پایا جاتا ہے مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ فیض آباد کے ایک شریف اور معزز گھرانے میں پیدا ہوئی۔ لوگوں کے درمیان آج تک اس کے بارے میں مختلف روایات مشہور ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اسے اس کے والد کے دشمنوں نے انتقام میں اغوا کیا، جبکہ کچھ کے مطابق یہ دوستوں کی سازش تھی مگر یہ سچ ہے کہ اسے اغواء کیا گیا۔ وہ رات، جب ماں اپنی گود خالی پا کر دیوانہ وار دروازے دروازے بھٹکتی رہی، اس کے دل پر جو قیامت گزری، وہ شاید لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ چند دن بعد وہی معصوم بچی لکھنؤ کے ایک کوٹھے پر بیچ دی گئی۔ وہاں ایک تجربہ کار مگر باوقار عورت، خانم جان نے اس کی پرورش کی ذمہ داری لی، اور اس کا نام رکھا عمرواؤ جان ادا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب  اس  بچی کی تقدیر کا رخ بدل دیا۔ خانم جان نے اسے عام طوائف نہیں...

صبر

Image
 صبر  وہ موٹی سی ساولئ سی  اور  درمیانے قد کی عورت    ہم اکثر کچھ  لوگوں کی قدر اُس وقت کرتے ہیں جب وہ ہمارے پاس نہیں رہتے۔ محبت، صبر اور خلوص کو زندگی میں ہی پہچاننا سیکھنا چاہیے، کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ میری ازدواجی زندگی اسی ہی موٹی سی ساولئ سی عورت سے شروع ہوتی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ابا جان بہت سخت مزاج تھے۔ ہم چار بھائی تھے اور چاروں کی شادی ابا جان کی مرضی سے ہوئی۔ ہم اپنے ابا کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔  ہم، کیا ہماری اماں جان، سب ان سے ڈرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ایک فاصلے پر رہتےاور آج دیکھو، لڑکے لڑکیاں آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہتے ہیں کہ ہمیں اسی لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ خیر، میں بات کر رہا تھا اُس موٹی سی، ساؤلی سی اور درمیانے قد کی عورت کی۔ پھر ابا جان نے حکم دیا کہ اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ ہم نے اپنے تمام ارمانوں کا گلا گھونٹ کر اس موٹی سی، ساؤلی سی اور درمیانے قد کی لڑکی سے شادی کر لی۔ ابا جان اس فیصلے سے بہت خوش تھے، اور ہم دل ہی دل میں جل رہے تھے۔ سوچ رہے تھے کہ جب باقی تین بھائیوں نے اپنی شادیوں کے وقت کچھ ن...

خوبصورتی کا جنون

Image
خوبصورتی کا جنون "(چہرے کی چمک تو وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہے، مگر روح کی روشنی کبھی بجھتی نہیں) "  اللہ کی تخلیقات میں عورت ایک حسین شاہکار ہے خوبصورتی، نزاکت، احساس سب کچھ اس کے وجود کا حصہ ہے۔ مگر وقت کی چال سے کوئی نہیں بچ سکا۔ ایک دن آتا ہے جب چہرے پر ہلکی لکیریں اُبھرتی ہیں، بالوں میں سفیدی جھلکنے لگتی ہے اور مسکراہٹ کےکناروں پر وقت کے نشان دکھائی دیتے ہیں۔ ہر زمانے کی عورت نے اپنی جوانی کو تھامنے کی کوشش کی ہے۔ پرانے وقتوں میں وہ گلاب کے عرق، بیسن، دودھ اور صندل سے اپنے چہرے کو چمکاتی تھی۔ مگر آج کے جدید دور میں جہاں ہر چیز لمحوں میں بدل رہی ہے، وہاں خوبصورتی کا معیار بھی بدل گیا ہے۔ آج کے دور میں، چہرے کی جھریاں مٹانے اور جلد کو کھنچوانے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ خواتین اپنے چہروں میں نئی جان ڈالنے کے لیے سوئیوں کے لمس سے بھی نہیں گھبراتیں۔ کل تک یہ صرف فلمی اداکاراؤں تک محدود تھا، مگر اب تو عام عورت بھی چاہتی ہے کہ اُس کا چہرہ سدا جوان نظر آئے  اب تو حد یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے خوبصورتی کو ایک دوڑ بنا دیا ہے  جہاں نظر ڈالو، سب کے سب جوان بننے کی کوشش میں ہیں۔ فیس بک س...

خوابوں کی قیمت

Image
  خوابوں کی قیمت  صبح کے وقت امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی کی خوشبو سے آنکھ کھلنا میری زندگی کی سب سے خوبصورت عادت تھی۔  امی کی آواز کانوں میں گونجتی، "علی، اُٹھ جاؤ بیٹا،   کالج نہیں جانا آج" ؟ میں میز پر آ کر بیٹھتا اور گرم کافی کے گھونٹ کے ساتھ دن کی شروعات کرتا۔  مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمول میری زندگی کی سب سے بڑی کمی بن جائے گا۔ اب میں نیویارک یونیورسٹی میں بزنس اسٹڈیز کا طالبِ علم ہوں۔  یہ شہر خوبصورت ہے، روشن ہے، مگر سرد بھی ہے ایسا سرد کہ کبھی کبھی دل تک جم جاتا ہے۔  اب نہ امی کی آواز ہے، نہ ان کے ہاتھ کی کافی  ۔۔۔۔۔۔ اب صبح خود ہی آنکھ کھلتی ہے، خود ہی پانی گرم کرنا پڑتا ہے، خود ہی کپڑے دھونے ہوتے ہیں۔  کبھی گھر کے کاموں میں وقت نکل جاتا ہے، اور کبھی بس کے پیچھے بھاگتے ہوئے سانس پھول جاتی ہے۔ یہاں ہر دن ایک دوڑ ہے  اور جو پیچھے رہ جائے، وہ بھول جاتا ہے کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں۔ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے کر رہتا ہوں۔  چھوٹا سا کمرہ، دو بیڈ، ایک چھوٹی کھڑکی اور ایک الیکٹر...

چائےکی پیالی 🍵

Image
 ☕ چائے کی پیالی: (چائے کے پیچھے کی کہانی ) آج ہمارے گھر چائے کی پتی ختم ہوگئی تھی۔ اصل میں میں کل بازار گیا تھا لیکن پتی لانا بھول گیا ۔ صبح ہوتے ہی میں نے ہی  کہا “چائے کہاں ہے؟”  میں نے ہی پورے گھر پر   ہنگامہ  مچادیا 😅۔ بیگم صاحبہ نے  غصے سے کہا: “خود ہی تو پتی لانا بھول گئے اب ہم پر کیوں غصہ کرتے ہو ؟؟  میں تو اپنا ہی منہ لے کر بیٹھ گیا اور چائے نہ ملنے پر میری ایسی حالت تھی جیسے کسی نے میری آکسیجن مشین بند کر دی ہو!”میں نے سوچا واقعی... آخر یہ چائے ہے کیا بلا؟ اور آخر اسے بنایا کس نے تھا؟نہ کوئی اس کو ایجاد کرتا اور نہ آج میری یہ حالت ہوتی۔   بس پھر کیا تھا  چائے کی پتی کے بغیر ناشتے کا مزہ بھی اڑن چھو ہو گیا، اور میں نے تحقیقات شروع کر دی۔ اور جو کچھ معلوم ہوا، وہ خود ایک دلچسپ کہانی نکلی۔ 🌱 چائے کی ابتدا کہاں سےہوئی؟   چائے کی کہانی تقریباً پانچ ہزار سال پرانی چین سے شروع ہوتی ہے۔  کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ تھا شین نونگ جو ہمیشہ صاف پانی ابال کر پیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ باغ میں بیٹھا پانی ابال رہا تھا کہ درخت کے چ...

ایک فرشتہ جیسا انسان

Image
 🌿 ایک فرشتہ جیسا انسان  (ماسٹر جی کے نام) آج صبح جب میں اپنے دفتر جانے کے لیے بیدار ہوا تو دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ رات بھر نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ آج میری  ایک اہم میٹنگ تھی، جس کے لیے میں نے کئی دن سے تیاری کی تھی۔ میں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے، فائلیں سمیٹیں اور ناشتا کیا۔ اتنے میں فون بجا۔ نمبر پی۔ٹی۔سی۔ایل کا تھا۔ میں نے سوچا، شاید کوئی رونگ  نمبر ہے، مگر جانے کیوں دل نے کہا  "اُٹھا لو۔" فون میرے گاؤں سے ایک پرانے دوست کا تھا۔ اُس کی آواز بھاری اور لرزتی ہوئی تھی۔ میں نے بس اتنا ہی سنا کہ اس کے بعد الفاظ میرے کانوں میں گونج بن گئے  "ماسٹر جی نہیں رہے..." ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک گیا۔ دل جیسے ساکت ہو گیا۔ میں نے فائل نیچے پھینکی اور سب کچھ بھول کر گاؤں کے لیے نکل پڑا گاؤں پہنچا تو وہی پرانا محلہ، وہی درخت، وہی راستے… مگر آج ان سب کے درمیان ایک خاموشی تھی۔ وہی صحن جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں، اب وہاں جنازہ رکھا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر دیکھا وہی چہرہ، وہی مسکراہٹ، مگر اب ایک ابدی سکون کے ساتھ۔ یہ میرے ماسٹر جی تھے۔ میں اُن کے پاس بیٹھ ...

امید کا سفر

Image
امید کا سفر (محنت کش خواتین کے نام ) یہ کہانی اُن خواتین کے نام ہے جو روز سڑکوں، بس اسٹاپوں اور کارخانوں میں اپنی عزت، محنت اور خودداری کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑتی ہیں۔ بس اسٹاپ پر ہلکی دھوپ تھی۔ منہا اپنی دوست کے ساتھ کھڑی تھی، جیسے ہر صبح کھڑی ہوتی تھی۔ بس کے شور، ٹریفک کے دھویں اور ہارنوں کے درمیان زندگی کا ایک اور دن شروع ہو رہا تھا۔ اس کا روز یہی معمول تھا۔ بس آتی، ہجوم چڑھتا، وہ دونوں کسی طرح اپنی نشست سنبھال لیتیں۔ زندگی بھی جیسے ایک مسلسل بس کا سفر بن چکی تھی: شور، پسینہ، تھکن، اور تھوڑا سا شکر اس بات کا کہ کم از کم ایک ہی بس سے وہ اپنی منزل تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر ہر دن ایک امتحان تھا۔ خواتین کی مخصوص نشستوں پر مرد بے فکری سے بیٹھ جاتے، بعض اوقات خواتین کی سائٹ سے با ہر نکل جاتے ان کی نظروں میں عجیب سا غرور ہوتا جیسے عورت کا حق ان کے لیے کوئی معنی نہ رکھتا ہو۔ منہا ہر بار خاموش رہتی، مگر دل کے اندر کچھ ٹوٹتا رہتا۔ ایک دن اس کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے ڈرائیور سے شکوہ کیا،اس نے کہا: "انہیں اس طرف سے گزرنے نہ دیا کریں" ڈرائیور نے پان بھری ہنسی کے ساتھ کچھ کہا  لہجہ اتنا بھدا...

پردے کے پیچھے

Image
 پردے کے پیچھے  "کبھی کبھی رشتے ٹوٹتے نہیں، مگر دل میں ایسا وہم جڑ پکڑ لیتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔" رات کے اندھیرے میں وہ دیر تک جاگتی رہی۔ شوہر کے فون پر کسی کا میسج جھلک کر غائب ہوا تھا۔ وہ مسکراہٹ، جو برسوں سے اس کے چہرے پر نہیں دیکھی تھی، اچانک اسکرین کی روشنی میں چمک اٹھی۔ بیوی کے دل میں جیسے خنجر سا اتر گیا۔ "کسی اور کے لیے…؟" دل نے کانوں میں سرگوشی کی۔ اگلی صبح  اس نے خود پر غور کیا کہ اس کے کپڑے ڈھیلے ڈھالے تھے، چہرے پر رونق ماند پڑ گئی تھی اور بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلکنے لگی تھی۔ ایک پل کو اس نے اپنے آپ سے سوال کیا: کیا یہ وہی لڑکی ہے جس پر کبھی اس کا شوہر فدا تھا؟ یادیں کسی قافلے کی طرح ذہن پر چھا گئیں۔ شادی کے دن، محبت بھرے وعدے، ایک دوسرے کے لیے جینے مرنے کی قسمیں۔  وہ وقت جب سب نے کہا تھا: " کتنے خوبصورت لگتے ہیں دونوں… یہ محبت ہمیشہ قائم رہے گی۔"  لیکن وقت بڑا ظالم ہوتا ہے۔ دس سال بعد وہ لڑکی ماں اور بیوی تو تھی مگر بچوں کی پرورش، گھر کا بوجھ، روزمرہ کے مسائل ان سب میں اس نے اپنے آپ کو بھلا دیا تھا ۔جب اس نے خود کو آئ...