پردیس کی بھاری رات
پردیس کی بھاری رات پردیس صرف امنگوں اور خوابوں کا ہی نہیں بلکہ یہ تو دل کی حسرتوں اور اپنوں سے دوری کا دوسرا نام ہے۔ کبھی مسکان میں چھپے آنسو، کبھی رات کے سناٹے میں گونجتی تنہائی۔ یہ آپ بیتی ایک ایسے دل کی ہے ، جو پردیس کی رنگینیوں میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ اپنے گھر والوں کے لئے دھڑکتا ہے۔ لندن کے ایک خاموش کمرے میں، بارش کی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں، اور عائشہ کا دل اندر ہی اندر بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ آج پاکستان میں اس کی چھوٹی بہن کی شادی تھی. یہ وہ لمحہ جو اس کو اپنی بہن کے ساتھ جینا تھا مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی بہن کے قریب نہیں، بلکہ ہزاروں میل دور ایک اجنبی سرزمین پر بیٹھی تھی۔ ویڈیو کال پر سب کچھ سامنے تھا۔ ماں کے تھکے ہوئے ہاتھ، جو پھر بھی مسکراتے ہوئے بیٹی کو تیار کر رہے تھے۔ باپ کی آنکھوں میں آنسوں کی چمک، جو مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اندر ہی اندر بیٹی کی جدائی پر نڈھال تھے۔ نئی نویلی دلہن کی چمکتی صورت، جو اپنی بڑی بہن کی غیر موجودگی کے دکھ کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اور پھر چھوٹی بہن کے وہ الفاظ ؛ ” باجی ، کاش ...