Posts

Showing posts from August, 2025

پردیس کی بھاری رات

Image
پردیس کی بھاری رات     پردیس صرف امنگوں اور خوابوں کا ہی نہیں بلکہ یہ تو دل کی حسرتوں اور اپنوں سے دوری   کا دوسرا نام ہے۔ کبھی مسکان میں چھپے آنسو، کبھی رات کے سناٹے میں گونجتی تنہائی۔ یہ آپ بیتی ایک ایسے دل کی ہے ، جو پردیس کی رنگینیوں میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ اپنے گھر والوں کے لئے   دھڑکتا ہے۔ لندن کے ایک خاموش کمرے میں، بارش کی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں، اور عائشہ کا دل اندر ہی اندر بوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ آج پاکستان میں اس کی چھوٹی بہن کی شادی تھی. یہ وہ لمحہ جو اس کو اپنی بہن کے ساتھ جینا تھا  مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی بہن کے قریب نہیں، بلکہ ہزاروں میل دور ایک اجنبی سرزمین پر بیٹھی تھی۔ ویڈیو کال پر سب کچھ سامنے تھا۔ ماں کے تھکے ہوئے ہاتھ، جو پھر بھی مسکراتے ہوئے بیٹی کو تیار کر رہے تھے۔ باپ کی آنکھوں میں آنسوں کی چمک، جو مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اندر ہی اندر بیٹی کی جدائی پر نڈھال تھے۔ نئی نویلی دلہن کی چمکتی صورت، جو اپنی بڑی بہن کی غیر موجودگی کے دکھ کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اور پھر چھوٹی بہن کے وہ الفاظ ؛ ” باجی ، کاش ...

ب سے بیٹی

Image
ب سےبیٹی تحریر: ندا ہاشمی پورے ہال نما کمرے میں دوائیوں کی ملی جلی خوشبو بسی ہوئی تھی، کہیں ننھے نونہالوں کی رونے کی آوازیں گونج رہی  تھیں، کہیں نرسوں کے قدموں کی چاپ،  کہیں ڈاکٹرز کی مدھم سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں  اور میری گود میں ایک ننھی سی  پری تھی جس کو دنیا میں  ابھی ایک دن ہی ہوا تھا۔ میں ابھی اپنی ننھی بیٹی کی نرمی اور خوشبو محسوس کر ہی رہی تھی کہ اچانک پردے کے اس پار ایک اسٹر یچر اندر آیا  کمزور سی عورت  اس پر لیٹی تھی، اس کی دبی دبی سسکیوں کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ میں عام طور پر کسی کی باتیں کان لگا کر نہیں سنتی مگر اس عورت کی رونے کی آواز نے مجھے بے چین کر دیا۔ اس کے رونے میں برسوں کا درد تھا۔ نرس کی تسلی بھی اس کی سسکیوں کو کم نہ کر سکی۔ مجھے بہت تشویش ہوئی۔ جب میں نے غور سے سنا تو وہ عورت کچھ بول رہی تھی، اس کی آواز میں اس قدر خوف تھا کہ منہ سے نکلنے والا ہر لفظ ڈر سے لرز رہا تھا۔نہ جانے کون سا خوف اس پر طاری تھا۔جب میں نے غور سے سنا تب مجھے سمجھ آیا  اس نے نرس سے کہا کہ  " یہ میری تیسری بیٹی ہے، میری ساس اور شوہر کو...

یادوں کے دریچے

Image
یادوں کے دریچے  مغرب کی نماز ختم کر کے گل بانو معمول کے مطابق اپنی تسبیح پڑھ رہی تھی۔ آج اُسے گھر کتنا خالی خالی محسوس ہو رہا تھا۔ اتنے برسوں میں کبھی ایسا خیال نہ آیا مگر نہ جانے کیوں آج تنہائی نے اُس کے دل کو گھیرا ہوا تھا اور یادوں کے دریچے اُس کے سامنے کھُلتے جا رہے تھے۔ خوشیاں، خواب اور جذبات وہ پہلے ہی دفنا چکی تھی، اور اُس کی زندگی اجڑانے کے لیے بس ایک حادثہ ہی کافی تھا۔ اُس دن کی چبھن وہ آج بھی اپنے دل میں محسوس کرتی۔ وہ دن کیسے بھول سکتی تھی جب ایک جھٹکے میں اس کا سب کچھ چھن گیا۔ وہ صرف تیس سال کی تھی جب ایک حادثے میں اُس کا ہمسفر ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ اب اُس کو اپنے چار کم سن بچوں کے ساتھ پہاڑ جیسی زندگی گزارنی تھی۔ پہلے پہل تو گاوں والے آتے جاتے رہتے، دلاسہ دیتے اور کچھ مالی مدد بھی کر جاتے۔ مگر کچھ عرصے کے بعد اُن کے قدموں کی چاپ مدھم پڑ گئی۔ پھر اُسے محسوس ہوا کہ اب اُسے اکیلے یہ سارا بوجھ اٹھانا تھا۔ وہ دن میں گاؤں کی عورتوں کے کپڑے سیتی، رات کو بچوں کو پڑھاتی اور صبح و شام گھر کے کام کاج بھی سنبھالتی۔ قسمت کے ستم نے اُس کے ناتواں کندھوں پر ایسا بوج...

آو چراغ جلائیں

Image
آؤ چراغ جلائیں!    تحریر: ندا ہاشمی   گُپ اندھیرے میں ننھی سی روشنی کی کرن زندگی کی امید بن جاتی ہے ، جو تاریک راہوں کو روشن اور منزل سے روشناس کروا دیتی ہے۔78 سال قبل پاکستان بھی ایک ننھے چراغ کی مانند ہندستان کے مسلمانوں کی منزل کا نشان بن گیا تھا۔ آج ہم اس آزادی کا 78 واں جشن منا رہے ہیں اور یقین مانئے یہ آزادی ہمیں یوں ہی نہیں مل گئی ہے۔ اس کے پیچھے لاکھوں قربانیاں، سالوں کی جد و جہد اور شہداء کے دکھ چھپے ہیں۔ میں جب کبھی مزارِ قائد پر گئی تو مجھے یوں لگا کہ یہ پتھر کی عمارت نہیں، بلکہ قربانیوں کی طویل داستان ہے۔ اس کی بنیادوں میں شہداء کا خون اور سنگِ مرمر میں ہجرت کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ یہ مقام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کا حصول صرف خوشی اور جشن کا باعث نہیں، بلکہ بے پناہ محنت، صبر اور قربانی کا نتیجہ ہے۔ آج جوں ہی 14 اگست کا دن قریب آتا ہے تو بچے بازاروں اور گلیوں میں باجوں سے شور مچاتے ، پٹاخے پھاڑتے اور شور و غل سے سارا زمانہ اپنے سروں پر اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کیا ایسے ہی آزادی منائی جاتی ہے ، کیا یہ ہی وہ جشنِ آزادی ہے ...

اخبار کا پہلا صفحہ

Image
اخبار کا پہلا صفحہ روز اُسے صبح اُٹھنے کی جلدی لگی رہتی۔ لوگ صبح صبح اپنے روزگار کی تلاش میں گھروں سے نکلتے، کوئی مزدور ہاتھ میں اوزار لیے، کوئی ملازم فائلوں کا بیگ تھامے، اور کوئی گلی کے کونے پر پھل والے اپنے انگور، امرود اور رنگ برنگے آم سلیقے سے سجا کر گاہک کا انتظار کرتے نظر آتے۔ ہر چہرے پر ایک عجلت، ایک مقصد اور ایک زندگی کی لہر صاف نظر آتی تھی۔ مگر آج سماں کچھ اور تھا۔ ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری تھا، گلیوں میں کیچڑ، فٹ پاتھ پر بھاگتے لوگ، اور چائے کے ڈھابوں پر دھویں کے مرغولے۔ بھیگی ہوا کے جھونکے لوگوں کے بالوں کو بے ترتیب کر رہے تھے، اور ہر کسی کے قدم کی رفتار تیز تھی۔ اسی ماحول میں صحافی زویا اپنا بیگ سنبھالے، ہاتھ میں نوٹ بک لیے ایک گمنام گلی میں داخل ہوئی۔ ہر قدم پر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، جیسے ہر لمحہ اسے کچھ بڑا دیکھنے والا ہے۔ آج اس کا دل تیز دھڑک رہا تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے وہ ایک ایسی خبر کے پیچھے تھی جو سب کچھ بدل سکتی تھی۔ ایک فیکٹری میں ہونے والے غیر قانونی کام، مزدوروں کا استحصال، اور خاموشی کے پیچھے چھپا خوف۔ وہ جانتی تھی کہ یہ خبر کئی لوگوں کی زندگی بدل ...

بیڈ نمبر 211

Image
بیڈ   نمبر   211 کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن میرا نام نہیں، میرا نمبر میری پہچان بن جائے گا۔ جسم کمزور ہے، مگر احساس ابھی زندہ ہے ۔ کبھی خوف آتا ہے کہ اگلی سانس میری ہوگی یا نہیں، کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی آ کر بس ایک بار کہہ دے، ،"آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔" دل کے اندر عجیب سا سکوت ہے، جیسے زندگی آہستہ آہستہ مجھ سے رخصت لے رہی ہو۔ میں بستر پر لیٹی، سوچوں میں گم ہوں۔ یہ کمرہ کتنا خاموش ہے۔ صرف آکسیجن مشین کی ہلکی ہلکی آواز، اور دیوار پر لگی گھڑی کی مسلسل ٹک ٹک۔ بس یہی باقی رہ گیا ہے۔ کبھی کبھار نرس یا وارڈ بوائے مجھے دیکھنے آ جاتے ہیں دوائیں دیتے ہیں درجہ حرارت نوٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں    ان کے لیے میں ایک مریضہ ہوں… بیڈ نمبر 211۔ مگر انھیں کیا معلوم کہ میں ایک مکمل زندگی تھی؟ انھیں صرف یہ نظر آتا ہے کہ میراجسم بےجان ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہی جسم ہر وقت اِدھر اُدھر دوڑا کرتا تھا۔ میں پورے گھر میں چہکتی پھرتی  ۔ میرے ہاتھوں سے پکے کھانوں کی خوشبو مہکتی تھی۔ میں کسی کی بیٹی تھی، بیوی تھی، ماں تھی۔ میں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں پیار بانٹا، چھوٹے چھوٹے ...

پھر آنکھیں بھیگ گئیں

Image
پھر آنکھیں بھیگ گئیں  آج پھر میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ ظاہراً یہ ایک عام سا کاغذ ہے، مگر حقیقت میں یہ میری ساری دنیا ہے۔ اس پر کچھ یوں تحریر ہے: " بیٹا" تم کیسے ہو؟؟؟ ویسے تو تم مہینے میں ایک بار ہی فون کرتے ہو، مگر وقت بہت محدود ہوتا ہے۔ میں تو تم سے گھنٹوں باتیں کرنا چاہتی ہوں… چاہتی ہوں کہ بس تم مجھ سے باتیں ہی کرتے رہو۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر تم پاس ہوتے تو میں اپنے دل کی ہر بات تم سے کہہ سکتی۔ لیکن تم دور ہو، اور فاصلے کا احساس ہر لمحہ دل پر بھاری پڑتا ہے۔ جب تمہاری بیٹی پیدا ہوئی، تو دیکھو، میں اُسے دیکھ بھی نہ سکی۔ تمہیں کیا معلوم، کتنا ارمان تھا کہ پوتی کو گود میں لوں، اُسے سُلاؤں۔ یاد ہے، ایک بار تم بہو اور پوتے کو پاکستان لائے تھے؟ اُس وقت تم کتنے کمزور ہوگئے تھے۔ پتا نہیں، تم اپنے کھانے کا خیال بھی رکھتے ہو یا نہیں۔ ہر لمحہ تمہارے خیال میں گزرتا ہے، اور یہ دوری کبھی کبھی دل کو بہت ستاتی ہے۔ آج احساس ہوا… دیکھو، کتنا مشکل ہے نا تمہارا آنا؟ تمہارے تایا کا بھی انتقال ہو گیا تھا، اور تم نہیں آ سکے۔ چھٹیاں نہیں مل رہی تھیں نا؟ اُس دن مجھے بہت افسوس ہوا تھا۔ دیکھو، کوئی...

قلم ہی میری زبان

Image
   قلم ہی میری زبان جہاں تک میں خود کو جانتی ہوں، مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا ہے کہ میں زیادہ اچھا بول نہیں پاتی۔ جو بات کہنا چاہتی ہوں، وہ لفظ بن کر منہ تک تو آتے ہیں، مگر جیسے ہی انہیں ادا کرنے کا وقت آتا ہے، وہ دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ کیفیت اکثر میرے دل کو بے چین کر دیتی ہے۔ دل میں کئی خیالات جمع ہوتے ہیں، کئی جذبات دبے رہ جاتے ہیں، اور میں صرف اپنے اندر ان کے ساتھ الجھتی رہتی ہوں۔ کتنی باتیں ہیں جو دل میں اُترتی ہیں، سوچتی ہوں کہ کہہ دوں، مگر جب موقع آتا ہے، تو الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ خاموشی کبھی کبھی درد بن جاتی ہے، کبھی سکون، مگر اکثر بے بسی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ بولنا کافی نہیں، دل کی باتوں کو صحیح انداز میں پہنچانا سب سے بڑا کام ہے۔ بس، پھر میں نے قلم کو ہی اپنی زبان بنا لیا۔ شروع میں لکھنا صرف میرے لیے تھا، جیسے خود کو ہر حالت کے لیے تیار کرنا۔ ہر لفظ میری تسلی، اور ہر جملہ میری ہمت بن گیا۔ قلم میرے اندر چھپے جذبات کی رہائی بن گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ کاغذ پر لکھنا ایک طرح کی آزادی ہے، جہاں میں بغیر خوف کے اپنے دل کی باتیں بیان کر سکتی ہوں۔ پھر کچھ ی...

انوکھے ماں باپ

Image
انوکھے ماں باپ میری   شادی کو ابھی تین سال ہی ہوئے  تھے کہ میرے ہاتھ میں ایک ننھی سی جان آگئی ۔یہ میرا دوسرا بیٹا تھا   اس سے پہلے ایک بیٹا اور اس کے بعد ایک بیٹی بھی پیدا    ہوئی ، بڑے بیٹے نے اپنے وقت پر چلنا اور بولنا شروع کر دیا تھا ، جب وہ توتلی زبان میں بولتا، سوالات کرتا تو اس کی معصوم اداؤں سے گھر   جگمگا اٹھتا ،سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا   لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی میرے دوسرے بیٹے نے بولنا شروع نہ کیا  جب میری    بیٹی نے پہل  بار امی کہا تو   مجھے اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ میرا دوسرا بیٹا جو بہن سے دو سال بڑا تھا، جس کو اب تک کافی باتیں سیکھ لینا چاہیں   تھیں   وہ ایک لفظ بھی نہ بولا   پایا تھا۔ جب میں اس کا نام لے کر پکارتی تو وہ میری طرف متوجہ تک نہ   ہوتا ۔ میں پریشان تھی  ،  مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا   ، نہ اس کے چہرے پر کوئی   تاثر آتا   اور   نہ کوئی مسکراہٹ ، جیسے اس تک میری آواز   پہنچ ہی نہ رہی   ہو ، جیسے میں دیواروں سے باتیں کرتی...