مکان کا حصہ
مکان کا حصہ "آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…" یہ جملےمیرےکانوں میں مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے چھوٹے بھائی عمر کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔ مگر ایک دن کے حادثے نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔ گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر نے بھی دیا، لیکن...