Posts

Showing posts from November, 2025

مکان کا حصہ

Image
مکان کا حصہ  "آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…" یہ جملےمیرےکانوں  میں  مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے  چھوٹے بھائی عمر  کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا   تھا۔ مگر ایک دن  کے حادثے  نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔ گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا  ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر  نے بھی دیا، لیکن...

صحت بخش غذائیں

Image
  صحت بخش غذائیں:  (آسان اور روزمرہ کی رہنمائی) آج کے مصروف اور تیز زندگی میں صحت مند رہنا سب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ فاسٹ فوڈ، مصروفیت اور کم ورزش کی وجہ سے ہم اپنی صحت پر دھیان نہیں دے پاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کا سب سے بڑا راز کھانے میں ہے۔ صحیح اور متوازن غذا نہ صرف جسم کو توانائی دیتی ہے بلکہ دماغ، جلد، دل اور ہاضمہ بھی بہتر رکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کھانے پینے کی چیزیں جو روزانہ زندگی میں شامل کر کے ہم اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ۱ ) پھل  کی نعمت: پھل ہمیشہ سے صحت مند غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں جو جسم کو اندر سے مضبوط رکھتے ہیں۔ سیب : ایک سیب روزانہ جسم کو صاف اور توانائی بخشتا ہے۔ کیلا : فوری توانائی کے لیے بہترین ہے۔ مالٹا، امرود، کنو : وٹامن سی سے بھرپور، جلد اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہیں  بیریز : اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزانہ کوئی بھی ایک  پھل کھانے سے آپ کی صحت میں واضح فرق آئے گا ۲ ) سبزیاں  کو کھانے کا حصہ بنائی...

کتابوں کی دکان(تین دن بندریے گی)

Image
کتابوں کی دکان  : ( دکان تین دن تک بند رہے گی )  کتابوں کی دکان پر لگا ہوا ایک چھوٹا سا نوٹس مجھے اس دن بہت بے چین کر گیا۔ اس پر لکھا تھا “دکان تین دن تک بند رہے گی۔” پڑھتے ہی دل میں عجیب سی گھبراہٹ اتر آئی، کیونکہ یہ دکان تو ہمیشہ کھلی رہتی تھی، چاہے اتوار ہو یا کوئی تہوار۔ میں برسوں سے اس راستے سے گزرتی تھی، اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ دکان کبھی بند ملی ہو۔ جب میں اسکول جاتی تھی تو یہ دکان میرے روزانہ کے راستے کا حصہ تھی۔ مجھے اور میری دوستوں کو جب بھی پنسل، ربڑ، شارپنر یا کاپی کی ضرورت پڑتی، ہم اسی دکان کا رُخ کرتے۔ دکان کے مالک ضیا انکل نہایت نرم دل اور شریف انسان تھے۔ ان کی دکان ہمیشہ صاف ستھری، تہذیب سے بھری اور ترتیب کا نمونہ ہوتی۔ کاپیاں ایک طرف سجی ہوتیں، رنگین پنسلوں کے ڈبے الگ رکھے ہوتے، اور جیومیٹری باکس اس طرح ترتیب سے رکھے ہوتے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جائے۔ شاید ہی کوئی بچہ ہوتا جس کا وہاں سے کچھ خریدنے کو دل نہ چاہتا ہو۔ ہم روزانہ سلام کرتے اور وہ جتنے بھی مصروف ہوں، بڑی محبت سے جواب دیتے۔ ان کے انداز میں ایک خاص ملائمت تھی، جو بہت کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ اس لیے ...

ستاروں کا علم

Image
  ستاروں کا علم (آغاز سے آج تک) رات کے پچھلے پہر ایک شخص ساحل کنارے کھڑا ٹکٹکی باندھ کےآسمان تک رہا تھا۔ ستاروں کا سمندر اپنی روشنی سے ذہن کی کھڑکیاں کھول رہا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا: آخر یہ ستارے کیسے روشن ہیں؟ ان میں یہ توانائی کہاں سے آئی ؟ کیا یہ آسمان پر لٹکتے دیے   ہماری زندگی سے کچھ تعلق رکھتے ہیں یا صرف خوبصورتی کے لیے ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی اور پر اسرار مقصد پوشیدہ ہے؟ یہی سوالات اُس کے ذہن میں گھوم رہےتھے اور اسی جستجو نے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ گویا یہیں سے ستاروں کا علم شروع ہوا۔ زمانئے قدیم میں ستاروں کے علم کی بنیاد انسان نے سب سے پہلے آسمان کو وقت ، سمت اور موسم جاننے کے لیے استعمال کیا۔ بابلی لوگ ستاروں کی حرکت کو نوٹ کرتے اور مٹی کی تختیوں پر لکھتے۔ ان کے نزدیک آسمان ایک کتاب تھی۔ وہ ستاروں کی مدد سے موسم اور زراعت کا حساب لگاتے۔ مصری لوگ اہرام کو ستاروں کی سمت کے مطابق بناتے۔ سورج اور چاند سے وقت معلوم کرتے۔ دریائے نیل کے کنارے کھڑے کسان ستاروں کی روشنی سے بیج بوتے۔ چینی لوگ آسمان میں تبدیلی کو بادشا...

چھوٹا چور

Image
چھوٹا چور  میں نے ٹی وی پر ایک خبر دیکھی  تین پولیس والے ایک میز کے سامنے بہت سارے موبائل قطار  میں سجا کر بیٹھے تھے۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے، جب میں نے غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ پولیس نے ایک موبائل چور پکڑا تھا اور اس کے چوری والے موبائل میز پر سجاکر رکھے ہوئے تھے۔ اس کی عمر تقریباً 14 سال تھی۔ اس کی بس اتنی عزت رکھی گئی کہ اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا گیا تاکہ چہرہ نہ دکھے اور میڈیا والے تصویریں کھینچ رہےتھے  مجھے یہ منظر دیکھ کر اندر سے بے چینی ہوئی۔ میں خود یوٹیوب چینل چلاتا ہوں اور ایسی خبروں کی ضرورت مجھے بھی رہتی ہے، مگر اس دفعہ میری دلچسپی چینل کو پروموٹ کرنے میں نہیں تھی میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیا مجبوریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ چور بنا ؟؟؟؟؟؟ بس پھر  میں نے معلومات لی کہ وہ کس جیل میں ہے۔ پھر اپنا موبائل، قلم اور نوٹ بک لے کر اندر گیا۔ پولیس والوں نے مجھے  اس بچے سے ملنے کی اجازت تو دے دی  مگر بہت مشکلوں  سے خیر، مجھے اُس بچےکی آپ   بیتی سننی تھی۔ میں نے نام وغیرہ پوچھا، پھر سیدھا مدّے پر آگیا:  "تم موبائل چور ک...

سوشل میڈیا کا جادو

Image
 سوشل میڈیا کا جادو آج کل کے دور میں، چاہے فیس بُک ہو ،انسٹاگرام یا یو ٹیوب جہاں بھی نظر دوڑاؤ، کھانے پکانے کی ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ میں نے غور کیا کہ اگر کسی ایک ویڈیو پر غلطی سےکلک کر دو تو سیکڑوں شیف سامنے آ جاتے ہیں۔ پھر دل میں خیال آتا ہے کہ ہمیں تو کھانا پکانا آتا ہی نہیں۔ شرمندگی کے مارے سوچتے ہیں، چلو ایک کوشش تو کرتے ہیں۔ دس منٹ کی ویڈیو دیکھی، دس منٹ اپنی زندگی کے  ویڈیو کے نام کر دیے، اور پھر ارادہ کیا کہ آج وہی نیا کھانا بنائیں گے جو ویڈیو میں دیکھا تھا۔  لیکن جب پکانے کھڑے ہوئے تو پتا چلا کہ جو بننا تھا وہ تو بنا ہی نہیں! کچھ ایسا تیار ہوا کہ ہماری بلی نے بھی سونگھ کر منہ موڑ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دس منٹ ویڈیو دیکھنے، پانچ سو روپے کے سامان خریدنے اور ایک گھنٹہ پکانے کے بعد سب کچھ ضائع ہو گیا۔ ہم نے سوچا کہ ہمیں جتنا اور جیسا پکانا آتا ہے وہ ہی کافی ہے  مگر انسان آخر انسان ہے! توبہ تو کر لی، مگر کب تک؟ اگلی بار پھر  نظر پڑی میک اپ کرنے والی لڑکیوں پر۔ حیرت تو اس وقت ہوئی جب دیکھا کہ چند منٹوں میں وہ دودھ جیسی گوری اور چاند جیسی حسین بن گئیں۔ ہم نے سو...

توبہ کی رات

Image
 توبہ کی رات جس درد سے میں گزرا، میں نہیں چاہتا میرے بچے بھی وہی درد محسوس کریں لیکن  آج میں نے جو حرکت کی ہے وہ ٹھیک نہیں تھی۔ میں شرمندہ ہوں اپنے آپ سے اور اُس عورت سے جو برابر والے کمرے میں میری وجہ سے رو رہی ہے۔ بس ایک چھوٹی سی بات تھی اور جھگڑا ہوگیا  بات  اتنی بڑھ گئی کہ میں نے غصے میں اُس کو تھپڑ مار دیا حالانکہ میرا رویہ ایسا نہیں ہوتا مگر آج میں شدید غصے میں تھا میں نے بہت باتیں بھی سنائیں، پتہ نہیں کیا کیا بول دیا۔ مجھے تو یاد بھی نہیں کہ کیا کہا تھا کیونکہ میں غصے میں تھا   بولنے والے کو اندازہ نہیں ہوتا، سننے والا زیادہ محسوس کرتا ہے کہ اُس نے کیا سنا  خیر، کافی دیر تک وہ روتی رہی۔ جب میں شام کو آیا تو اُس نے گیٹ کھولا، کچھ کہا نہیں مگر ناراضگی اُس کےچہرے پر صاف ظاہر تھی  مُجھے شام کی چائے اور رات کا کھانا ہمیشہ کی طرح ملا، بس وہ خاموش سی تھی ۔ آج رات مجھے ایک عجیب سی بےچینی ہونے لگی۔ میں نے سونے کی بہت کوشش کی مگر نیند نہیں آئی۔ پھر میں اپنی اسٹڈی روم میں بیٹھ کر سگریٹ پینے لگا اور اپنی سوچوں میں گم ہو گیا۔ مجھے آج بھی اپنے بچپن کی با...