صبر
صبر
وہ موٹی سی ساولئ سی
اور درمیانے قد کی عورت
ہم اکثر کچھ لوگوں کی قدر اُس وقت کرتے ہیں جب وہ ہمارے پاس نہیں رہتے۔ محبت، صبر اور خلوص کو زندگی میں ہی پہچاننا سیکھنا چاہیے، کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
میری ازدواجی زندگی اسی ہی موٹی سی ساولئ سی عورت سے شروع ہوتی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ابا جان بہت سخت مزاج تھے۔ ہم چار بھائی تھے اور چاروں کی شادی ابا جان کی مرضی سے ہوئی۔ ہم اپنے ابا کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہم، کیا ہماری اماں جان، سب ان سے ڈرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ایک فاصلے پر رہتےاور آج دیکھو، لڑکے لڑکیاں آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہتے ہیں کہ ہمیں اسی لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنی ہے۔
خیر، میں بات کر رہا تھا اُس موٹی سی، ساؤلی سی اور درمیانے قد کی عورت کی۔ پھر ابا جان نے حکم دیا کہ اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ ہم نے اپنے تمام ارمانوں کا گلا گھونٹ کر اس موٹی سی، ساؤلی سی اور درمیانے قد کی لڑکی سے شادی کر لی۔ ابا جان اس فیصلے سے بہت خوش تھے، اور ہم دل ہی دل میں جل رہے تھے۔ سوچ رہے تھے کہ جب باقی تین بھائیوں نے اپنی شادیوں کے وقت کچھ نہ کہا تو بھلا میں کیا کر لیتا؟ میری اوقات ہی کیا تھی۔ بس شادی سادگی سے ہو گئی، جیسا ابا جان چاہتے تھے، ویسا ہی ہوا۔
ہم بھی بڑے پکے تھے۔ ہم نے بھی اُس عورت کو صرف شادی نبھانے اور ذمہ داری سمجھنے کے علاوہ کچھ نہ سمجھا۔ وہ روز ناشتہ دیتی، کپڑے دُھلے ہوتے، گھر ہمیشہ صاف ملتا۔ پتہ نہیں عورت تھی یا مشین؟ ہر کام وقت پر ہوتا اور صبر ایسا کہ مجال ہے کبھی آگے سے ایک لفظ بولے۔ میں نے اُسے کبھی تیز آواز میں بولتے نہیں سنا۔
پھر ایک دن ہمارے ابا جان اللہ کو پیارے ہو گئے۔ سب بھائیوں کو حصہ ملا اور ہم نے بھی ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا۔ میں سرکاری ملازمت کرتا تھا۔ الحمدللہ، پیسوں کی کبھی کمی نہیں ہوئی۔ میرے تین بچے کب میرے قد سے اونچے ہو گئے، وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ میرے تینوں بچے بڑے سلیقہ مند اور فرمانبردار ہیں ۔ کبھی سوچتا ہوں، اُس موٹی سی، ساؤلی سی اور درمیانے قد کی عورت نے کیا کمال کی تربیت کی ہے ۔
مجھے تو اُس نے کبھی موقع ہی نہیں دیا کہ کوئی بات نکالوں، یا جو میرا دل برسوں سے جل رہا تھا، اُس کو غصے سے بجھا دوں۔ مگر کوئی بات ملے تب نہ جسے لے کر کچھ کہہ سکوں۔ سب کچھ ہمیشہ ٹھیک، وقت پر، مکمل ہوتا۔
پھر اچانک وہ بہت بیمار پڑ گئی۔ چند مہینے بستر پر رہی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ وہ گھر کے سارے کام کیسے کرتی تھی پھر کیا تھا ماسیوں سے گھر بھرا پڑا ہوتا، مگر جو سکون اور سلیقہ اُس کے ہاتھ میں تھا، وہ کسی اور میں نہیں۔
جس دن اُس کی طبیعت بہت خراب ہوئی، اُس دن بھی نہ جانے کیوں میرا دل رو رہا تھا مگر وہ اس لیے نہیں کہ وہ موٹی یا ساؤلی تھی، بلکہ اس لیے کہ میں نے اس کے بارے میں کتنا غلط سوچا۔ اُس دن میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، چاہا کہ کسی طرح اسے روک لوں، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ اُس کی سانسیں ہلکی ہو رہی تھیں، مگر چہرے پر پھر بھی سکون تھا۔
واقعی، سکون تو انہی کو ملتا ہے جو ساری زندگی صبر کرتے ہیں، جو کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتے ہم جیسوں کو کہاں ملتا ہے لیکن میرے دل کاکیا؟ "شاید دوبارہ موقع ملے یا نہ ملے، بس اتنا کہہ سکا کہ میری بے رُخی کو اگر ہوسکے تو معاف کر دینا۔"
پتہ نہیں اُس نے مجھے معاف کیا یا نہیں، مگر وہ خاموشی سے دنیا سے چلی گئی۔ اُس کی خاموشی آج بھی میرے دل میں گونجتی ہے آج وہ موٹی سی، ساؤلی سی۔۔۔۔۔عورت بہت یاد آتی ہے ۔۔۔۔لیکن زندگی نے ایک بات سمجھا دی کہ اصل خوبصورتی رنگ، قد یا شکل میں نہیں، بلکہ اُس صبر میں تھی جو وہ پوری زندگی کرتی رہی۔
تحریر: ندا ہاشمی
Excellent writing! Valuable lesson learnt 💯
ReplyDeleteشکریہ
DeleteHan zandage Jo LIKHA wohe milta hahe
ReplyDeleteBeshak
Delete