مکان کا حصہ


مکان کا حصہ 

"آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…"

یہ جملےمیرےکانوں میں مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے  چھوٹے بھائی عمر  کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا تھا۔ مگر ایک دن  کے حادثے  نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔

گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا  ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر  نے بھی دیا، لیکن گھر کا اصل بوجھ میں نے ہی اٹھایا تھا۔

وقت گزرتا گیا۔ چھوٹے بہن بھائی بڑے ہو گئے۔ ان کی شادیاں کرائی، ان کے گھروں کی بنیاد رکھی۔ میں ماں بھی بنی، باپ بھی، اور شاید یہی میری سب سے بڑی غلطی بھی تھی کہ میں خود کو بھولتی چلی گئی۔ زندگی کے راستوں پر چلتے چلتے میری عمر بھی چلتی گئی۔ رشتے آئے، مگر میں نے بہن بھائیوں کی صورت میں اپنی پوری دنیا دیکھ رکھی تھی اور ہر بار نہ کہہ دیتی رشتے داروں نے بھی سمجھایا مگر بہن بھائیوں کے آگے مجھے کچھ نظر نہ آیا۔

  گھر میں دو بھابھیاں آئیں۔ سب محبت سے مجھے" آپی" کہتے۔ میں سمجھتی رہی کہ جیسے پہلے اس گھر میں میرا کہا چلتا تھا، اب بھی چلے گا۔ مگر وقت بدلتا ہے، لوگ بدلتے ہیں، حالات بھی بدل جاتے ہیں۔ 

 عمر اور اس کی بیوی جو مجھے بہت عزیز تھے کبھی دیر سے گھر آتے، میں بس اتنا کہتی، "بتا کر جایا کرو، پریشانی ہوتی  ہے۔ شاید  میں ہی ضرورت سے زیادہ بولتی تھی اب میری کسی کو ضرورت نہ تھی لیکن جس کے اپنے بچے نہ ہوں، وہ گھر کے بچوں کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے۔ میں نے بھی یہی کیا تھا بس گھر پر  چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا روز کا معمول بن چکا تھا 

پھر وہ دن آیا جس نے میرے اندر کئی سالوں سے جمی خاموشیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

بات چھوٹی سی تھی، مگر ماحول بھڑک گیا۔ آوازیں بلند ہوئیں، جملے تیروں کی طرح دل پر لگے، اور پھر وہی لفظ، وہی جملہ، جو میرے دل میں خنجر بن کر اتر گیا:

"آپی بس ہمارا حق دے دیں… ہمیں الگ گھر چاہیے… آپ بھی سکون سے رہیے اور ہم بھی!"

میں جیسے پتھر کی ہو گئی۔ زبان پر خاموشی بیٹھ گئی۔ ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے۔ آنکھوں کے سامنے وہی گھر گھوم رہا تھا ابا کا بنایا ہوا وہی گھر، جس کے صحن میں ہم نے بچپن گزارا، بے فکری کے دن جیے، دکھ سکھ بانٹ کر جوان ہوئے۔ اسی گھر کے آج حصّے ہو رہے تھے۔جو گھر مجھے بہت عزیز تھا۔میں دیواروں کو ہاتھ لگاکر انھیں 

 محسوس کرتی رہی۔ مگر میں  نے کوئی لفظ نہیں کہا۔ شاید کہنے کو کچھ نہ بچا؟چند دن بعد مکان کا  فیصلہ ہوگیا۔ گھر فروخت ہونا تھا۔ سب کو ان کا حصہ مل جانا تھا۔ میں نے رسمِ دنیا نبھائی، خاموشی سے دستخط کیے، اور اس گھر کے دروازے سے آخری بار گزرتے ہوئے اپنے قدموں کی آواز بھی سنائی دی جیسے کوئی باب مکمل ہو چکا ہو۔

مکان بک گیا۔ بہن بھائیوں کو ان کا حصہ مل گیا۔ اور میں… میں ایک بیگ میں اپنے ماں باپ کی چند تصویریں، امی کے چند کپڑے ، ابا کی گھڑی، اور کچھ چھوٹی نشانیاں سمیٹ کر اپنی بہن کے گھر آ گئی۔ 

رات کو جب میں اپنے کمرے میں بیٹھی، تو پہلی بار مجھے اپنی تنہائی پوری شدت سےمحسوس ہوئی۔ پہلے تو میں بہن بھائیوں میں مصروف رہتی تھی، ان کی زندگی میری زندگی تھی، اسی مصروفیت نے میرے اندر کے خالی پن کو چھپا رکھا تھا۔ لیکن آج… آج وہ خالی پن ایک کھلے دروازے کی طرح سامنے تھا۔

میری قربانیاں، میری راتیں، میرا جوانی کا ہر لمحہ سب جیسے مجھے آئینہ دکھا رہے تھے۔

مگر میں کمزور نہیں تھی ایک مضبوط انسان تھی ۔ وہ بہن جو ماں بن کر، باپ بن کر، اور اپنوں کی حفاظت کرتے کرتے خود   بوڑھی ہو رہی تھی  اب زندگی نے ایک نیا موڑ دیا ہے۔ سفر اکیلا ہے، مگر میں خالی نہیں ہوں۔ میرے ساتھ میری نیت، میری محبت، اور وہ سب کچھ ہے جو میں نے کیا سچائی سے، خلوص سے، بغیر شکایت کے اور شاید یہی میرے حصّے کی اصل دولت ہے۔

ہاں میں نے بھی اپنا حصہ لے لیا مگر وہ مکان کا حصہ نہیں بلکہ اماں اور ابّا کی چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہی میرا حصہ ہیں اور وہ میں کسی کو نہیں دوں گی۔۔ 

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا