Posts

اکلوتا

Image
اکلوتا  پانچ بیٹیوں کے بعد جب میں پیدا ہوا تو جیسے گھر والوں کی برسوں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ بابا نے شکرانے کے نفل ادا کیے، ماں نے صدقہ دیا، محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ رشتے داروں کی آنکھوں میں امیدوں کی چمک تھی، جیسے میں ایک نہیں، پورے خاندان کا مستقبل ہوں۔ بچپن بہت نرمی، لاڈ اور خوشی سے گزرا۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں سب سے خاص ہوں… ایک شہزادہ، جس کی ہر ضد پوری ہونی ہے، جس کی ہر مسکراہٹ سب کے چہروں پر روشنی لے آتی ہے۔ ہر دن خوشیوں کا پیام لاتا اور ہر لمحہ جیسے میری زندگی کا جشن تھا۔ لیکن وقت گزرا… اور بچپن کی دھندھ آہستہ آہستہ چھٹنے لگی۔ ذمہ داریوں کی ایک طویل قطار میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ پہلے پہل تو سمجھ نہ آیا کہ یہ بوجھ کیسا ہے، مگر جوں جوں عمر بڑھی، سمجھ آیا کہ وہ خوشیاں جو میری پیدائش پر منائی گئی تھیں، وہ دراصل اُن قربانیوں کا جشن تھیں جو میں نے دینی تھیں۔ ابا کی نظریں میری طرف اٹھتیں تو ایک سوال سا ہوتا: "بیٹا، تُو تو ہے نا؟" ماں کی دعاؤں میں میرا نام، لیکن دعاؤں کے ساتھ ایک انجانی بےچینی بھی۔ ہر دن ایک نئی ذمہ داری کے ساتھ آتا، ہر لمحہ مجھے اپنے والدین اور بہنوں ...

میرے خواب کیا ہوئے؟

Image
میرے خواب کیا ہوئے!   تحریر: ندا ہاشمی کبھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں، تو لگتا ہے جیسے سامنے کوئی اور کھڑا ہو۔ چہرہ وہی ہے، لیکن آنکھوں میں روشنی باقی نہیں رہی۔ بال بکھرے ہوئے، چہرے پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ، اور ان آنکھوں میں ایسی اداسی جو شاید برسوں سے میرے اندر بسی ہوئی ہے۔ میں خود سے پوچھتی ہوں: "کہاں گئی وہ لڑکی جو خواب دیکھتی تھی؟ " وہ لڑکی جو اپنے لیے جیتی تھی، جو ہر چھوٹی بات پر ہنس پڑتی تھی، جس کی آنکھوں میں خواہشوں کا ایک جہان بسا تھا، جو اپنے لیے کچھ بننا چاہتی تھی۔ وہ جو زندگی کو صرف گزارنا نہیں، جینا چاہتی تھی۔ لیکن وہ لڑکی کہیں راستے میں ہی رہ گئی۔ شاید کسی دن کے کاموں میں، کسی رات کے سناٹے میں، کسی کے لیے چپ رہتے رہتے، یا کسی اور کی خوشی کے لیے اپنی خواہش کو دفن کرتے کرتے… وہ خود، خود سے دور ہو گئی۔ زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ وقت پر خاموش رہنا، قربانی دینا، ہر بات برداشت کرنا، اور سب کو خوش رکھنا۔ یہ سب سیکھ لیا… مگر خود کو کیسے سنبھالنا ہے، یہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ اب سب کی خوشی عزیز ہے، مگر اپنی خوشی کا کوئی مقام نہیں رہا۔ روز ایک سا معمول، ای...

بجلی کا بل یا بجٹ کا قاتل؟

Image
بجلی کا بل یا بجٹ کا قاتل؟ ہر مہینے ایک قاتل کا انتظار ہوتا ہے نہ اُس کے ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے، نہ بندوق بس ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ جی ہاں، وہی بل! جو آتا ہے، اور خاموشی سے ہمارے خوابوں، خواہشوں، امیدوں اور خوشیوں کا قتل کر کے چلا جاتا ہے۔ یہ ایسا قاتل ہے جو ہر بار نیا زخم دیتا ہے، لیکن قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ نہ اسے کوئی پکڑتا ہے، نہ اس پر کوئی شور مچاتا ہے   بس ہم سب خاموشی سے اپنا بجٹ دفناتے ہیں اور اگلے مہینے کے قاتل کا انتظار کرتے ہیں    تنخواہ آتے ہی دل میں یہ خوش فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شاید اس بار بچوں کو نئے جوتے لے دیں گے، امی کے لیے دوائیاں وقت پر آ جائیں گی، یا بیوی کے چہرے پر خوشی کی ایک چمک دکھائی دے گی... مگر پھر بل آتا ہے  اور سب حساب کتاب اُلٹ جاتا ہے۔ ہم نے پنکھے وقت پر بند کیے، فریج پر سیور لگایا، دن میں اندھیرے میں گزارا، اور رات کو بچوں کو اکٹھا ایک ہی پنکھے کے نیچے سلایا  مگر بل ویسا ہی آیا جیسے ہم نے پورے علاقے کی بجلی  استعمال کی ہو۔ اور سب سے کربناک بات؟ لوڈشیڈنگ پھر بھی جاری رہتی ہے  یعنی نہ سکون ملتا ہے، نہ سہولت ...

بے بسی

Image
بے بسی آج صبح پسینے میں شرابور، جب میں بس سے اترا اور گھڑی دیکھی تو پانچ منٹ کی تاخیر ہو چکی تھی۔ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا باس کے کمرے میں پہنچا اور انہیں پروجیکٹ کی فائل دے دی۔ مگر افسوس، اُن کی توجہ میری کارکردگی پر کم اور تاخیر پر زیادہ تھی۔ آج چاہے میں کتنا ہی اچھا کام کر لوں، مجھے یہی یاد دلایا جائے گا کہ میں لیٹ آیا تھا۔ لیکن مجال ہے جو میں وضاحت کر سکوں کہ سڑکوں پر ٹریفک نے روک رکھا تھا۔ دن جیسے تیسے گزر گیا۔ ہر لمحہ بس ایک بوجھ کی طرح لگا۔ واپسی پر مالک مکان مل گیا، اُس نے بھی ٹوک دیا: "اس بار کرایہ وقت پر دے دینا۔" میں نے سر جھکا کر بات ٹال دی اور آگے بڑھ گیا۔ دل بھاری تھا، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ گھر پہنچا تو بچوں کی معصوم آنکھیں میرا انتظار کر رہی تھیں۔ چھوٹی بیٹی روتی ہوئی بولی: "بابا، آج اسکول والوں نے کلاس سے نکال دیا۔" بیٹے نے بتایا: "بابا، اس مہینے کی فیس جمع نہیں ہوئی، اس لیے ہمیں باہر کر دیا۔" ان کی ماں نے پریشان ہو کر کہا: "اگر بچے یوں ہی کلاس سے نکالے جاتے رہے تو ان کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو گی۔" میں نے گہرا سانس لے ک...

محبت کی شادی کی سزا۔۔موت

محبت کی شادی کی سزا … موت  عورت کی مظلومیت کا رونا صدیوں سے رویا جا رہا ہے، لیکن صرف رونا ہی رویا جا رہا ہے، اور کچھ کیا نہیں جا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی زندگی کے فیصلے اکثر مردانہ سوچ اور پرانی رسومات کے شکنجے میں دب جاتے ہیں، اور ان کی خوشیوں کو داغ دار کر دیا جاتا ہے۔ وائرل ویڈیو اور حقیقت  حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس نے ہر انسان کی روح کانپانے پر مجبور کر دیا۔ ویڈیو میں ایک جوڑے کو ویران میدان میں اتارا گیا اور گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ یہ تھی پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو دی جانے والی سزا… موت۔ باپ کی "غیرت" نے ایک نئی وحشت کی داستان رقم کر دی۔ بلوچستان کی دھرتی پر یہ ظلم ہوا، جہاں نہ عدالت تھی، نہ انصاف، صرف بندوق تھی اور ایک فرسودہ سوچ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے فوری ایکشن لیا اور ایک ملزم گرفتار بھی ہوا، لیکن کیا یہ کافی ہے؟ کیا ایک گرفتاری سے ان معصوم جانوں کو انصاف مل جائے گا؟ باقی قاتل کہاں ہیں؟ اور وہ جرگہ، جس نے شاید اس فیصلے کو "غیرت" کا نام دیا، وہ کیوں آزاد ہے؟ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مقتولین کے خاندان نے کوئی رپورٹ درج نہیں کرو...

ہمسایہ (ایک بھولا ہوا رشتہ)

ہمسایہ (ایک بھولا ہوا رشتہ) ہمیرہ اصغر، عائشہ خان اور نہ جانے کتنی ہی ایسی عورتیں یا پوری فیملیز ایسے مردہ حالت میں اپنے گھروں سے ملتی ہیں کہ ان کے انتقال کو نہ جانے کتنے دن، ہفتے اور مہینے گزر جاتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ کتنے لاپرواہ ہو گئے ہیں۔ ہمسایہ کے حقوق اور فرائض ہمارے معاشرے میں لوگوں کے کچھ حقوق ہیں جو ہم پر فرض ہیں، جن میں ایک نام ہمسایہ کا بھی آتا ہے۔ ہمسایہ جسے ہم "پڑوسی" بھی کہتے ہیں، مگر اکثر ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ ہمیں یاد رہتا ہے کہ پانچ شادیاں کرنا یا جائیداد میں حصہ لینا ہمارے حقوق میں شامل ہے، لیکن اپنے فرائض یاد نہیں رہتے۔ ہم بہت آسانی سے بھول جاتے ہیں کیونکہ ہم خود غرض ہو گئے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا ہمسایہ بھوکا ہے، بیمار ہے، خوش ہے یا غم میں ہے۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کوئی تنہائی، بھول، صدمے یا بیماری کی وجہ سے مر گیا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے معاشرتی تعلقات کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ ہمسایہ داری کی اہمیت ہمیں اپنے پڑوسی کی خبر گیری رکھنی چاہیے۔ چاہے کوئی غریب ہو، یا کسی ڈرامے میں کام کرتا ہو،...

Aurat (mera ghar)

Image
عورت(میرا گھر ) میں یہ نہیں بتاؤں گی کہ "عورت" لفظ کے کیا معنی ہیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ میں تو یہ بتاؤں گی کہ عورت ہونا کتنا مشکل ہے۔ عورت صرف ایک وجود نہیں، بلکہ صبر، قربانی، اور برداشت کا دوسرا نام ہے۔ جب عورت اپنے ماں باپ کے گھر ہوتی ہے تو ایک جملہ ضرور سننے کو ملتا ہے: "یہ تمہارا گھر نہیں ہے، تم تو دوسرے گھر جاؤ گی۔ وہ تمہارا گھر ہوگا۔" وہ گھر جہاں وہ پیدا ہوئی، جوان ہوئی، زندگی کے حسین لمحے گزارے، وہ اس کا گھر نہیں؟ واہ! جن دیواروں، کونوں اور چھت کے نیچے اس نے بچپن کی خوشیاں جمع کیں، جہاں اس نے ہر دکھ اور ہر خوشی کو محسوس کیا، وہ اس کا نہیں؟ یہ سوچ کر  اسکا دل اداس ہو جاتا ہے۔ پھر جب شادی ہو جاتی ہے تو بڑے پیار سے اس دوسرے گھر لایا جاتا ہے، جس کے بارے میں اسے اماں نے بتایا تھا کہ "وہ تمہارا اصل گھر ہے۔" کچھ دن کے لیے تو اسے ماں کی باتیں سچ لگتی ہیں، لگتا ہے واقعی یہ گھر میرا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، حقیقت اپنا چہرہ دکھانے لگتی ہے۔ پہلے پہل، وہ سب کی باتیں بڑے خلوص سے برداشت کرتی ہے۔ صبر اور خاموشی کے ساتھ دن گزرتے ہیں۔ کبھی کبھار اس کا صبر جواب...