اکلوتا
اکلوتا پانچ بیٹیوں کے بعد جب میں پیدا ہوا تو جیسے گھر والوں کی برسوں کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ بابا نے شکرانے کے نفل ادا کیے، ماں نے صدقہ دیا، محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ رشتے داروں کی آنکھوں میں امیدوں کی چمک تھی، جیسے میں ایک نہیں، پورے خاندان کا مستقبل ہوں۔ بچپن بہت نرمی، لاڈ اور خوشی سے گزرا۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں سب سے خاص ہوں… ایک شہزادہ، جس کی ہر ضد پوری ہونی ہے، جس کی ہر مسکراہٹ سب کے چہروں پر روشنی لے آتی ہے۔ ہر دن خوشیوں کا پیام لاتا اور ہر لمحہ جیسے میری زندگی کا جشن تھا۔ لیکن وقت گزرا… اور بچپن کی دھندھ آہستہ آہستہ چھٹنے لگی۔ ذمہ داریوں کی ایک طویل قطار میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ پہلے پہل تو سمجھ نہ آیا کہ یہ بوجھ کیسا ہے، مگر جوں جوں عمر بڑھی، سمجھ آیا کہ وہ خوشیاں جو میری پیدائش پر منائی گئی تھیں، وہ دراصل اُن قربانیوں کا جشن تھیں جو میں نے دینی تھیں۔ ابا کی نظریں میری طرف اٹھتیں تو ایک سوال سا ہوتا: "بیٹا، تُو تو ہے نا؟" ماں کی دعاؤں میں میرا نام، لیکن دعاؤں کے ساتھ ایک انجانی بےچینی بھی۔ ہر دن ایک نئی ذمہ داری کے ساتھ آتا، ہر لمحہ مجھے اپنے والدین اور بہنوں ...