آٹزم – ایک خاموش دنیا کا تعارف

آٹزم – ایک خاموش دنیا کا تعارف

آٹزم کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک ایسی دماغی کنڈیشن  ہے جو عام طور پر بچپن میں ظاہر ہوتی ہے جیسے آنکھ ملا کر بات نہ کرنا اور عمر بھر انسان کے رویے، رابطے، سیکھنے کی صلاحیت اور سماجی تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ آٹزم کے شکار بچے عموماً بول چال میں دقت محسوس کرتے ہیں، انکے  بات کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے  جیسے رو کر یا ان کو کوئی چیز چاہیے ہو گی تو آپ کا ہاتھ پکڑ کر لے جائیں گے اور یہ اپنے مخصوص انداز میں دنیا کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔

یہ کیفیت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بچے مکمل خاموش ہوتے ہیں،کچھ بچے تھوڑے بہت الفاظ بول لیتے ہیں جبکہ بعض میں غیر معمولی ذہانت پائی جاتی ہے۔ آٹزم کی علامات میں دہرائے جانے والے افعال، محدود دلچسپیاں، اور معمولی تبدیلی پر شدید ردعمل شامل ہیں۔ تاہم، بروقت تشخیص، تعلیمی رہنمائی، سپیچ تھراپی اور والدین کی مسلسل محنت سے ایسے بچے بھی خودمختار زندگی گزارنے کے قابل بن سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آٹزم کو اب بھی مکمل طور پر سمجھا نہیں گیا۔ ایسے بچوں کو "سست" یا "بے عقل" کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ تو صرف ایک مختلف انداز میں سوچتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم ان بچوں کو قبول کرنا اور ان کے لیے محبت، صبر اور تعاون کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

 اس کو بیماری   نہیں سمجھناچاہیے، بلکہ یہ سیکھنے کا ایک خاص انداز ہے۔ اگر ہم ان بچوں کو سمجھیں، ان کی خاموش دنیا میں داخل ہوں، تو ہمیں ان میں چھپی  خوبصورتی اور صلاحیتوں کا اندازہ ہوسکے گا۔  

  ان بچوں کے لیے ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیناچاہئے جہاں انہیں ناقدانہ نگاہوں کے بجائے محبت کی نظر سے دیکھا جائے۔

 ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بچوں کو عام بچوں کے ساتھ اسکولوں میں بٹھایا جاتا ہے تاکہ ان کی بہتر تربیت، سوشل ترقی اور اعتماد سازی ہو سکے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسی سہولتیں ناپید ہیں، جس کے باعث یہ بچے معاشرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے لیے معیاری تعلیم، علاج اور رہنمائی کے مساوی مواقع فراہم کریں، کیونکہ یہ بچے ہماری توجہ، احترام اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔ ان کے وجود سے معاشرہ نئے زاویے، نئی سوچ اور ایک غیر معمولی تنوع حاصل کرتا ہے۔  


آٹزم کسی کمی کا نام نہیں بلکہ ایک انوکھا زاویۂ نظر ہے۔ یہ بچے بھی اپنی قابلیت اور محنت سے معاشرے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اصل ضرورت صرف ہماری سوچ بدلنے اور انہیں برابر کا حق دینے کی ہے یہ
 بچے بھی معاشرے میں اپنی جگہ بنائیں اور یہ جب ممکن ہوگا جب ہم ان بچوں کو قبول کریں گے 
اس تحریر کو لکھنے کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں احساس اور بیداری پیدا ہو، تاکہ ہم سب مل کر ایسے بچوں کے لیے بہتر مواقع فراہم کریں۔ اگر معاشرہ انہیں سمجھنے اور قبول کرنے لگے تو یہ بچے بھی اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، ان کی کامیابی دراصل ہمارے اجتماعی شعور اور ذمہ داری کی عکاسی ہوگی۔ 

تحریر: ندا ہاشمی 

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ