آٹزم (ماں کی نظر میں)



(ماں کی نظر سے) آٹزم

جب میرا بچہ ڈھائی سال کا ہوا تو وہ سب کچھ وقت پر کر رہا تھا۔ گردن سنبھالنا، بیٹھنا اور چلنا سب کچھ بالکل وقت پر سیکھ گیا تھا۔ مگر ایک کمی تھی، اُس کی زبان نہیں کھل رہی تھی۔ صرف چند الفاظ ہی اُس کے پاس تھے۔ میں نے سوچا کہ جیسے ہی اسے اسکول بھجواؤں گی، یہ ضرور بولنے لگے گا۔ لیکن جب میں نے اسے عام اسکول میں داخل کروانے کی کوشش کی تو اُس کی بے حد ہائپر ایکٹیویٹی کی وجہ سے اسکول نے اُسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تب میں نے فیصلہ کیا اور اسے آٹزم کے خصوصی اسکول میں داخل کروا دیا۔

جب میں نے اپنے بیٹے کو آٹزم کے اسکول میں داخل کروایا، اُس وقت وہاں صرف چند ہی بچے ہوتے تھے۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ شاید یہ مسئلہ بہت نایاب ہے اور صرف ہم چند والدین ہی اس راستے پر اکیلے چل رہے ہیں۔ لیکن وقت گزرتا گیا اور آج وہی اسکول بچوں سے بھرا ہوا ہے۔ اب لگتا ہے جیسے یہ کیفیت دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ یہ دیکھ کر ایک ماں کے دل میں کئی سوال اٹھتے ہیں کہ آخر یہ سب کیوں بڑھ رہا ہے اور کب ہم سب اس کا بہتر حل ڈھونڈ پائیں گے۔

اکثر ماں باپ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کو آٹزم ہے۔ جب بچہ بولنے میں دیر کرے، اشارے نہ سمجھے، نظر سے نظر نہ ملائے، یا بار بار ایک ہی حرکت کرے تو یہ علامات آٹزم کی ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں گھبراہٹ یا شرمندگی کے بجائے والدین کو چاہیے کہ فوراً کسی ماہر سے رجوع کریں تاکہ بچے کو بروقت مدد دی جا سکے۔

ایک ماں کے لیے یہ لمحہ بہت کٹھن ہوتا ہے جب وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کا بچہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے۔ معاشرہ ایسے بچوں کو بیمار یا گُونگا بہرا  سمجھتا ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف دنیا کو ایک مختلف انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ انہیں صرف زیادہ توجہ، رہنمائی اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ کوئی بیماری نہیں، بلکہ ایک ایسی کنڈیشن ہے جس میں دماغ کی نشوونما مختلف انداز میں ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے بچوں کو قبول کرنا سیکھنا ہوگا، ان کے ساتھ صبر اور حوصلے سے پیش آنا ہوگا۔ اگر ان بچوں کو ایک محفوظ ماحول مل جائے تو وہ اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے بھی والدین کے دلوں کو خوشی سے بھر سکتے ہیں۔

اگر ان بچوں پر بے حساب محنت کی جائے تو یہ بچے اپنی صلاحیتوں سے پوری دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔ کچھ بچے ڈرائنگ میں ماہر ہوتے ہیں، کچھ کمپیوٹر یا میوزک میں اپنی پہچان بنا لیتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔

والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں پر بھرپور وقت اور لگن صرف کریں تاکہ یہ بچے کم از کم اتنے قابل ضرور بن جائیں کہ اپنی زندگی خود مختار انداز میں گزار سکیں۔ یہ سفر کٹھن ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔


یقین رکھتی ہوں کہ اللہ کی ذات محنت کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتی۔ وقت لگ سکتا ہے، آنسو بہانے پڑ سکتے ہیں، لیکن اس کا پھل ضرور ملتا ہے۔ ایک دن آتا ہے جب ماں کی دعائیں اور محنت رنگ لاتی ہیں اور بچہ اپنی کامیابیوں سے سب کو حیران کر دیتا ہے۔

تحریر:ندا ہاشمی 


Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ