تنہائی
تنہائی
"تنہائی" کا لفظ سنتے ہی ذہن میں پہلا خیال "اکیلا پن" آتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کے دل و دماغ کو چھو لیتی ہے اور بظاہر عام سا لگنے والا یہ احساس بعض اوقات انسان کو گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔
انسان دراصل ایک سماجی مخلوق ہے۔ اسے دوسروں کے ساتھ رہنے، بات کرنے اور اپنی خوشی و غم بانٹنے کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان دنیا میں اکیلا آتا ہے اور اکیلا ہی واپس چلا جاتا ہے۔ اپنے اعمال کا حساب بھی اسے اکیلے دینا ہے۔ یہی حقیقت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اکیلا پن کوئی اجنبی چیز نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ پھر ہم کیوں شکایت کرتے ہیں کہ ہم تنہا ہیں، کوئی ہمارا ساتھ نہیں دیتا؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی توقعات دوسروں پر بہت زیادہ رکھ لیتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر وقت کوئی ہمارے ساتھ ہو، ہمیں سمجھنے والا ہو، ہماری بات سننے والا ہو۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو ہمیں دکھ اور تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔
اکثر اوقات ہم خود ہی اپنی تنہائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ کبھی ہم اپنی ضد اور انا کی وجہ سے لوگوں کو خود سے دور کر دیتے ہیں، کبھی اپنی شکایتوں اور گلے شکوؤں سے دوسروں کو بیزار کر دیتے ہیں، اور کبھی ہم اس قدر خود میں گم ہو جاتے ہیں کہ آس پاس کے لوگ بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا واقعی دنیا نے ہمیں تنہا چھوڑا ہے یا ہم نے خود اپنے گرد دیواریں کھڑی کر لی ہیں؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔ جب ہم خود اپنے دوست بن جائیں گے تو تنہائی ہمیں کاٹ کھانے کے بجائے سکون دینے لگے گی۔ یہ کیفیت انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ تنہائی ہمیں اپنی طاقت اور کمزوری کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ یہی وقت ہے جب انسان اپنے خوابوں پر غور کرتا ہے، اپنے فیصلوں کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
خود سے محبت کرنا ایک بڑی ضرورت ہے۔ لیکن یہ محبت اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم خود غرض ہو جائیں۔ اعتدال یہ ہے کہ ہم اپنی قدر کریں، اپنی عزت کریں اور ساتھ ہی دوسروں کے لیے بھی دل میں جگہ رکھیں۔ اگر ہم اپنی ذات سے خوش ہوں گے تو دوسروں کے ساتھ بھی خوشی بانٹ سکیں گے۔
تنہائی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں روحانیت کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب انسان خاموشی میں ڈوبتا ہے تو وہ خدا کے قریب ہوتا ہے۔ دعاؤں اور عبادت کا مزہ تنہائی میں اور بڑھ جاتا ہے۔ اس لمحے انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی اکیلا نہیں، اس کا رب ہر وقت اس کے ساتھ ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تنہائی سزا نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذات کو بہتر بنانے، دوسروں کو سمجھنے اور خدا کے قریب ہونے کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہمیں شکایت کرنے کے بجائے اس کیفیت کو مثبت انداز میں اپنانا چاہیے، کیونکہ جو انسان اپنی تنہائی کو دوست بنا لیتا ہے وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر خود کو کمزور نہیں پاتا۔
تحریر: ندا ہاشمی
Haqiqat hahe har insan ku akle Jana lekin dunyan TU sub kye sahat rehena parta hahe
ReplyDeleteGe
Delete