بے بسی
بے بسی
آج صبح پسینے میں شرابور، جب میں بس سے اترا اور گھڑی دیکھی تو پانچ منٹ کی تاخیر ہو چکی تھی۔ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر سیدھا باس کے کمرے میں پہنچا اور انہیں پروجیکٹ کی فائل دے دی۔ مگر افسوس، اُن کی توجہ میری کارکردگی پر کم اور تاخیر پر زیادہ تھی۔ آج چاہے میں کتنا ہی اچھا کام کر لوں، مجھے یہی یاد دلایا جائے گا کہ میں لیٹ آیا تھا۔ لیکن مجال ہے جو میں وضاحت کر سکوں کہ سڑکوں پر ٹریفک نے روک رکھا تھا۔
دن جیسے تیسے گزر گیا۔ ہر لمحہ بس ایک بوجھ کی طرح لگا۔ واپسی پر مالک مکان مل گیا، اُس نے بھی ٹوک دیا: "اس بار کرایہ وقت پر دے دینا۔" میں نے سر جھکا کر بات ٹال دی اور آگے بڑھ گیا۔ دل بھاری تھا، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔
گھر پہنچا تو بچوں کی معصوم آنکھیں میرا انتظار کر رہی تھیں۔ چھوٹی بیٹی روتی ہوئی بولی: "بابا، آج اسکول والوں نے کلاس سے نکال دیا۔" بیٹے نے بتایا: "بابا، اس مہینے کی فیس جمع نہیں ہوئی، اس لیے ہمیں باہر کر دیا۔" ان کی ماں نے پریشان ہو کر کہا: "اگر بچے یوں ہی کلاس سے نکالے جاتے رہے تو ان کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو گی۔"
میں نے گہرا سانس لے کر کہا: "مہینہ ختم ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے، جیسے ہی تنخواہ آئی، سب دے دوں گا۔" لیکن بیگم میری بات سے مطمئن نہ ہو سکیں۔ وہ میری پریشانی کو سمجھنا چاہتی تھیں، لیکن حالات اتنے دباؤ والے تھے کہ الفاظ کام نہیں آئے۔
رات کھانے کے بعد ٹی وی کھولا تو ایک عورت رو رہی تھی۔ دل میں خیال آیا، عورت کتنی خوش نصیب ہے کہ آنسو بہا کر اپنا دکھ ہلکا کر لیتی ہے۔ اور ایک میں ہوں... کاش میں بھی کسی کے کندھے سے لگ کر رو سکتا۔ اف، میری بےبَسی۔
یاد آیا، ایک دن خبروں میں سنا تھا کہ ایک شخص نے مہنگائی سے تنگ آ کر اپنی بیوی اور بچوں کو زہر دے دیا اور خود بھی زندگی ختم کر لی۔ یہ سوچ کر دل اور بھی بھاری ہو گیا۔ کیا مجھے بھی ایسا ہی کر لینا چاہیے؟ یا میں صبر کرنے کی کوشش کروں، لیکن دل میں موجود یہ بے بسی کہاں جائے؟
دن بھر کے حالات، بچوں کی پریشانی، باس کی ناراضگی اور مالک مکان کی ٹوکنے والی باتیں ایک ساتھ ذہن پر ہلچل مچاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر طرف سے دباؤ ہے اور کوئی سننے والا نہیں۔ یہ احساس کہ انسان اپنی زندگی کے فیصلوں پر کم اور حالات پر زیادہ مجبور ہے، بے بسی کو اور بڑھا دیتا ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ کیا کبھی یہ حالات بدلیں گے؟ کیا میں کسی طرح اپنے بچوں کی خوشیوں کو محفوظ رکھ سکوں گا؟ رات کے اس سناٹے میں یہ سب سوالات دماغ پر طاری ہیں۔ اور اسی بے بسی میں انسان کو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کس طرف جائے، کس سے مدد مانگے، اور کس کے کندھے پر اپنا دکھ رکھے۔
اف، یہ بے بسی... یہ محسوس کرنا کہ کچھ بھی ہاتھ میں نہیں، صرف حالات کے رحم و کرم پر ہوں۔ لیکن دل کے اندر کہیں ایک چھوٹی سی امید بھی باقی ہے کہ کل کے دن بہتر ہو سکتے ہیں، اور حالات کچھ آسان ہو جائیں گے۔
ا ھی تحریر ہے۔ سادہ اور پر اثر ۔ یاسیت زیادہ ہے۔ تحریر میں کچھ امید کے پہلو ہوں تو اچھا ہے۔ معاشرے میں فرسٹریشن ویسے ہی بہت زیادہ ہے
ReplyDeleteجی بالکل درست فرمایا آپ نے
Delete