میرے خواب کیا ہوئے؟

میرے خواب کیا ہوئے! 

تحریر: ندا ہاشمی

کبھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں، تو لگتا ہے جیسے سامنے کوئی اور کھڑا ہو۔ چہرہ وہی ہے، لیکن آنکھوں میں روشنی باقی نہیں رہی۔ بال بکھرے ہوئے، چہرے پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ، اور ان آنکھوں میں ایسی اداسی جو شاید برسوں سے میرے اندر بسی ہوئی ہے۔ میں خود سے پوچھتی ہوں: "کہاں گئی وہ لڑکی جو خواب دیکھتی تھی؟"

وہ لڑکی جو اپنے لیے جیتی تھی، جو ہر چھوٹی بات پر ہنس پڑتی تھی، جس کی آنکھوں میں خواہشوں کا ایک جہان بسا تھا، جو اپنے لیے کچھ بننا چاہتی تھی۔ وہ جو زندگی کو صرف گزارنا نہیں، جینا چاہتی تھی۔ لیکن وہ لڑکی کہیں راستے میں ہی رہ گئی۔ شاید کسی دن کے کاموں میں، کسی رات کے سناٹے میں، کسی کے لیے چپ رہتے رہتے، یا کسی اور کی خوشی کے لیے اپنی خواہش کو دفن کرتے کرتے… وہ خود، خود سے دور ہو گئی۔

زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ وقت پر خاموش رہنا، قربانی دینا، ہر بات برداشت کرنا، اور سب کو خوش رکھنا۔ یہ سب سیکھ لیا… مگر خود کو کیسے سنبھالنا ہے، یہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ اب سب کی خوشی عزیز ہے، مگر اپنی خوشی کا کوئی مقام نہیں رہا۔ روز ایک سا معمول، ایک جیسا دن، اور ایک خالی پن جو ہر لمحہ ساتھ چلتا ہے۔

میں نے کبھی کسی سے شکوہ نہیں کیا  کیونکہ مجھے بچپن سے سکھایا گیا تھا کہ عورت کا اصل زیور صبر ہوتا ہے۔ مگر یہ صبر جب دل پر بوجھ بن جائے، تو خاموشی قید بن جاتی ہے… اور ایسی قید میں جیتے جیتے، عورت اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے ، بے آواز، بے نشان۔

آج جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے، "آپ کرتی کیا ہیں؟ میں جواب تو دے دیتی ہوں کہ میں ایک  “housewife” ہوں۔مگر ہمیشہ میرے ذہن میں یہ سوالات  ضرور آتے ہیں کہ میرے والدین نے اعلیٰ تعلیم کیوں دلوائی تھی اور کیا میرا یہی خواب تھا جو میں کر رہی ہوں؟ ان سوالات کا جواب میرے پاس کبھی نہیں ہوتا، بس ایک گہری خاموشی چھائی رہتی ہے جو اپنی جانب کھینچے جا رہی ہے۔

کاش کوئی ہو جو میری مسکان میں پوشیدہ اندوہ  پہچان سکے۔ جو سناٹے میں گونجتی میری چیخیں سن سکے۔ کوئی تو ہو جو یہ جان لے کہ جب عورت اپنے خوابوں کا گلا گھونٹتی ہے، تو وہ مر نہیں جاتی ،مگر وہ جی بھی نہیں پاتی۔

میرے خواب… جو کبھی میری پہچان تھے، اب صرف ایک دھندلی یاد کی مانند ہیں  میرے اندر کہیں کھو گئے ہیں۔ نہ وہ بولتے ہیں، نہ کچھ مانگتے ہیں، بس اندر کہیں سسکتے رہتے ہیں، گھٹ گھٹ کر ہر سانس کے ساتھ ۔

 کیا اِس خاتونِ خانہ کی طرح آپ کے بھی کچھ خواب تھے، جو پورے نہ ہو سکے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیے گا ، آپ کی رائے بے حد قیمتی ہے اسے ہم سے جدا نہ کیجئے گا 

  تحریر:ندا ہاشمی 


Comments

  1. اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھرداری کرنے والی خواتین تمام خواتین سے مقدس ہیں کیونکہ کہ وہ آنے والی نسلوں کی پرورش کر رہی ہیں، کسی بھی صاحب خانہ خاتون کو دلبرداشتہ ہو کر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ اپنی مخلوق پر اتنا ہو بوجھ ڈالتا ہے جتنا وہ برداشت کر سکیں اور یوں بھی ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. یہ بھی مردوں کا بچھایا جال ہے۔ اگر عورت میں صلاحیت ہو تو اسے حق ہے کہ وہ کام کرے

      Delete

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ