پھر آنکھیں بھیگ گئیں

پھر آنکھیں بھیگ گئیں 

آج پھر میری آنکھیں بھیگ گئیں۔

ظاہراً یہ ایک عام سا کاغذ ہے، مگر حقیقت میں یہ میری ساری دنیا ہے۔ اس پر کچھ یوں تحریر ہے:

"بیٹا"تم کیسے ہو؟؟؟

ویسے تو تم مہینے میں ایک بار ہی فون کرتے ہو، مگر وقت بہت محدود ہوتا ہے۔ میں تو تم سے گھنٹوں باتیں کرنا چاہتی ہوں… چاہتی ہوں کہ بس تم مجھ سے باتیں ہی کرتے رہو۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر تم پاس ہوتے تو میں اپنے دل کی ہر بات تم سے کہہ سکتی۔ لیکن تم دور ہو، اور فاصلے کا احساس ہر لمحہ دل پر بھاری پڑتا ہے۔

جب تمہاری بیٹی پیدا ہوئی، تو دیکھو، میں اُسے دیکھ بھی نہ سکی۔ تمہیں کیا معلوم، کتنا ارمان تھا کہ پوتی کو گود میں لوں، اُسے سُلاؤں۔ یاد ہے، ایک بار تم بہو اور پوتے کو پاکستان لائے تھے؟ اُس وقت تم کتنے کمزور ہوگئے تھے۔ پتا نہیں، تم اپنے کھانے کا خیال بھی رکھتے ہو یا نہیں۔ ہر لمحہ تمہارے خیال میں گزرتا ہے، اور یہ دوری کبھی کبھی دل کو بہت ستاتی ہے۔

آج احساس ہوا… دیکھو، کتنا مشکل ہے نا تمہارا آنا؟ تمہارے تایا کا بھی انتقال ہو گیا تھا، اور تم نہیں آ سکے۔ چھٹیاں نہیں مل رہی تھیں نا؟ اُس دن مجھے بہت افسوس ہوا تھا۔ دیکھو، کوئی شادی ہو یا میت، کتنا مشکل ہے نا تمہارا آنا۔ یہ دوری صرف فاصلے کی نہیں، بلکہ دل کی بھی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ تم قریب ہو، لیکن حالات کی دیواریں بہت اونچی ہیں۔

میں بھی کتنی پاگل ہوں… میں ہی تو ضد کرتی رہی تمہارے بابا سے کہ پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں، بیٹے کو باہر بھیج دیں۔ کتنے دن تمہارے بابا سے لڑائی رہی۔ پھر تم وہاں ایسے سیٹ ہو گئے کہ تمہارا ملنا ہی مشکل ہو گیا۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر وقت بدلتا، شاید ہم سب کچھ آسانی سے کر لیتے۔ لیکن اب جو ہوا، وہ سب یادیں بن گئی ہیں۔

پتا نہیں بیٹا، آج کل بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ تنہائی بھی کتنی بری چیز ہے۔ یہ لمحے کبھی کبھی دل کو بہت زیادہ دباؤ میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن تم شاید یہ بھی سوچ رہے ہو گے کہ آج کے موبائل کے دور میں بھی اماں خط لکھ رہی ہے… کیا کریں بیٹا، ہم پرانے زمانے کے لوگ ہیں۔ اب تو طبیعت بھی اتنی خراب ہے کہ لکھا بھی نہیں جا رہا۔ آگے کا خط میری پڑوسن دوست لکھ رہی ہے۔

تمہارے بغیر نہ جانے کتنے سال گزارے… بس اب انتظار نہیں ہو رہا۔ بس...   دل چاہتا ہے کہ تم پاس ہوتے، کہ میں تمہیں گلے لگا لیتی اور ہر درد بتا دیتی۔

مجھ سے آگے کا خط پڑھا نہیں جاتا۔اس سے آگے رُک جاتا ہوں۔ ہر بار یہیں آ کر رُک جاتا ہوں۔

مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ آخری وقت اماں کے ساتھ نہ تھا… اور وہ میرا انتظار ہی کرتی رہ گئی۔ یہ خط صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں کی آواز ہے، محبت کی چیخ ہے، اور انتظار کا درد ہے۔

کیا بیٹے کبھی ماں کے خط کو دوبارہ پڑھتے ہیں؟ یا بس بھیگتی آنکھیں ہی اُن کا جواب ہوتی ہیں؟ یہ سوال ہر ماں کے دل میں رہتا ہے، اور ہر بیٹے کے دل میں بھی، اگر وہ کبھی اپنی ماں کی  خاموش محبت کو سمجھ پائیں


Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ