انوکھے ماں باپ
میری شادی کو ابھی تین سال ہی ہوئے تھے کہ میرے ہاتھ میں ایک ننھی سی جان آگئی ۔یہ میرا دوسرا بیٹا تھا اس سے پہلے ایک بیٹا اور اس کے بعد ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی ، بڑے بیٹے نے اپنے وقت پر چلنا اور بولنا شروع کر دیا تھا ، جب وہ توتلی زبان میں بولتا، سوالات کرتا تو اس کی معصوم اداؤں سے گھر جگمگا اٹھتا ،سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی میرے دوسرے بیٹے نے بولنا شروع نہ کیا جب میری بیٹی نے پہل بار امی کہا تو مجھے اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ میرا دوسرا بیٹا جو بہن سے دو سال بڑا تھا، جس کو اب تک کافی باتیں سیکھ لینا چاہیں تھیں وہ ایک لفظ بھی نہ بولا پایا تھا۔ جب میں اس کا نام لے کر پکارتی تو وہ میری طرف متوجہ تک نہ ہوتا ۔ میں پریشان تھی ، مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ، نہ اس کے چہرے پر کوئی تاثر آتا اور نہ کوئی مسکراہٹ ، جیسے اس تک میری آواز پہنچ ہی نہ رہی ہو ، جیسے میں دیواروں سے باتیں کرتی رہی ہوں ۔یہ سب بڑا عجیب تھا اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے ؟
لوگوں نے طرح طرح کے دلاسے دئیے ، جیسے عموماً لڑکوں کا دیر
سے بولنا یا شرارت میں نہ بولنا ،مگر
ڈاکٹر تو کچھ اور ہی بتا رہا تھا ، جسے سن کر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی۔
یہ بچہ کوئی عام بچہ نہیں تھا ، بہت ہی خاص تھا ، سب بچوں سے الگ ،جس کی اپنی ہی
دنیا تھی جس میں وہ اکیلا تھا، وہ بول تو نہیں سکتا تھا لیکن اس کی
خاموشی نے ہمیں محسوس کرنا سکھا دیاتھا ۔ وہ دنیا
کی دوڑ میں شامل تو نہ ہو پایا مگر
اس کی ہلکی سی مسکراہٹ نے ہمیں زندگی کی اصل رفتار دکھا دی تھی۔
کبھی ایسا وقت بھی آجاتا کہ لوگ بچے کی منفرد حرکات محسوس کرتے تو ان کی حقارت سے بھری نظریں ہمیں ناگوار محسوس ہوتیں۔ ان کی نظروں میں حیرت ، ترس اور الجھن اور بعض اوقات طنز بھی دکھائی دیتا۔ کبھی کوئی طنزیہ مسکرا دیتا اور کبھی کسی کا تحقیری آمیز جملہ تیر بن کر جگر چیر جاتا اور ہمارا دل اندر ہی اندر ڈوب جاتا۔
لوگ نہیں جانتے تھے کہ اُن کی یہ باتیں ہماری روح کو
زخمی کرتی ہیں اور مندمل زخم ہرے کر جاتی ہیں، لیکن ہماری نظر میں بچے کی وہی منفرد حرکات زندگی کا اصل لطف
ہیں، وہی لمحات زندگی کا حاصل ہیں جن میں ہمارا بچہ معمولی سی خوشی سے جھوم اٹھتا
ہے۔
زندگی اس وقت اور مشکل ہو گئی جب ہمارے بچے کے خونی رشتہ
داروں، یہاں تک کہ سگے بہن بھائی بھی اسے کم تر جان کر اس بچے سے دور بھاگنے لگے ۔ کاش یہ سمجھ پاتے کہ
یہ معصوم خاموش ضرور ہے مگر اس میں ایک مکمل
کائنات چھپی ہوئی ہے، جس میں احساس، محبت اور وفاداری کے تمام رنگ موجود ہیں، جو
شاید کسی صحت مند انسان کو بھی حاصل نہیں ہوتے۔ کافی عرصہ ہم اندر ہی اندر جلتے
اور کڑتے رہے کہ آخر ہمارے بچے کا قصور کیا ہے، اس معصوم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟
ارے یہ تو اپنے جائز حق کے لئے بھی آواز نہیں اٹھا سکتا ، اپنا درد نہیں بتا سکتا، اپنی
چوٹ نہیں دکھا سکتا اور جب کبھی وہ بے بسی سے روتا تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کس طرح
اس کو سمجھا جائے، کیسے اس کی مدد کی جائے؟ لیکن لوگ یہ کبھی نہ سمجھ سکیں گے۔
اب تو ہمارا حال یہ ہے کہ زمانے کی تلخی نے سخت جان بنا دیا ہے ، دنیا والوں سے ہمیں
کوئی شکایت نہیں رہی کہ ہمارے بچے کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے یا اُس کے بارے
میں کیا بات ہو رہی ہے، شاید اب ہم اپنی اس حالت کو قبول کر چکے ہیں ، اسی لئے اب ہمیں
کسی کی پرواہ نہیں رہی ۔
ہم وہ انوکھے ماں باپ ہیں جو نہ تو اس جستجو میں ہیں کہ ہمارا بچہ اس دنیا میں کچھ بن جائے اور نہ ہی ہم اپنے بچے کے لئے مستقبل کے خواب بنتے ہیں ، یعنی نہ آج کا کوئی غم ہے، نہ کل کا کوئی خوف۔ بس اُس کا ہونا ہی ہمارے لئے کافی ہے ۔ وہ جو بھی ہے، جیسا بھی ہے”ہمارا ہے“۔
میرا خیال ہے کہ نہ یہ کوئی سزا ہے نا ہی آزمائش، یہ تو دراصل
چُنا جانا ہے، گویا اگر یہ سزا ہوتی تو ہم صرف تکلیف میں ہی رہتے لیکن یہاں تو ہر
لمحہ ایک نیا سبق اور خوشی کا ایک نیا احساس ہے اور اگر اسے آزمائش بھی مان لیا
جائے تو یقیناً یہ ہماری مقبول شدہ دعا”یا اللہ مجھے زندگی کا کوئی مقصد عطا فرما “کا ہی صلہ ہے ۔
آج جب ہمارا خاص بچہ ہمیں دیکھ کر مسکراتا ہے تو دل کہتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک خاص روح کی حفاظت کے لئے منتخب کر کے انوکھے والدین بنا دیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ، کیا دنیا کے لاکھوں خاص بچوں کے ماں باپ اس معاشرے کے لئے بھی انوکھے ہیں یا نہیں؟
تحریر:ندا ہاشمی
یہ موضوع ایسا ہے کہ تم اس پر بہت زیادہ لکھ سکتی ہو۔ اسی موضوع کو اپنا خاص موضوع بنا کر لوگوں کی اوئرنیس کے لئے مزید لکھو۔ چاہو تو کہانی کی صورت میں اپنی امی کی کہانی بھی لکھ ڈالو۔
ReplyDeleteشکریہ
Deleteبہت اچھی تحریر ہے
ReplyDeleteشکریہ پسند کرنے کے لیے
Delete