بیڈ نمبر 211


بیڈ نمبر 211



کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن میرا نام نہیں، میرا نمبر میری پہچان بن جائے گا۔ جسم کمزور ہے، مگر احساس ابھی زندہ ہے ۔ کبھی خوف آتا ہے کہ اگلی سانس میری ہوگی یا نہیں، کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی آ کر بس ایک بار کہہ دے، ،"آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔" دل کے اندر عجیب سا سکوت ہے، جیسے زندگی آہستہ آہستہ مجھ سے رخصت لے رہی ہو۔

میں بستر پر لیٹی، سوچوں میں گم ہوں۔ یہ کمرہ کتنا خاموش ہے۔ صرف آکسیجن مشین کی ہلکی ہلکی آواز، اور دیوار پر لگی گھڑی کی مسلسل ٹک ٹک۔ بس یہی باقی رہ گیا ہے۔ کبھی کبھار نرس یا وارڈ بوائے مجھے دیکھنے آ جاتے ہیں دوائیں دیتے ہیں درجہ حرارت نوٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں  ان کے لیے میں ایک مریضہ ہوں… بیڈ نمبر 211۔
مگر انھیں کیا معلوم کہ میں ایک مکمل زندگی تھی؟ انھیں صرف یہ نظر آتا ہے کہ میراجسم بےجان ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہی جسم ہر وقت اِدھر اُدھر دوڑا کرتا تھا۔ میں پورے گھر میں چہکتی پھرتی ۔ میرے ہاتھوں سے پکے کھانوں کی خوشبو مہکتی تھی۔ میں کسی کی بیٹی تھی، بیوی تھی، ماں تھی۔ میں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں پیار بانٹا، چھوٹے چھوٹے خوشیوں کے لمحات جمع کیے، ہمیشہ دوسروں کے لیے جیتی رہی اور آج، میں صرف بیڈ نمبر 211 ہوں۔

اب میں ایک فائل بن چکی ہوں جس میں بلڈ پریشر، شوگر اور سانسوں کا حساب رکھا جاتا ہے۔   ڈاکٹروں کی نظریں میری رپورٹوں پر ہوتی ہیں مجھ پر نہیں ہاں میرے بچے ملنے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، دوائیں بھجواتے ہیں۔ روز فروٹ اور ڈرائی فروٹ آتا ہے۔ کبھی نہ آ سکیں تو فون یا ویڈیو کال کر لیتے ہیں۔ مگر دل تو چاہتا ہے کہ وہ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہیں۔ میرا ماتھا سہلائیں… جیسے میں نے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کی نیند کے خوف کو دور کیا تھا۔ جب بیمار ہوتے تو میں رات بھر جاگ جاگ کر پٹیاں رکھتی۔ میں چاہتی ہوں جیسے میں نے ان کے لیے کیا، ویسا ہی وہ بھی میرے لیے کریں۔  میں بھی کتنی نادان ہوں… بچوں جیسا سوچ رہی ہوں۔ بچے اب شادی شدہ ہیں، ان کی اپنی زندگیاں ہیں۔ ہر ایک کے دن بھر کے کام، اپنی خوشیاں اور اپنی مصروفیات ہیں۔ نہیں، مجھے ان سے کوئی شکوہ نہیں… وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہی میرے لیے کافی ہے۔ مگر دل کا ایک چھوٹا سا حصہ چاہتا ہے کہ وہ کبھی کبھی مجھے اپنے بازو میں تھام لیں، جیسے میں نے کیا تھا۔

میں نے ہمیشہ اپنی سوچ کو مثبت رکھا، مگر نہ جانے کیوں آج یہ وقت اور لمحے بہت بھاری لگ رہے ہیں۔ ہر گھنٹہ، ہر لمحہ ایک دھات کی طرح دل پر بیٹھتا ہے۔ اب تو بس اتنا جانتی ہوں کہ میں بیڈ نمبر 211 ہوں۔ کیونکہ یہاں سب مجھے اسی نام سے بلاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت تھم سا گیا ہے، اور میں گن رہی ہوں اپنی سانسیں، اپنی خاموشی، اور وہ لمحے جو کبھی صرف میرے تھے۔

وقت کی سچائی یہی ہے: میں بیڈ نمبر 211 ہوں۔ شاید اگلے سال یہ بیڈ کسی اور کا ہو گا، اور میری یادیں ان دیواروں میں قید ہو جائیں گی۔ مگر یہ یادیں، یہ چھوٹے چھوٹے لمحے، میری زندگی کے سب سے قیمتی حصے، ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہیں گے۔

تحریر: ندا ہاشمی


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ