چھوٹے ہاتھ بڑے بوجھ

چھوٹے ہاتھ بڑے بوجھ 

( کچھ بوجھ ہاتھوں پر نہیں دل پر ہوتے ہیں اور وہ بہت بھاری ہوتے ہیں )

ناصر آج بھی حسبِ معمول دفتر سے تھکا ہارا سیدھا اُس چھوٹے سے ہوٹل پر آ نکلا۔ یہ ہوٹل شہر کے کسی کونے میں چھپی ایک پرسکون پناہ گاہ جیسا تھا، جہاں کی خوشبودار اور ذائقے سے بھرپور چائے ہر آنے والے کے دل کو چھو لیتی تھی۔ ناصر کا معمول تھا کہ دن بھر کی مشقت اور ذہنی الجھنوں کے بعد وہ یہیں چلا آتا۔ ہوٹل کی ہلکی روشنی، برتنوں کی کھنک اور چائے کے اُبلتے قلقلاتے ہوئے برتن گویا اُس کے لئے سکون کا مرہم بن جاتے۔

وہ ہمیشہ اپنی مخصوص میز پر جا بیٹھتا، موبائل ایک طرف رکھ دیتا اور لمحہ بھر کے لیے خود کو دنیا کے شور سے کاٹ لیتا مگر آج کا دن  عام دنوں سے مختلف تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ایک چھوٹا سا بچہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ گیارہ برس کا معصوم، جس کے تن پر پرانے،  جگہ جگہ پیوند لگے کپڑے تھے اور پاؤں میں گھسی ہوئی چپل۔  

مگر آنکھوں  میں عجیب سی معصومیت لیے ننھے ہاتھوں میں ٹرے تھامے وہ ادب سے بولا   


"صاحب، یہ رہی آپ کی گرم چائے۔"

ناصر نے کپ تھاما تو دل پر ایک نامعلوم سا بوجھ اتر آیا۔ وہ چند لمحے تک بچے کو دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے ہوٹل کے مالک سے پوچھا:

"یہ نیا بچہ کون ہے؟"

ہوٹل کے مالک نے بے نیازی  سے جواب دیا 

"آج ہی رکھا ہے صاحب… حالات کے مارے ہیں۔ گھر چلانے کے لیے یہ بھی مزدوری کرے گا۔ ہم نے تو بس ترس کھا کے رکھ لیا ہے۔"

ناصر کے دل میں عجیب سی خلش اتر گئی۔ اس نے سوچا:

"میں کیا کر سکتا ہوں؟ خود میری اپنی کمر ٹوٹی ہوئی ہے مہنگائی کے بوجھ سے۔ بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، گھر کا کرایہ… سب میرے کندھوں پر ہیں۔"

۔چائے کی خوشبو آج بھی وہی تھی، مگر ذائقے میں ایک ان دیکھی تلخی گھل گئی تھی۔ کپ ختم کرکے ناصر نے جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور بچے کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ وہی نوٹ… جو اکثر وہ بڑے ہوٹلوں میں ویٹر کو ٹِپ کے طور پر دیا کرتا تھا۔

بچہ خوشی سے کھلکھلا اُٹھا، مگر ناصر کے دل میں ایک اور سوال جاگزیں ہوگیا:

"کیا یہ چند نوٹ اس کا مستقبل بدل سکتے ہیں؟ کیا یہ اس کے مسلوب بچپن کو لوٹا سکتے ہیں؟ نہیں… یہ تو محض لمحہ بھر کی خوشی ہے۔ باقی تو اس کی معصوم زندگی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ہی دبتی رہے گی۔"

ناصر ہوٹل سے اٹھا اور گھر کی طرف چل دیا۔ مگر اس کے قدموں کے ساتھ ساتھ وہ ننھے ہاتھ بھی اس کی یادوں پر نقش ہوگئے وہ ننھے ہاتھ، جو کتابیں   تھامنے کے  بجائے ٹرے تھامے، زمانے کے بڑے بوجھ تلے لرز رہے تھے۔۔ 

"کچھ بوجھ کندھوں پر نہیں، دل پر اُٹھائے جاتے ہی  , وہ  سب سے بھاری ہوتے  ہیں   آج ناصر وہی بوجھ اٹھائے  گھر  کو گیا

 کیونکہ وہ بھی کیا کر سکتا تھا سوائے احساس کے

 دنیا کو سوچنا ہوگا… کہ ان بچوں کے کندھوں پر رکھا  بوجھ دراصل ہماری خاموشی کی وجہ سے ہے "

تحریر: ندا ہاشمی


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ