بارش کے بعد

 بارش کے بعد

بارش نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ گھنٹوں تک برسنے والی بارش نے ہر گلی، ہر سڑک اور ہر گھر کو ایک نئے رنگ میں ڈھال دیا۔ بادلوں کی گرج، ٹھنڈی ہوائیں اور بے شمار قطاروں میں پڑنے والی بوندیں کہیں سکون دیتی تھیں تو کہیں پریشانی کا سبب بھی بن رہی تھیں۔ مسلسل برسات نے جہاں زمین کو سیراب کیا، وہیں انسانوں کے لیے کئی مشکلات پیدا ہوئیں، اور شہر کا نظام چند ہی لمحوں میں بکھر کر رہ گیا۔

بارش کے دنوں کا نقصان:

ان بارش کے دنوں میں ہزاروں گھروں کا سامان خراب ہوگیا۔ چھتوں سے ٹپکتے پانی نے لوگوں کے کمرے، فرنیچر اور ضروری اشیاء کو برباد کر دیا۔ نچلی بستیوں میں تو لوگوں کے کچن، کمرے، بیڈ اور پورا فرش تک پانی میں ڈوب گیا۔ کئی گھروں میں فرنیچر پھول کر خراب ہو گیا، برقی آلات میں شارٹ سرکٹ ہو گیا، اور بچے ہوئے برتن، کپڑے، بستر سب کچھ پانی میں بھیگ کر بےکار ہو گیا۔

"یقین مانیں، اونچے اور اچھے گھروں میں بھی ہم نے دیکھا کہ پانی گھٹنوں تک بھر آیا۔ وہ مکان جو ہمیشہ محفوظ سمجھے جاتے تھے، آج بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔ دیواروں میں نمی، فرش میں پھسلن اور ہر طرف گندگی لوگوں کے لیے یہ مناظر دل توڑنے والے تھے۔"

روزانہ مزدوری کرنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ نہ وہ کام پر جا سکے، نہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکے۔ کچھ گھروں میں تو دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوگیا۔ بارش نے ان کے لیے صرف مشکل ہی نہیں، بلکہ فکر اور بے چینی کی ایک طویل رات بھی ساتھ لائی۔

تعلیم اور روزگار پر اثر:

بچوں کی تعلیم بھی بُری طرح متاثر ہوئی۔ اسکول بند رہے، امتحانات قریب تھے، مگر تیاری کا وقت ضائع ہو گیا۔ والدین کی پریشانی دوگنی تھی؛ ایک طرف گھر کا نقصان، دوسری طرف بچوں کے مستقبل کی فکر۔ کئی بچوں کی کتابیں اور اسکول بیگز بھی پانی میں خراب ہوگئے۔

شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ ٹریفک جام رہا، گاڑیاں پانی میں بند ہو گئیں، لوگ گھنٹوں بارش رُکنے کا انتظار کرتے رہے۔ بجلی کا بار بار غائب ہونا شہریوں کے لیے مزید آزمائش بن گیا۔ کہیں ٹرانسفارمر پھٹ گئے، کہیں تار ٹوٹ کر گرے۔

اس بارش نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ ہمارا سسٹم کتنی جلدی دباؤ میں آ جاتا ہے، اور تھوڑی سی مشکل میں پورا شہر رک جاتا ہے۔

بارش کے بعد کا منظر:

جب بادل چھٹے اور سورج نے ہلکی کرنیں زمین پر بکھیرنی شروع کیں تو لوگوں نے سکون کی ایک لمبی سانس لی۔ بچے خوشی سے باہر نکلے، عورتوں نے گھر کا گیلہ سامان دھوپ میں ڈالنا شروع کیا، مزدور اپنے اوزار اٹھا کر نئے روزگار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

زمین کی مہک، بھیگی مٹی کی خوشبو اور پرندوں کی چہچہاہٹ نے ماحول کو کچھ لمحوں کے لیے خوبصورت بنا دیا۔ لیکن یہ سکون مکمل نہیں تھا۔ گھروں میں جو فرنیچر، کپڑے اور ضروری چیزیں خراب ہوئیں، ان کا دکھ اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں واضح تھا۔ کئی جگہوں پر پانی تو اتر گیا، مگر کیچڑ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند نالیاں اور گندگی اب بھی لوگوں کی آزمائش بنی ہوئی ہیں۔

مزدور اب بھی روزگار کے انتظار میں ہیں۔ بارش میں جو ان کا نقصان ہوا، اس کا اثر ان کے پورے ماہ کے بجٹ پر پڑا ہے۔ بچے کھیل تو رہے ہیں، مگر والدین کو فکر ہے کہ ضائع ہونے والے تعلیمی دنوں کی تلافی کیسے ہوگی۔

ایک ادھورا سکون:

یوں لگتا ہے کہ بارش کے بعد نکلی دھوپ نے چہروں پر تھوڑی روشنی تو لوٹا دی ہے، مگر دلوں کے اندھیرے ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ لوگ آئینے میں خود کو دیکھ کر ایک مطمئن سانس لیتے ہیں، مگر یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل سکون تب آئے گا جب گھر دوبارہ سنبھل جائیں، مزدوری بحال ہو جائے، اور بچوں کا تعلیمی سفر دوبارہ صحیح رُخ پر چل سکے۔

بارش نے شہر کو خوبصورت بھی بنایا، مگر بہت کچھ چھین بھی لیا۔ اب لوگ صرف اسی امید پر ہیں کہ آنے والے دن بہتر ہوں گے، اور یہ آزمائش کا دور جلد ختم ہو جائے گا۔

تحریر: ندا ہاشمی

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ