چھپے ہوئے غم
چھپے ہوئے غم
دیکھو، گھر نہ بس سکا! کتنا اچھا لڑکا تھا، خوبرو، اپنا گھر تھا، ساری سہولتیں بھی موجود تھیں۔ شادی کو ڈیڑھ سال ہی تو ہوئے تھے، مگر رشتہ ٹوٹ گیا۔ لوگ میری دوست کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے اور میں بھی یہی سوچتی کہ بظاہر اس کا شوہر بڑا خیال رکھنے والا لگتا تھا۔ ہمیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تناؤ ہے۔ پھر ناجانے ایسا کیا ہوا کہ اچانک سب کچھ ختم ہوگیا میں یہی سوچ رہی تھی کہ اچانک ڈوربیل بجی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہی دوست سامنے کھڑی تھی۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، میں اُسی کے بارے میں سوچ رہی تھی اور وہ سامنے آگئی، چہرے پر تھکن تھی، آنکھوں کے نیچے ہلکی سی سیاہی نمایاں تھی، لیکن مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا: "اندر آنے کو نہیں کہو گی؟" میں نے جلدی سے کہا: "ہاں ہاں، آؤ اندر۔"
ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے چائے آئی اور باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اچانک اس نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا: "تم بھی مجھے قصور وار سمجھتی ہو نا؟" میں چونک گئی میں نے پوچھا: "کس بات پر؟"
وہ آہستہ سے بولی: "خلع والے معاملے پر۔" پھر اس نے اپنی کتابِ زندگی کے وہ صفحات کھول دیے جنہیں اب تک کسی نے نہ پڑھا تھا۔ وہ کہنے لگی: "میں نے اُسے پسند کیا تھا، مگر چند دن کی ملاقات اور پوری زندگی کے ساتھ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سب کے سامنے وہ اچھا بنا رہتا تھا، لیکن درحقیقت وہ ایک سخت مزاج، تنگ دل شکّی اور بیمار سوچ رکھنے والا شخص تھا۔ ہر وقت یہ ڈر کہ نہ جانے اُسے کس بات پر غصہ آجائے۔ ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا، میرا فون چیک کرنا، باہر جانے کی اجازت نہ دینا، حتیٰ کہ ماں کے گھر جانے پر بھی پابندی لگانا۔ وہ جسمانی اذیت تو نہیں دیتا تھا، مگر ذہنی طور پر میں روز گھائل ہوتی تھی۔ میری روح تک رخمی ہو گئی تھی جب اُس نے مجھے اپنے چھوٹے بھائی سے منسلک کر دیا تھا۔ تمہیں نہیں پتا میں نے کتنی مشکل سے اس سے جان چھڑائی ہے۔"
میں خاموشی سے سنتی رہی۔ چائے ختم ہوگئی، شام ڈھل گئی، اور وہ چلی گئی۔ اس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔ سوچتی رہی کہ وہ خود کو کتنا مظلوم سمجھتی ہے لیکن کیا درحقیقت وہ آزاد ہو گئی، کیا وہ لوگوں کے طنز اور طعنوں سے بھی آزاد ہو گئی کیا عورت کی زندگی اتنی آسان ہے
ایسی عورتیں بھی تو ہیں جو کبھی اپنی اولاد کی خاطر، کبھی بوڑھے بیمار ماں باپ کی خاطر اور کبھی معاشرے کے خوف سے خاموشی سے زندگی گزار دیتی ہیں۔ کچھ تو اس اندیشے میں بھی چپ رہتی ہیں کہ اگر اپنے گھر واپس لوٹ گئیں تو کہیں اُن کے والدین کی سانسیں صدمے سے ہی نہ تھم جائیں۔ کچھ عورتوں کے پاس تو جانے کا کوئی راستہ ہی نہیں، نہ کوئی سہارا، نہ کوئی ساتھی۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ خاموش ہیں، اور اس خاموشی کو ہی زندگی کا ہتھیار بنا کر گزارہ کر رہی ہیں۔
لبوں پر مسکراہٹ لئے، غمِ دل چھپائے ہوئے
Very nice
ReplyDeleteThanks dear
DeleteEXCELLENT...good job
ReplyDeleteنواز ش شکریہ
Delete