مصلحت
مصلحت
زندگی بظاہر ہر نعمت سے آراستہ تھی۔ سائمہ کے گرد محبت کا حصار تھا،دنیا کی تمام آسائشوں سے اس کا گھر بھرا ہوا تھا اور اس کے شوہر کی شفقت اس کے وجود کو ڈھانپے رہتی تھی۔ باہر والوں کی آنکھوں کو یہ منظر مکمل دکھائی دیتا، جیسے کسی تصویر میں خوشی کے تمام رنگ بھر دیے گئے ہوں۔ مگر ان رنگوں کے بیچوں بیچ ایک ایسا خلا تھا جو کسی صورت پُر ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ایک ادھورا پن، جو ہر لمحہ اس کے دل کو اپنی یاد دہانی کراتا رہتا۔
دس برس بیت گئے اور امید کے دیے جلتے بجھتے رہے۔ سائمہ نے ہر در کھٹکھٹایا ڈاکٹروں کی فائلوں سے لے کر حکیموں کی جڑی بوٹیوں تک، بزرگوں کی دعاؤں سے لے کر مزاروں کی گرد تک۔ مگر ہر بار جواب وہی آیا گویا جیسے تقدیر میں گود کی محرومی کا فیصلہ لکھ دیا ہو ۔
لوگ اپنے اپنے مشورے لاتے۔ کوئی تعویذ، تو کوئی جمعرات کی حاضری کا ذکر کرتا۔ لیکن ان باتوں کے تیر اب اس کے دل کو کاٹنے لگے تھے۔ وہ ان سب راستوں پر چل کر دیکھ چکی تھی۔ اور اب یہ باتیں اس کی روح کو اور گہرا زخم دیتی
لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کے یہ بےساختہ جملے سائمہ کے دل کو اندر تک زخمی کر دیتے ہیں۔
ایسے میں اس کا واحد
سہارا اس کا شوہر تھا۔ وہ اکثر نرمی سے کہتا
"اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی، نااُمید مت ہونا۔ شاید انہی جملوں نے آج تک سائمہ کو سہارا دے رکھا تھا۔"
ایک دن وہ دعا کے بعد یوں روئی، اتنا روئی کہ جیسے برسوں کا دکھ آنسوؤں کی صورت بہہ نکلا ہو۔ آنکھوں کے سیلاب نے دل کے زخموں کو دھو ڈالا اور سینے کا بوجھ آہستہ آہستہ ہلکا ہونے لگا۔ جب وہ اللہ کے حضور رو کر فارغ ہوئی تو دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا، جیسے صبر کی چادر اس کے وجود پر تان دی گئی ہو۔
کچھ دن بعد خبر ملی کہ اس کے بھائی اور بھابی ڑمپر کے نتیجے آکر شدید زخمی ہوکر دم توڑ گئے حآدثہ اتنا خوفناک تھا کہ اس خبر نے اس کو غم سے نڈھال کر دیا مگر اس حادثے میں اس کی بھتیجی اللہ کے رحمت سے سلامت نکل آئی۔ دو سال کی وہ معصوم بچی اب اپنی پھو پھو کے پاس تھی۔
اس پل سائمہ کو یوں محسوس ہوا جیسے تقدیر کا پردہ ہٹ گیا ہو۔ آنکھوں کے سامنے وہ حقیقت کھل گئی جو برسوں سے اس کے دل کو تڑپاتی رہی تھی۔ بھائی اور بھابی کا غم اپنی جگہ تھا، لیکن اس بچی کی موجودگی میں اسے رب کی حکمت کا عکس دکھائی دیا۔
سائمہ نے بچی کو سینے سے
لگایا اور دل ہی دل میں کہا:
"شاید یہی اللہ کی مصلحت تھی... کہ مجھے ماں بنایا جائے، مگر اپنے بھائی بھا بی کی بیٹی کی پرورش کے ذریعے سے۔"
کبھی ہماری دعائیں اس انداز میں قبول نہیں ہوتیں جیسا ہم چاہتے ہیں، بلکہ اس انداز میں پوری کی جا تی ہیں جس میں ہماری بہتری چھپی ہوتی ہے
محرومی کے کرب اور انتظار
کی سولی پر لٹکنے کے بعد ہی تقدیر کے وہ در کھلتے ہیں جہاں رب اپنی رحمت کو نئے
روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ اور تب احساس ہوتا ہے کہ اصل سکون اپنی خواہش کے پورا ہونے
میں نہیں، بلکہ اس فیصلے کو ماننے میں ہے جو اللہ کی مصلحت کے ساتھ ہماری تقدیر
میں لکھا گیا ہوتا ہے۔
یوں اس کے خالی وجود کو
نئی معنویت مل گئی۔ اور وہ ادھورا پن جو برسوں سے اس کی روح کو کاٹتا رہا، اب مکمل
ہو گیا
اس پوری تحریر کو پڑھنے کے بعد اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا
Ma'a Sha Allah great work
ReplyDeleteThanks for comment
Deleteبہت خوب، بہترین سبق ❤️
ReplyDeleteشکریہ ثنا
Delete