بارش: خوشی یا خوف؟

 بارش: خوشی یا خوف؟



بچپن کی بارش خوشبو، سکون اور مسرت کی علامت تھی۔ صحنوں میں قہقہے گونجتے، چائے کے ساتھ  پکوڑوں کا انتظام ہوتا ،  بچے بھیگنے کی ضد کرتے اور مٹی کی خوشبو دل کو راحت دیتی۔ اُس وقت کی  بارش دعا کی قبولیت  اور  خوشی کا احساس دلاتی  تھی۔

مگر وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ وہی بادل جو خوشی کی نوید تھے، اب انجانی گھبراہٹ لاتے ہیں۔ وہی بوندیں جو زندگی سنوارتی تھیں، آج گھروں کی بنیادیں ہلانے لگتی ہیں۔ پہلے بارش کے برسنے کی دعائیں کی جاتی تھیں، اب اس کے تھمنے کی دعائیں کی جاتی ہیں۔


حالیہ موسلا دھار بارشوں نے ایک بار پھر نظام کی حقیقت آشکار کر دی۔ بڑے بڑے گھروں کے آنگن جھیلوں میں بدل گئے، گلیاں ندیوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ قیمتی کتابیں، فرنیچر اور برقی سامان پانی میں بہہ گیا۔ کاروبار اور مزدور طبقے کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ترقی کے نعروں کی حقیقت چند گھنٹوں کی بارش نے عیاں کر دی.

بارش اب بھی رحمت ہے، مگر ناقص منصوبہ بندی اور کمزور ڈھانچے نے اسے خوف میں بدل دیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے شہروں اور ماحول کو نہ سنبھالا تو آنے والی نسلیں بارش کو خوشی نہیں، صرف خوف کے نام سے یاد کریں گی۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ بارش کو خوف کے بجائے خوشی کا ذریعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ممکن ہے جب ہم اپنے شہروں کے نظام کو بہتر بنائیں اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیں۔

بارش اللہ کی رحمت ہے، اسے رحمت ہی رہنے دیں۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں بارش میں خوشی نہیں ڈھونڈیں گی بلکہ صرف نقصان اور خوف کو یاد رکھیں گی۔

"آپ کی زندگی میں بارش خوشی لائی ہے یا صرف پریشانی؟

نیچے کمنٹ میں اپنے تجربے ضرور شیئر کریں!"

تحریر:ندا ہاشمی 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ