خاموشی

خاموشی

ہوا کچھ یوں کہ تین دن سے ماسی کام پر نہیں آئی تھی اور میں دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی۔ جاب کے بعد گھر کے کام کا بوجھ میرے اعصاب پر سوار تھا، اس لیے بار بار سوچتی کہ آخر وہ کس بات کی تنخواہ لیتی ہے جب اتنی چھٹیاں کرتی ہے۔

ہمارے اردگرد ایسے مزدور اور محنت کش ہر روز نظر آتے ہیں جو غیروں کی آسائش کے لیے اپنی جان  گھُلا رہے ہوتے ہیں۔ وہ دھوپ اور بھوک سہہ کر بھی محنت کرتے ہیں تاکہ شام کو اپنے بچوں کے سامنے ایک روٹی رکھ سکیں۔ انہیں تنخواہ تو ملتی ہے، مگر یہ صرف خون، پسینے کی ہی نہیں بلکہ ان کی مجبوریوں کی بھی قیمت ہوتی ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کئی دفعہ یہ ملازمین خود کفالت کے باوجود اپنے گھروں میں سکون کے بجائے مزید زخم سہتے ہیں۔ یہ زخم دنیا کی نظروں سے تو چھُپ جاتے ہیں، مگر اُن کی خاموشی سب کچھ چیخ چیخ کر بتا دیتی ہے۔

 چوتھے  دن جب ماسی  دروازے پر کھڑی تھی تو میرا ارادہ یہ تھا کہ اسے خوب ڈانٹوں، مگر جیسے ہی اس نے سلام کیا، اس کی جھکی نظریں اور لرزتی آواز مجھے چونکا گئی ۔ وہ بار بار چہرے کو  دوپٹے سے  چھپا رہی تھی جیسے کوئی  راز چھپا  رہی ہو۔ لیکن راز ہمیشہ راز نہیں رہتے؟ ایک ہوا کا جھونکا آیا اور اس کا دوپٹہ کھسک گیا۔ میری آنکھیں بھر آئیں۔ اس کا چہرا زخمی تھا آنکھ کے نیچے نیل پڑا ہوا تھا، اور گال پر سرخ نشان جیسے کسی نے بار بار  مار  کر اپنا غصہ اُتارا ہو۔ ابھی تو میں نے صرف چہرہ دیکھا تھا،  نہ جانے جسم پر کتنے اور زخم ہوں گے، کتنی اور چوٹیں  ہوں گی؟میں سمجھ گئی تھی کہ کیا ہوا ہے، مگر میں خاموش ہی رہی اور وہ بھی۔۔۔۔۔

میں نے اسے مرہم دے کر کہا زخم پر لگا لے۔ دل چاہتا تھا کہ کچھ کہوں، لیکن میں اگر اس کے شوہر سے بات کرتی تو  وہ مجھے یہ کہہ کر خاموش کروادیتا کہ “ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔” میں نے اسے سمجھایا کہ اپنی جنگ خود لڑے، اپنے لیے خود اسٹینڈ لے۔اس طرح خاموش نہ رہے۔

اُس نے بس مدھم آواز میں کہا: “چھوڑو باجی، کوئی بات نہیں۔ مجھے تو اب عادت ہو گئی ہے۔ نہ میں اُسے چھوڑ سکتی ہوں، نہ کسی سے شکایت کر سکتی ہوں۔ میرے ماں باپ نہیں، میرا ہے ہی کون؟”

یہ سن کر میں خاموش ہوگئی۔ اُس کی مجبوریاں جیت گئیں اور میری ہمدردی  ہار گئی۔ صرف خاموشی ہی میرے پاس رہ گئی، ایسی خاموشی جو چیخ بن کر دل کو چیر گئی۔


میں سوچتی ہوں، آخر اس عورت کا قصور کیا ہے؟ وہ تو دن رات پسینہ بہا کر اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتی ہے۔ مگر اس کا شوہر، نشے میں ڈوبا ہوا، نہ صرف کمانے سے انکاری ہے بلکہ اُلٹا اُس سے پیسے نہ دینے پر اس پر ہاتھ بھی اٹھاتا ہے۔ کیسا انسان ہے وہ؟ یہ سب کچھ تو اس کی ذمہ داری تھی، مگر اس کے زور کا نشانہ صرف یہ کمزور عورت ہی بنتی ہے اور افسوس یہ کہ میں صرف 

خاموش تماشائی بنی رہی ۔

رات کے سناٹے میں اُس کی آنکھوں کا ورم اور چہرے پر پڑے نیل کے نشان مجھے نیند نہیں لینے دے رہے تھے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ صبح پھر جھاڑو لگائے گی، برتن مانجے گی، اور چولہے کی راکھ میں ہاتھ جلائے گی، مگر زبان پر شکوہ نہ لائے گی مگر ہاں اس کے ہونٹوں پر ایک تھکی ہوئی مسکراہٹ ضرور ہوگی، 

میں سوچتی ہوں… کیا اس کے حصے کی خاموشی ہمیشہ یونہی گونجتی رہے گی؟ یا کبھی وقت کے اندھیرے چھٹیں گے، اور اس کے لیے بھی کوئی روشن صبح اُترے گی؟  وہ یا میں بلکہ اس جیسی  تمام عورتیں ایسے ہی خاموش رہیں گی؟؟؟؟؟؟

   تحریر: ندا ہاشمی 



Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ