ایک فرشتہ جیسا انسان
🌿 ایک فرشتہ جیسا انسان
(ماسٹر جی کے نام)
آج صبح جب میں اپنے دفتر جانے کے لیے بیدار ہوا تو دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ رات بھر نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ آج میری ایک اہم میٹنگ تھی، جس کے لیے میں نے کئی دن سے تیاری کی تھی۔ میں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے، فائلیں سمیٹیں اور ناشتا کیا۔ اتنے میں فون بجا۔ نمبر پی۔ٹی۔سی۔ایل کا تھا۔ میں نے سوچا، شاید کوئی رونگ نمبر ہے، مگر جانے کیوں دل نے کہا "اُٹھا لو۔"
فون میرے گاؤں سے ایک پرانے دوست کا تھا۔ اُس کی آواز بھاری اور لرزتی ہوئی تھی۔ میں نے بس اتنا ہی سنا کہ اس کے بعد الفاظ میرے کانوں میں گونج بن گئے
"ماسٹر جی نہیں رہے..."
ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک گیا۔ دل جیسے ساکت ہو گیا۔ میں نے فائل نیچے پھینکی اور سب کچھ بھول کر گاؤں کے لیے نکل پڑا
گاؤں پہنچا تو وہی پرانا محلہ، وہی درخت، وہی راستے… مگر آج ان سب کے درمیان ایک خاموشی تھی۔ وہی صحن جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں، اب وہاں جنازہ رکھا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر دیکھا وہی چہرہ، وہی مسکراہٹ، مگر اب ایک ابدی سکون کے ساتھ۔یہ میرے ماسٹر جی تھے۔میں اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ دل چاہتا تھا چیخ کر روؤں، مگر آنکھوں کے آنسو بس بہتے جا رہے تھے۔ شاید میں آج اتنا رویا جتنا اپنے والد کے انتقال پر بھی نہیں رویا تھا۔ میرے سامنے وہ شخص لیٹا تھا جس نے میری زندگی بدل دی تھی۔
میرا بچپن غربت اور سختی میں گزرا۔ ابّا غصے کے تیز انسان تھے۔ امّی کے انتقال کے بعد تو جیسے ان کے اندر کی نرمی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔ وہ پھلوں کا ٹھیلا لگاتے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھتا اور سامنے والے اسکول کی دیوار کے قریب جا کر کوئی پرانی کتاب پڑھنے کی کوشش کرتا، جو میں کسی ردی سے اُٹھا لاتا۔ ماسٹر جی روز میرے ابا سے پھل خریدا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے مجھے کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا دیکھا تو مسکرا کر پوچھا،
"بیٹے، پڑھنے کا شوق ہے تمہیں؟
میں نے جھجکتے ہوئے کہا،
"جی ماسٹر جی۔"
ابّا نے فوراً بات کاٹ دی،
"صاحب جی ، ہم غریب لوگ ہیں۔ یہ کیا پڑھے گا؟ ہمارے گھر کا چولہا بڑی مشکل سے جلتا ہے۔ یہی ہمارے ساتھ پھل بیچے گا۔"
مگر ماسٹر جی خاموش نہ رہے۔ اگلے دن وہ دوبارہ آئے اور ابّا سے کہا،
اس بچے کو تم روز میرے گھر بھیج دیا کرو میں اس کو مزدوری بھی دوں گا اور پڑھاؤں گا بھی اب بتاؤ کیا کہتے ہو۔"
ابّا نے پہلے انکار کیا، پھر لمبی سانس لے کر بولے،
"اگر آپ اتنا اصرار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے ماسٹر جی "
یوں میری زندگی کا رخ بدل گیا۔
میں روز شام کو ماسٹر جی کے گھر جاتا۔ وہ نہ صرف مجھے پڑھاتے بلکہ ہر سبق کے ساتھ زندگی کے اصول بھی سکھاتے۔ وہ کہا کرتے تھے،
"بیٹا غریب پیدا ہونا برا نہیں لیکن غریب رہنا برا ہے اور انسان اگر محنت کرے تو کیا کچھ نہیں مل سکتا ۔" وقت گزرا، اور میں نے اُن کی رہنمائی میں گاؤں کے اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ مگر قسمت نے ایک بار پھر امتحان لیا۔ ابّا بیمار پڑ گئے، اور کچھ دن بعد وہ دنیا سے چلے گئے۔ میں بالکل اکیلا رہ گیا۔
اس وقت بھی ماسٹر جی نے میرا ہاتھ تھاما اورمجھے حوصلہ دیا انہوں نے کہا،
"بیٹا تمھارا درد سمجھ سکتا ہوں مگر خود کو اکیلا نہ سمجھنا جہاں یادیں زندہ رہتی ہیں وہاں جدائی نہیں ہوتی بس اپنے مستقبل کو سنوارنے میں لگے رہو ایک دن تمہارا ہوگا"
میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہو گیا۔
لیکن میرے گاؤں میں کوئی کالج نہیں تھا۔ تعلیم جاری رکھنے کے لیے مجھے شہر جانا پڑتا، مگر میرے پاس وسائل نہیں تھے۔ تب ماسٹر جی نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ میں نے اُن کے مشورے سے اپنا ایک کمرے کا چھوٹا سا گھر بیچ دیا اور شہر چلا آیا۔ وہاں میں نے سخت محنت کی، انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی، اور پھر اپنا کام شروع کیا۔
ابتدا میں حالات آسان نہیں تھے۔ کبھی سرمایہ ختم ہوتا، کبھی نقصان ہوتا، مگر میں ہر بار ماسٹر جی کے الفاظ یاد کرتا:
"گرنے سے ڈرنا نہیں، اُٹھنا سیکھنا اصل کامیابی ہے۔"
محنت اور استقامت کے نتیجے میں آج میں ایک کامیاب ایکسپورٹ امپورٹ بزنس مین ہوں۔ میرا اپنا دفتر ہے ، ایک اچھی زندگی ہے، عزت ہے۔ مگر آج، جب میں گاؤں واپس آیا، تو دل میں ایک ہی خلش تھی
کاش میں ماسٹر جی سے ایک بار مل لیتا، ان سے کہتا کہ جو کچھ میں ہوں، وہ انہی کی بدولت ہوں۔
میں اُن کی قبر کے قریب بیٹھا رہا۔ فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ اب بھی میرے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے آہستہ سے کہا،
"ماسٹر جی، آپ جیسے لوگ فرشتے ہوتے ہیں، جو انسانوں کے روپ میں آ کر دوسروں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔"
میرے آنسو خود بہہ نکلے۔ میں نے محسوس کیا جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ کچھ رشتے خون سے نہیں بنتے، بلکہ احساس اور قربت سے جڑ جاتے ہیں
🌸 ماسٹر جی نے مجھے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ جینے کا حوصلہ دیا۔
اگر وہ اس دن ابّا سے ضد نہ کرتے، تو آج میں بھی کسی گلی کے کونے پر ٹھیلا لگائے بیٹھا ہوتا۔
دنیا میں شاید ایسے لوگ کم رہ گئے ہیں جو دوسروں کی تقدیر بدلنے کے لیے تیار رہتےہیں ۔
اور آج، میں اُن کے لیے ایک ہی دعا کرتا ہوں
اللہ ماسٹر جی کو جنت کے سب سے اونچے درجے عطا کرے، ماسٹر جی۔ آپ واقعی میرے لیے فرشتہ تھے۔
Good 👍
ReplyDeleteThanks
Delete