خوابوں کی قیمت

  خوابوں کی قیمت 

صبح کے وقت امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی کی خوشبو سے آنکھ کھلنا میری زندگی کی سب سے خوبصورت عادت تھی۔ امی کی آواز کانوں میں گونجتی، "علی، اُٹھ جاؤ بیٹا،   کالج نہیں جانا آج"؟

میں میز پر آ کر بیٹھتا اور گرم کافی کے گھونٹ کے ساتھ دن کی شروعات کرتا۔ مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن یہی معمول میری زندگی کی سب سے بڑی کمی بن جائے گا۔

اب میں نیویارک یونیورسٹی میں بزنس اسٹڈیز کا طالبِ علم ہوں۔ یہ شہر خوبصورت ہے، روشن ہے، مگر سرد بھی ہے ایسا سرد کہ کبھی کبھی دل تک جم جاتا ہے۔ اب نہ امی کی آواز ہے، نہ ان کے ہاتھ کی کافی  ۔۔۔۔۔۔

اب صبح خود ہی آنکھ کھلتی ہے، خود ہی پانی گرم کرنا پڑتا ہے، خود ہی کپڑے دھونے ہوتے ہیں۔ کبھی گھر کے کاموں میں وقت نکل جاتا ہے، اور کبھی بس کے پیچھے بھاگتے ہوئے سانس پھول جاتی ہے۔

یہاں ہر دن ایک دوڑ ہے  اور جو پیچھے رہ جائے، وہ بھول جاتا ہے کہ خواب کیسے دیکھے جاتے ہیں۔

میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے کر رہتا ہوں۔ چھوٹا سا کمرہ، دو بیڈ، ایک چھوٹی کھڑکی اور ایک الیکٹرک کیتلی ۔۔۔۔۔۔ یہی ہماری دنیا ہے،رات کو دونوں اپنے اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں، کبھی پڑھتے ہوئے، کبھی بس خاموش۔۔۔۔

ہم دونوں ہنستے بھی ہیں، مگر دلوں میں ایک سا بوجھ ہے  گھر کی یاد اور ایک سکون جس کی تلاش اب نیویارک کی گلیوں میں کہیں کھو گئی ہے۔

میں روز یونیورسٹی جاتا ہوں۔

پروفیسرز کی تیز بولی، غیر مانوس لہجے، اور چہروں پر اجنبیت۔۔۔۔۔

کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میں ایک ہجوم میں بھی اکیلا ہوں۔

دن بھر کلاسز، اسائنمنٹس، اور پھر شام ہوتے ہی کیفے کی جاب

جہاں میں ویٹر کی جاب کرتا ہوں اور یہاں سب کو مسکرا کر "خوش آمدید" کہتا ہوں، چاہے دل اندر سے ٹوٹ رہا ہو۔

کبھی کبھی تھکن اتنی بڑھ جاتی ہے کہ امی کو فون تک نہیں کر پاتا پھر بس بستر پر گرتا ہوں، اور پتا ہی نہیں چلتا کب نیند آ جاتی ہے۔

پاکستان میں جب بھی کوئی کہتا تھا “باہر پڑھنے جا رہا ہوں”، تو دل خوشی سے بھر جاتا تھا۔ میں نے بھی یہی سوچا تھا  نیویارک جاؤں گا، ڈگری حاصل کروں گا، زندگی سیٹ ہو جائے گی۔ مگر یہاں آ کر سمجھ آیا کہ زندگی کسی کتاب کا آسان صفحہ نہیں، بلکہ ایک مشکل سبق ہے جسے روز دہرانا پڑتا ہے۔

یہاں ہر کامیابی پسینے، آنسو اور قربانی سے خریدی جاتی ہے۔

 آج کپڑوں کو استری کرتے ہوئے میرا ہاتھ جل گیا۔ ایک لمحے کو چیخ نکل گئی، مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ میرا دوست باہر گیا ہوا تھا۔ میں نے خود ہی مرہم لگایا ،لمحہ بھر کو آنکھوں میں آنسو آگئے  یاد آیا، جب گھر پر ہوتا تھا تو امی ذرا سی خراش پر بھی گھبرا جاتیں، فوراً دوڑ کر آتیں۔

مگر اب یہاں… خود ہی اپنی چوٹ پر مرہم لگانا پڑتا  ہے، خود ہی دل کو تسلی دینی پڑتی ہے

اب اس چہرے پر تھکن ہے، آنکھوں میں نیند کی کمی، مگر دل میں وہی خواب  ایک بہتر کل کا۔۔۔۔۔۔۔میں نے یہاں جینا سیکھا ہے، خود پر بھروسہ کرنا سیکھا ہے۔

اب کوئی ہاتھ تھامنے نہیں آتا، کوئی دروازہ خود نہیں کھلتا 

سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے، خود جھیلنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی کیفے میں بیٹھے خاندانوں کو دیکھتا ہوں 

وہ ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، اور میں بس ایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہوں۔مجھے بھی ان لوگوں کو دیکھ کر اپنے گھر والے اور پرانے دوست یاد آتے ہیں 

 آج امی سے مہینوں بعد بات ہوئی انھوں نے کہا:

“بیٹا، بس دل لگاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” بس یہ ہی سادے  سے جملے میرے وجود کو تسلی دیتے ہیں، جب نیویارک کی سرد ہوا میرے چہرے سے ٹکراتی ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ زندگی کا مطلب کیا ہے؟

کامیابی؟ ڈگری؟ پیسہ؟

یا وہ لمحہ جب تم خود کو گرنے سے بچا لو، جب تم اپنی کمزوری کو طاقت میں بدل دو؟

شاید یہی اصل جیت ہے وہ جیت جو کسی سند یا ٹرافی میں نہیں ملتی، بلکہ اندر کہیں خاموشی سے محسوس ہوتی ہے۔

میں یہ سب لکھ رہا ہوں تاکہ اگر کوئی نوجوان میری تحریر پڑھے، تو اسے پتا چلے کہ بیرون ملک تعلیم صرف خواب نہیں، ایک جنگ ہے۔

یہاں موسم نہیں، وقت بدلتا ہے۔

یہاں رشتے نہیں، ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔

یہاں ماں کی آواز نہیں، الارم کی گھنٹی جگاتی ہے اور یہاں کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو ہارنے کے بعد بھی اٹھ کر چلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

آج جب میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیویارک کی روشنیوں کو دیکھتا ہوں،

تو دل کہتا ہے  یہ شہر بے رحم ضرور ہے، مگر انصاف پسند بھی ہے۔ یہ محنت کا صلہ دیتا ہے، مگر انتظار کرواتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایک دن میں کامیاب ضرور ہوں گا، کیونکہ میں نے ہارنا چھوڑ دیا ہے۔میں وہی علی ہوں، جو کبھی امی کے ہاتھ کی کافی پیتا تھا۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب میں اپنی کافی خود بناتا ہوں اور ہر گھونٹ میں ایک نیا حوصلہ پیتا ہوں۔

💭آخر میں میرا  پیغام ان نوجوانوں کے لئے ہے جو بیرونی ملک آکر پڑھنا یا کوئی کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن میں یہ بات ضرور رکھے"

"خواب سستے نہیں ہوتے…

ان کی قیمت ہمیشہ محنت، تنہائی اور آنسوؤں میں چکانی پڑتی ہے۔"

تحریر:ندا ہاشمی 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ