چھوٹا چور
چھوٹا چور
میں نے ٹی وی پر ایک خبر دیکھی تین پولیس والے ایک میز کے سامنے بہت سارے موبائل قطار میں سجا کر بیٹھے تھے۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے، جب میں نے غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ پولیس نے ایک موبائل چور پکڑا تھا اور اس کے چوری والے موبائل میز پر سجاکر رکھے ہوئے تھے۔ اس کی عمر تقریباً 14 سال تھی۔ اس کی بس اتنی عزت رکھی گئی کہ اس کے منہ پر کپڑا ڈال دیا گیا تاکہ چہرہ نہ دکھے اور میڈیا والے تصویریں کھینچ رہےتھے مجھے یہ منظر دیکھ کر اندر سے بے چینی ہوئی۔ میں خود یوٹیوب چینل چلاتا ہوں اور ایسی خبروں کی ضرورت مجھے بھی رہتی ہے، مگر اس دفعہ میری دلچسپی چینل کو پروموٹ کرنے میں نہیں تھی میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیا مجبوریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ چور بنا ؟؟؟؟؟؟
بس پھر میں نے معلومات لی کہ وہ کس جیل میں ہے۔ پھر اپنا موبائل، قلم اور نوٹ بک لے کر اندر گیا۔ پولیس والوں نے مجھے اس بچے سے ملنے کی اجازت تو دے دی مگر بہت مشکلوں سے خیر، مجھے اُس بچےکی آپ بیتی سننی تھی۔ میں نے نام وغیرہ پوچھا، پھر سیدھا مدّے پر آگیا:
"تم موبائل چور کیوں بنے؟" اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے پھر کہا:
"تمہاری تو پڑھنے کی عمر ہے، یا اگر تمہارا حالات اجازت نہیں دیتے تھے تو کم از کم محنت مزدوری کر لیتے، مگر تم تو چور بن گئے۔" اس پر وہ فوراً بولا: “صاحب جی، ہم لوگ بہت غریب ہیں۔ میرا ابا اس دنیا میں نہیں ہے میری ماں بیوہ ہے اور گھر گھر کام کرتی ہے۔ میرے بعد چار بہن بھائی اور ہیں۔ گھر والوں کو ایک وقت کا کھانابھی بمشکل سے ملتا صاحب! کبھی تو ایک روٹی کے ہی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے آپس میں بانٹنے پڑتے تھے پیٹ بھر کر کھانا کبھی کبھار نصیب ہوتا اور کبھی تو یہ بھی نصیب نہیں ہوتا تھا صاحب جی میں نے مزدوری بھی کی تھی مگر خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر پاتا تھا بعض دفعہ تو بہوش ہوکر گر جاتا تھا۔ حالات اس قدر برے ہوگئے تھے پھر ایک دوست نے مشورہ دیا کہ موبائل چوری کرنے پر ہزاروں روپے مل جاتے ہیں مجھے پتہ تھا کہ یہ غلط کام ہے مگر میں مجبور ہوگیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں اس کام میں پڑ گیا، بس تجربہ نہ ہو نے کی وجہ سے پکڑا گیا۔"
جب میں نے اس کا حال سنا تو میں نے اپنے آنسو بہت مہارت سے چھپالیے ۔ میں نے مزید پوچھا لیکن اب تمہارا کیا بنے گا؟ کیا پتہ کہ جیل میں سالوں قید ہو جاؤ ۔ اس نے کہا کہ جیل میں کم از کم روٹی تو مل جائے گی صاحب جی مگر گھر والوں کی فکر ہے کہ ان کو کھانا ملے گا کہ نہیں اس کی یہ بات میرے دل کو لگ گئی اور آج میں نے پہلی بار غربت کا سبق سنا میں اداس ہو گیا اور گھر واپس آگیا اور سوچا کہ ہمیں چور سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ تم نے سامان کہاں چھپایا، ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ چور بننے کی وجہ کیا تھی؟ بڑے بڑے چور جو لوگوں کا حق کھا جاتے ہیں پکڑے نہیں جاتے، مگر چھوٹے چور فوراً دکھا دیے جاتے ہیں۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اس بچے کی بے بسی کو اپنے چینل کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کروں گا ۔ میں نے کوشش کی اور آخرکار اس بچے کو جیل سے باہر نکلوانے میں کامیاب ہو گیا اس کے لیے ریستوران میں ویٹر کی نوکری بھی ڈھونڈ لی۔ اس سے وعدہ لیا کہ وہ ایمانداری سے محنت کرے گا اللہ خود برکت دے گا اور دوبارہ چوری نہیں کرے گا
یہ واقعہ مجھے آج بھی ہلا دیتا ہے۔ سزا دینا ضروری ہے، مگر اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ ہم مجبوریوں کی جڑوں کو سمجھیں اور کم از کم ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کریں تاکہ ایک بھوکا بچہ چور نہ بنے۔
تحریر: ندا ہاشمی
Comments
Post a Comment