کتابوں کی دکان(تین دن بندریے گی)
کتابوں کی دکان :
(دکان تین دن تک بند رہے گی)
کتابوں کی دکان پر لگا ہوا ایک چھوٹا سا نوٹس مجھے اس دن بہت بے چین کر گیا۔ اس پر لکھا تھا
“دکان تین دن تک بند رہے گی۔”
پڑھتے ہی دل میں عجیب سی گھبراہٹ اتر آئی، کیونکہ یہ دکان تو ہمیشہ کھلی رہتی تھی، چاہے اتوار ہو یا کوئی تہوار۔ میں برسوں سے اس راستے سے گزرتی تھی، اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ دکان کبھی بند ملی ہو۔
جب میں اسکول جاتی تھی تو یہ دکان میرے روزانہ کے راستے کا حصہ تھی۔ مجھے اور میری دوستوں کو جب بھی پنسل، ربڑ، شارپنر یا کاپی کی ضرورت پڑتی، ہم اسی دکان کا رُخ کرتے۔ دکان کے مالک ضیا انکل نہایت نرم دل اور شریف انسان تھے۔ ان کی دکان ہمیشہ صاف ستھری، تہذیب سے بھری اور ترتیب کا نمونہ ہوتی۔ کاپیاں ایک طرف سجی ہوتیں، رنگین پنسلوں کے ڈبے الگ رکھے ہوتے، اور جیومیٹری باکس اس طرح ترتیب سے رکھے ہوتے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جائے۔ شاید ہی کوئی بچہ ہوتا جس کا وہاں سے کچھ خریدنے کو دل نہ چاہتا ہو۔
ہم روزانہ سلام کرتے اور وہ جتنے بھی مصروف ہوں، بڑی محبت سے جواب دیتے۔ ان کے انداز میں ایک خاص ملائمت تھی، جو بہت کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ اس لیے جب دکان کا نوٹس دیکھا تو دل میں فوراً سوال اٹھا کہ ایسی کیا بات ہوگئی کہ ضیا انکل نے تین دن کے لیے دکان بند کر دی؟
ہمیں ان کا گھر نہیں معلوم تھا، نہ ہی ہم میں سے کسی کی ہمت ہوتی کہ پاس والی دکانوں سے پوچھ لیں۔ بس ایک انجانی سی فکر تھی جو تین دن تک ساتھ رہی۔
چوتھے دن جب دکان دوبارہ کھلی تو میں فوراً کسی نہ کسی بہانے وہاں پہنچ گئی۔ دکان میں کچھ گاہک موجود تھے، اور ضیا انکل باری باری ان سے بات کر رہے تھے۔ ان کی آواز میں وہ معمول والی گرمجوشی نہیں تھی۔ میں جیسے ہی قریب ہوئی، میں نے انہیں کہتے سنا:
"اللہ کی امانت تھی… اس نے واپس لے لی"
ایک بزرگ نے ان سے حیرت پوچھا، " یہ سب کیسے ہوا؟" میں وہاں دونوں کی گفتگو سن رہی تھی
ضیا انکل نے گہری سانس لے کر بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے دو دوستوں کے ساتھ امتحانات کے بعد پکنک پر گیا تھا۔ سب خوش تھے، ضیا انکل نے بھی اجازت دے دی تھی کہ بچے کچھ وقت سمندر کے کنارے گزار آئیں۔ مگر قسمت نے انہیں ایک ایسا موڑ دکھایا جس کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ تیز لہروں نے تینوں بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور جب ریسکیو ٹیم پہنچی تو تینوں کی لاشیں پانی سے نکالیں گئیں۔ یہ خبر سن کر میں ساکت ہوگئ۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی وہ جس صبر سے یہ بات کر رہے تھے، وہ ناقابلِ بیان تھا۔ جوان بیٹے کا جنازہ اٹھانا… میں نے صرف سوچا تو ہی دل بھر آیا۔ ان کے دکھ کی گہرائی کا تصور بھی ممکن نہ تھا ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ انھوں نے میری طرف دیکھا اور نرم لہجے میں پوچھا، "بیٹا، کیا چاہیے؟"
میں تو جیسے گونگی ہو گئی۔ نویں جماعت کی ایک لڑکی کیا کہتی اس وقت؟ زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ میں نے بمشکل کہا،
"انکل… بھول گئی کہ کیا لینے آئی تھی۔"
انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، ایسی مسکراہٹ جو اندر کے ٹوٹے ہوئے دل کو چھپانے کی آخری کوشش ہوتی ہے۔ میں آہستہ سے باہر نکل آئی۔ اسکول پہنچ کر میں نے ساری بات اپنی دوستوں کو سنائی۔ سب خاموش ہو گئیں۔ ہم نے مل کر ان کے بیٹے کے لیے فاتحہ پڑھی، اور کافی دیر تک کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی اور بات کرے۔
وقت گزرتا گیا۔ اسکول ختم ہوا، پھر کالج، پھر زندگی اپنے معمول میں واپس آگئی۔ کچھ سال بعد جب میں اس علاقے میں گئی تو دیکھا کہ ضیا انکل کی دکان پر اب راشن کی دکان تھی۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے دکان بیچ دی اور کہیں اور چلے گئے۔ کہاں؟ کسی کو نہیں پتہ۔
لیکن ان کی یاد، ان کا اخلاق، ان کا صبر یہ آج بھی دل میں تازہ ہے۔ کچھ لوگ واقعی دلوں میں نقش چھوڑ جاتے ہیں، اور ضیا انکل انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کا چہرہ، ان کی مسکراہٹ، اور وہ دن… سب آج بھی یاد ہے۔
اکثر میں سوچتی ہوں کہ جب ہمیں ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن خبروں میں کسی کے پیارے بچھڑ جاتے ہیں، ہم دو سیکنڈ افسوس کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں۔
لیکن جن گھروں پر وہ سانحہ گزرتا ہے… ان کے لیے زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔
سمندر کی موجیں، جو ایک لمحہ خوشی دیتی ہیں، دوسرے ہی لمحے کسی کا سب کچھ چھین لیتی ہیں۔ حادثے لمحے کے مہمان ہوتے ہیں، مگر ان کے زخم عمروں تک رہتے ہیں۔
ضیا انکل کی کہانی میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہے گی، شاید اس لیے کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا یہ زندگی کی بےثباتی، انسان کی کمزوری اور صبر کی وسعت کا درس تھا۔ ایک ایسا سبق جو میں آج بھی نہیں بھولی۔
آپ لوگوں کو بتاتی چلوں کہ یہ سچا واقعہ ہے آپ لوگ اپنی قیمتی رائے ضرور شیئر کریں
Sometimes life can be very hard, Allah Kareem
ReplyDeleteTrue
Delete