نا پاک برتن

ناپاک برتن 

روز صبح فجر کی نماز کے بعد میری ایک مستقل روٹین ہے۔ میں بالکنی میں کھڑی ہو کر طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھتی ہوں۔ صبح کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا ہے۔ آسمان پر پرندے اپنی زبان میں اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہوتے ہیں، کچھ لوگ واک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور فضا میں ایک خاموشی اور تازگی ہوتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد اسکول کے بچے اپنے والدین کے ساتھ وین کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آٹھ بج جاتے ہیں۔ 


اسی دوران میری نظر ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو قدرے میلے کپڑے پہنے، ہاتھ میں لمبا سا ڈنڈا لیے ہوتے ہیں جس کے نیچے جھاڑو لگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ جھاڑو لگانے سے تھوڑی بہت دھول مٹی اڑتی ہے، مگر کچھ ہی دیر میں پوری سڑک صاف ہو جاتی ہے۔

ایک دن میں نے کچرا اٹھانے والے کو کچرےکا ڈبہ دیا۔ اس نے کہا، “باجی، پانی پلا دو۔” میں نے اسے پانی دیا تو اس نے منع کر دیا اور بولا، “باجی، میں شیشے کے گلاس میں نہیں پیوں گا۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “کیوں؟ یہ گلاس تو صاف ہے۔”

اس نے آہستگی سے کہا، “بات صفائی کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ ایسے گلاس میں پانی دیتے ہیں جو وہ خود استعمال نہیں کرتے۔ پلاسٹک کے پرانے سے گلاس میں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا منہ لگ جائے تو گلاس ناپاک ہو جائے گا۔ کچھ لوگوں نے تو ہمارے لیے الگ ہی برتن بنا رکھے ہوتے ہیں اور آپ ہمیں شیشے کے گلاس میں پانی دے رہی ہیں، یہ تو مہمانوں کے لیے ہوتے ہیں۔”

میں اس کی باتیں سنتی ہی رہ گئی۔ کچھ دیر بعد میں نے کہا، “تم اسی میں پی لو، کچھ نہیں ہوتا۔ کسی انسان کے منہ لگانے سے کوئی برتن ناپاک نہیں ہو جاتا۔ یہ سب لوگوں کی فضول سوچ ہے۔” میں نے پورے اعتماد کے ساتھ بات کی اور اسی گلاس میں اسے پانی پلایا۔ مگر اس کی باتوں نے میرا دل اداس کر دیا۔

میں سوچتی رہی کہ کوئی اپنے منہ سے یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میرے منہ لگانے سے برتن ناپاک ہو جائے گا۔ پتہ نہیں اس سے پہلے اس کے ساتھ کس کس نے کیا کیا سلوک کیا ہوگا، یا اس نے کیا کچھ محسوس کیا ہوگا کہ اس نے ایسی بات کہی۔ اس کے جانے کے بعد بھی اس کی باتیں دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہیں۔

ویسے تو ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کہ کچرے والا وہ نہیں، کچرا والے  ہم ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھ کر عجیب سا منہ بنا لیتے ہیں اور خود ہی دور ہٹ جاتے ہیں۔ ہمیں کچرا اٹھانے والا اور اس کے پاس رکھا ہوا بڑا سا ڈبہ، جس میں وہ کچرا جمع کرتا ہے، ناگوار لگتا ہے۔ ہم اس کے قریب سے گزرنا بھی پسند نہیں کرتے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو اس کام کے پیسے ملتے ہیں۔ مگر ایک بات بتائیے، ہم میں سے کون ہے جو یہ کام کر سکتا ہے؟ کیا ہم خود یہ کام کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام بہت بڑا اور مشکل ہے، جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔تو  پھر ہمیں ان لوگوں کی عزت کرنی چاہیے۔

ہوٹل میں ویٹر ہمیں کھانا لا کر دیتا ہے تو ہم اس سے کبھی نہیں پوچھتے کہ تمہارے ہاتھ پاک ہیں یا نہیں۔ بغیر سوال کیے ہم اس کے ہاتھوں سے کھانا لے کر مزے سے کھاتے ہیں۔ مگر کچرا اٹھانے والے کو ہم اپنے برتن میں پانی پلانے سے گھبراتے ہیں کہ کہیں برتن ناپاک نہ ہو جائے۔

یہ سب اپنی اپنی سوچ کی بات ہوتی ہے۔

آخر میں یہ ہی کہوں گی کہ انسان کی عزت اس کا پیشہ دیکھ کر نہیں کریں اس لیے کریں کہ وہ انسان ہیں اور  ایسے انسان جو ہماری زندگی کو صاف، آسان اور قابلِ رہائش بناتے ہیں، وہ ہمارے احترام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ برتن ناپاک نہیں ہوتے، دل ناپاک ہو جاتے ہیں اور دل کی صفائی ہی اصل پاکیزگی ہے۔

آپ لوگوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟؟؟

تحریر:ندا ہاشمی 

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ