وقت

 وقت



کہتے ہیں کائنات میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے۔ سورج اپنی روشنی جس تیزی سے زمین اور دوسرے سیاروں تک پہنچاتا ہے، وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس وسیع کائنات کا ہر نظام ایک خاص ترتیب اور حساب کے ساتھ چل رہا ہے، جیسے کسی نے ہر لمحے کو ناپ تول کر اس کے حصے مقرر کر دیے ہوں۔

انسان نے ترقی کی لمبی منزلیں طے کر لی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، مشکل کام لمحوں میں ہو جاتے ہیں، مگر ایک حقیقت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی صدیوں پہلے تھی۔ انسان وقت کی رفتار کو نہ روک سکا ہے اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے موڑ سکا ہے۔

وقت ایک خاموش مسافر ہے جو کبھی رکتا نہیں۔ وہ کسی کے انتظار میں ٹھہرتا نہیں اور نہ ہی مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے۔ انسان چاہے جتنی کوشش کر لے، گزرے ہوئے لمحوں کو واپس نہیں لا سکتا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی لمحے میں کی گئی اپنی غلطی کو اس وقت غلطی نہیں سمجھتے۔ مگر جب وقت آگے بڑھ جاتا ہے اور شعور کی آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ لمحہ واپس آ جاتا اور ہم اسے بدل سکتے۔ مگر وقت کا دروازہ ایک بار بند ہو جائے تو پھر کبھی نہیں کھلتا۔

کیا انسان وقت کو روک سکتا ہے؟ کیا وہ اسے اپنے قابو میں کر سکتا ہے؟ نہیں۔ وقت ہمیشہ اپنی ہی رفتار سے چلتا ہے۔ انسان کے بس میں صرف اتنا ہے کہ وہ اس کے ساتھ چلنا سیکھ لے۔

زندگی کے سفر میں کتنے ہی زمانے گزر جاتے ہیں۔ ہر دور اپنے اندر بے شمار احساسات، تجربات اور یادیں سمیٹے ہوتا ہے۔ گزرے ہوئے وقت کی ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ بظاہر تو چلا جاتا ہے، مگر اپنی یادیں انسان کے دل میں چھوڑ جاتا ہے۔

طوفان بھی ایک وقت کے بعد تھم جاتا ہے، مگر یادوں کا طوفان اکثر نہیں تھمتا۔ ان یادوں میں کہیں خوشیوں کی ہلکی سی روشنی ہوتی ہے اور کہیں غم کی گہری پرچھائیاں۔ یہی یادیں ہمیں ماضی سے جوڑے رکھتی ہیں اور شاید یہی ہمیں وقت کی اصل قدر بھی سکھاتی ہیں۔

وقت خاموشی سے گزرتا رہتا ہے، مگر اپنے پیچھے کہانیاں چھوڑ جاتا ہے  ایسی کہانیاں جنہیں انسان چاہ کر بھی کبھی بھلا نہیں پاتا۔

تحریر: ندا ہاشمی 

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ