معاف کر دو!

 معاف کر دو !

یہ صرف تین لفظ ہیں، مگر کبھی کبھی ان تین لفظوں کا وزن انسان کے دل پر پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔

ہم اکثر ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلا تا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ، “معاف کر دو۔”

ہم میں سے کچھ نظر چرا لیتے ہیں، کچھ خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر آج میں ان الفاظ کو کسی اور معنی میں یاد کر رہی ہوں۔

زندگی میں بھی اکثر یہی تین لفظ سننے کو ملتے ہیں  “معاف کر دو”۔

لوگ کہتے ہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی ہو جاتی ہے، دل بڑا رکھو اور معاف کر دو۔

بعض اوقات ہم خود بھی یہی کہتے ہیں کہ “معاف کر دو، کیونکہ غلطی تو ہم سے بھی ہو سکتی ہے۔”

لیکن زندگی کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر یہ تین لفظ مرہم نہیں بن پاتے۔

اگر کسی کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو شاید وہ واپس مل جائے۔

اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو اس کا ہرجانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔

مگر جو خوشیاں کسی کے دل سے چھین لی جائیں…

جو خواب کسی کی وجہ سے آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں…

جو سکون کسی کی زندگی سے چھین لیا جائے…

ان کا ازالہ کون کر سکتا ہے؟

انسان مال واپس کر سکتا ہے، قرض چکا سکتا ہے، مگر کسی کے دل کی ٹوٹی ہوئی دنیا واپس نہیں لا سکتا۔

پھر بھی دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو معاف کر دیتے ہیں۔

وہ اس لیے نہیں کہ درد ختم ہو جاتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے دل کو نفرت کے بوجھ سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر خاموش رہتے ہیں، مگر ان کے دل کے کسی کونے میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

کیا واقعی ہر زخم معافی سے بھر سکتا ہے؟

کیا ہر دکھ کو صرف ایک جملہ کہہ کر مٹا دیا جا سکتا ہے؟

شاید نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات معاف کرنا سب سے مشکل فیصلہ ہوتا ہے۔

یہ الفاظ زبان سے ادا کرنا آسان ہے، مگر دل سے قبول کرنا بہت مشکل۔

اب میں آپ سے ایک سوال پوچھتی ہوں…

کیا آپ نے بھی اُن لوگوں کو معاف کر دیا ہے جنہوں نے آپ کی زندگی کی خوشیاں چھین لی تھیں؟

تحریر: ندا جہاں تاب

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ