گناہ گار

 گناہ گار

ایک شبانہ تھی، جس کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ وہ روز طعنے سنتی تھی کہ ایک بیٹا بھی نہ جن سکی۔ ایک سارہ تھی، جو نوکری کرتی تھی، خودمختار بھی تھی، مگر اسے یہ سننا پڑتا تھا کہ جو عورت باہر کام کرے وہ گھر اچھی طرح نہیں سنبھال سکتی۔ بس اسی طرح کی باتیں وہ روز سنتی تھی۔ ایک نازیہ تھی، جس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ جب سے وہ آئی ہے، اس کے شوہر کی نوکری ختم ہو گئی۔ ایک اور “گناہ گار” عورت کی کہانی سن لیں اس کا نام عالیہ تھا، اس نے تو حد ہی کر دی، اپنے شوہر کو الگ گھر لے گئی، اور شوہر کو “جورو کا غلام” کا لقب مل گیا۔ ارے ہاں، ایک نایاب  بھی تھی، جس کی شادی کو دس سال ہو گئے مگر بچہ نہ ہوا، تو اسے “بانجھ” کا تمغہ دے دیا گیا۔

آپ نے ابھی صرف چند ہی “گناہ گار” عورتوں کی کہانیاں سنی ہیں، ابھی تو اور بھی بہت سی کہانیاں باقی ہیں، مگر آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ویسے تو یہ سب نام فرضی ہیں، مگر یہ کہانیاں سچی ہیں۔ کہیں نہ کہیں یہاں عورت کو ہی قصوروار ثابت کیا جاتا ہے۔ یہاں “گناہ گار” کا لفظ اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے باقاعدہ سزا دی جاتی ہے اور یہ سزا مار پیٹ نہیں ہوتی، بلکہ باتوں، طعنوں اور طنز کی صورت میں ہوتی ہے، جو کسی بھی تشدد سے زیادہ اذیت ناک  ہے۔ ایسے زخم شاید کبھی نہیں بھرتے۔ بولنے والے تو اپنی بات کہہ دیتے ہیں، مگر سننے والے کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ تیر کہاں لگا ہے۔

کہیں نہ کہیں عورت ہی عورت کے ساتھ یہ ظلم کر رہی ہوتی ہے۔ شاید ماضی میں اس کے ساتھ جو ہوا، وہی وہ آگے بڑھا دیتی ہے۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے، مگر آج بھی ایسی سوچ رکھنے والے ذہن موجود ہیں۔

آپ کاکیا خیال ہے اس بارے میں؟؟؟؟؟

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ