ہائے میرا بیٹا

 ہائے میرا بیٹا…

ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو جب میں تجھے لوری سنا کر سلایا کرتی تھی، اور تو ضد کر کے سونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ تب دل میں ایک ہی خیال آتا تھا کہ تُو ہماری امیدوں کا چراغ ہے، ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ سوچتی تھی، جب تیرے بابا اپنی مزدوری سے تھک کر ایک دن گھر  بیٹھ جائیں گے، تو تُو اس گھر کا کفیل بنے گا، ہمارا سہارا  بنے گا۔ شاید اسی لیے لوگ بیٹے کی خواہش کرتے ہیں…

مجھے آج بھی تیرا وہ پہلا دن یاد ہے جب تُو اسکول گیا تھا۔ اُس دن میں بہت روئی تھی… آج سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے کہ آخر رونا کیسا؟ بس چند گھنٹوں کی ہی تو جدائی تھی، مگر میرے لیے وہ لمحے بھی بہت بھاری تھے، کیونکہ تُو ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہنے والا بچہ تھا۔

پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ تُو کب بڑا ہو گیا، کب دسویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ تیری ہر کامیابی کے ساتھ ہماری امیدیں بھی بڑھتی گئیں۔ تُو ہماری واحد اولاد تھا، اس لیے تجھ سے جڑی ہر خوشی، ہر خواب اور بھی قیمتی تھا۔ تجھے اپنے قد سے اونچا دیکھ کر جو خوشی ملتی تھی، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔

بیٹا، جب تُو کبھی ناراض ہوتا تھا تو مجھ سے کھانا بھی نہیں کھایا جاتا تھا۔ مگر ایک کمی مجھ میں ضرور تھی… میں اپنی ممتا کا اظہار کبھی ٹھیک سے نہ کر سکی، اور شاید تُو یہی سمجھتا رہا کہ ماں کو کوئی پروا نہیں۔

تجھے فوج میں جانے کا شوق تھا… اور تُو نے اپنا یہ خواب بھی پورا   کر لیا۔ آج بھی سوچتی ہوں کہ تُو نے وہ سب  مرحلے فزیکل ٹیسٹ، میڈیکل ٹیسٹ اور انٹرویو  کیسے عبور کیے ہوں گے۔ شاید تُو بہت خوش ہوگا، لیکن مجھے تو پہلے ہی یقین تھا کہ میرا بیٹا سپاہی بنے گا۔ میں تو تیری غیر موجودگی میں گاؤں کی عورتوں سے فخر سے کہتی پھرتی تھی کہ “میرا بیٹا سپاہی بنے گا”۔ جب تُو چھٹی پر گھر آتا تھا تو پورا گاؤں تجھے دیکھ کر خوش ہوتا، کیونکہ ہمارے گاؤں میں تُو ہی وہ بیٹا تھا جو یہاں تک پہنچا تھا۔

لیکن جب تُو کئی کئی دن گھر واپس نہ آتا تو دل گھٹنے لگتا تھا۔ اور جب تُو آتا… تو میں تیرے پسند کے کھانے بناتی، اور تُو بھی بڑے شوق سے کھاتا۔ پھر اچانک ڈیوٹی کا بلاوا آتا اور تُو فوراً چلا جاتا… اور میں پھر اداس ہو جاتی۔

مگر ایک تسلی ہوتی تھی کہ تُو واپس آئے گا…

لیکن آج…

آج میرے ہاتھ میں تیرے کپڑے اور تیری گھڑی ہے… اور آنکھوں سے آنسو بھی نہیں نکل رہے۔ شاید صدمہ اتنا گہرا ہے کہ آنسو بھی راستہ بھول گئے ہیں۔ دل اندر سے جیسے ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔

آج مجھ سے کچھ کہا بھی نہیں جا رہا… وہ فخر، وہ خوشی، وہ میرا گھر گھر جا کر بتانا  سب کہاں چلا گیا؟

لیکن ایک بات آج بھی ویسی ہی ہے… میرا غرور۔

آج بھی ہے… بلکہ پہلے سے زیادہ ہے۔

کیونکہ میرا بیٹا… شہید ہو گیا ہے۔ اپنے وطن کے لیے۔

مجھے تجھ پر ناز ہے، میرا بیٹا…

مگر اس ممتا کو کیسے سمجھاؤں کہ تُو اللہ کی امانت تھا… اور اُس نے اپنی امانت واپس لے لی۔


تحریر  : ندا ہاشمی 

Comments

Popular posts from this blog

سوشل میڈیا کا جادو

کچھ نہ کہہ سکا

مکان کا حصہ