میرا ساتھی
میرا ساتھی ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر ہم اپنی زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...