Posts

میرا ساتھی

میرا ساتھی  ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا  ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر  ہم  اپنی   زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...

کچھ نہ کہہ سکا

Image
 عنوان: کچھ نہ کہہ سکّا وہ کتنی چلبلی تھی… چہرے پر شرارت، آنکھوں میں شوخی، اور بات کرتے وقت ایسا لگتا تھا جیسے ہر جملہ کسی رنگین تتلی کی طرح اس کے ہونٹوں سے اڑ کر فضا میں بکھر رہا ہو۔ جینز پہنتی، اس پر رنگ برنگی کرتی، لمبی ہِیل والی سینڈلز، اور چہرہ… ہمیشہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا۔ میں آج بھی وہ دن نہیں بھولا جب یونیورسٹی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا، ماسٹرز کی تکمیل قریب تھی، اور مجھے ’’بیسٹ اسٹوڈنٹ‘‘ کا ایوارڈ ملا تھا۔  اسٹیج سے نیچے اترا تو سب سے پہلے وہ ہی آئی تھی سائرہ۔ اس کی خوشی مجھ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا، “ناصر، بہت بہت مبارک ہو!” اور بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اس کے نزدیک یہ عام سی بات تھی، وہ ایسی ہی تھی۔ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کے ساتھ وہ ایسے ہی پیش آتی ہم پانچ دوستوں کا گروپ تھا تین لڑکے، دو لڑکیاں مگر سائرہ کی بات ہی الگ تھی۔ میں پڑھائی میں ڈوبا رہنے والا لڑکا تھا۔ کتابیں، نوٹس، لائبریری… بس یہی میرا جہان تھا  مگر وہ جیسے ہی آکر بیٹھتی، میں کتاب بند کر دیتا، چاہے امتحان سر پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی باتوں میں ایک عجیب سی زندگی تھی۔ وہ بولتی رہتی...

گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ

Image
 گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ   (بچوں، گھروں اور روزمرہ زندگی کا بڑا مسئلہ): ہمارے ملک میں سردی کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلے جس چیز کی کمی شدید محسوس ہوتی ہے، وہ ہے گھریلو گیس۔ یہ مسئلہ آج کل اتنا بڑھ چکا ہے کہ صبح کے وقت چولہے جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ گھر جہاں اسکول جانے والے بچے ہیں، وہاں صبح کا وقت ایک دوڑ جیسا بن جاتا ہے۔ بچوں کو ساڑھے چھ بجے اٹھانا، نہلانا، تیار کرنا اور ناشتہ کروانا والدین کی روزمرہ ذمہ داری ہے، مگر جب گھر میں گیس ہی نہ ہو تو یہ سب محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے بچوں کا اسکول بھوکے جانا  ایک سنگین حقیقت: آج کل ہزاروں بچے صرف اس لیے ناشتہ نہیں کر پاتے کہ گھروں میں صبح گیس نہیں آتی اور  جن بچوں کی وین یا اسکول بس عموماً 7:15 پر آجاتی ہے، اور اس سے پہلے والدین کے پاس وقت تو ہوتا ہے، لیکن گیس نہیں ہوتی۔ نتیجہ؟  بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھوکے پیٹ پڑھنا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ بچے دورانِ دن چڑچڑے، تھکے ہوئے اور غیر توجہی محسوس کرتے ہیں۔  یہ وقت وہ ہے جب ان کا دماغ تازہ غذا کا سب سے زیادہ محتاج ہوتا ہے، او...

مکان کا حصہ

Image
مکان کا حصہ  "آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…" یہ جملےمیرےکانوں  میں  مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے  چھوٹے بھائی عمر  کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا   تھا۔ مگر ایک دن  کے حادثے  نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔ گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا  ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر  نے بھی دیا، لیکن...

صحت بخش غذائیں

Image
  صحت بخش غذائیں:  (آسان اور روزمرہ کی رہنمائی) آج کے مصروف اور تیز زندگی میں صحت مند رہنا سب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ فاسٹ فوڈ، مصروفیت اور کم ورزش کی وجہ سے ہم اپنی صحت پر دھیان نہیں دے پاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کا سب سے بڑا راز کھانے میں ہے۔ صحیح اور متوازن غذا نہ صرف جسم کو توانائی دیتی ہے بلکہ دماغ، جلد، دل اور ہاضمہ بھی بہتر رکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کھانے پینے کی چیزیں جو روزانہ زندگی میں شامل کر کے ہم اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ۱ ) پھل  کی نعمت: پھل ہمیشہ سے صحت مند غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں جو جسم کو اندر سے مضبوط رکھتے ہیں۔ سیب : ایک سیب روزانہ جسم کو صاف اور توانائی بخشتا ہے۔ کیلا : فوری توانائی کے لیے بہترین ہے۔ مالٹا، امرود، کنو : وٹامن سی سے بھرپور، جلد اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہیں  بیریز : اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزانہ کوئی بھی ایک  پھل کھانے سے آپ کی صحت میں واضح فرق آئے گا ۲ ) سبزیاں  کو کھانے کا حصہ بنائی...

کتابوں کی دکان(تین دن بندریے گی)

Image
کتابوں کی دکان  : ( دکان تین دن تک بند رہے گی )  کتابوں کی دکان پر لگا ہوا ایک چھوٹا سا نوٹس مجھے اس دن بہت بے چین کر گیا۔ اس پر لکھا تھا “دکان تین دن تک بند رہے گی۔” پڑھتے ہی دل میں عجیب سی گھبراہٹ اتر آئی، کیونکہ یہ دکان تو ہمیشہ کھلی رہتی تھی، چاہے اتوار ہو یا کوئی تہوار۔ میں برسوں سے اس راستے سے گزرتی تھی، اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ دکان کبھی بند ملی ہو۔ جب میں اسکول جاتی تھی تو یہ دکان میرے روزانہ کے راستے کا حصہ تھی۔ مجھے اور میری دوستوں کو جب بھی پنسل، ربڑ، شارپنر یا کاپی کی ضرورت پڑتی، ہم اسی دکان کا رُخ کرتے۔ دکان کے مالک ضیا انکل نہایت نرم دل اور شریف انسان تھے۔ ان کی دکان ہمیشہ صاف ستھری، تہذیب سے بھری اور ترتیب کا نمونہ ہوتی۔ کاپیاں ایک طرف سجی ہوتیں، رنگین پنسلوں کے ڈبے الگ رکھے ہوتے، اور جیومیٹری باکس اس طرح ترتیب سے رکھے ہوتے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جائے۔ شاید ہی کوئی بچہ ہوتا جس کا وہاں سے کچھ خریدنے کو دل نہ چاہتا ہو۔ ہم روزانہ سلام کرتے اور وہ جتنے بھی مصروف ہوں، بڑی محبت سے جواب دیتے۔ ان کے انداز میں ایک خاص ملائمت تھی، جو بہت کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ اس لیے ...

ستاروں کا علم

Image
  ستاروں کا علم (آغاز سے آج تک) رات کے پچھلے پہر ایک شخص ساحل کنارے کھڑا ٹکٹکی باندھ کےآسمان تک رہا تھا۔ ستاروں کا سمندر اپنی روشنی سے ذہن کی کھڑکیاں کھول رہا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا: آخر یہ ستارے کیسے روشن ہیں؟ ان میں یہ توانائی کہاں سے آئی ؟ کیا یہ آسمان پر لٹکتے دیے   ہماری زندگی سے کچھ تعلق رکھتے ہیں یا صرف خوبصورتی کے لیے ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی اور پر اسرار مقصد پوشیدہ ہے؟ یہی سوالات اُس کے ذہن میں گھوم رہےتھے اور اسی جستجو نے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ گویا یہیں سے ستاروں کا علم شروع ہوا۔ زمانئے قدیم میں ستاروں کے علم کی بنیاد انسان نے سب سے پہلے آسمان کو وقت ، سمت اور موسم جاننے کے لیے استعمال کیا۔ بابلی لوگ ستاروں کی حرکت کو نوٹ کرتے اور مٹی کی تختیوں پر لکھتے۔ ان کے نزدیک آسمان ایک کتاب تھی۔ وہ ستاروں کی مدد سے موسم اور زراعت کا حساب لگاتے۔ مصری لوگ اہرام کو ستاروں کی سمت کے مطابق بناتے۔ سورج اور چاند سے وقت معلوم کرتے۔ دریائے نیل کے کنارے کھڑے کسان ستاروں کی روشنی سے بیج بوتے۔ چینی لوگ آسمان میں تبدیلی کو بادشا...