Posts

نا پاک برتن

Image
ناپاک برتن  روز صبح فجر کی نماز کے بعد میری ایک مستقل روٹین ہے۔ میں بالکنی میں کھڑی ہو کر طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھتی ہوں۔ صبح کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا ہے۔ آسمان پر پرندے اپنی زبان میں اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہوتے ہیں، کچھ لوگ واک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور فضا میں ایک خاموشی اور تازگی ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد اسکول کے بچے اپنے والدین کے ساتھ وین کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آٹھ بج جاتے ہیں۔  اسی دوران میری نظر ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو قدرے میلے کپڑے پہنے، ہاتھ میں لمبا سا ڈنڈا لیے ہوتے ہیں جس کے نیچے جھاڑو لگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ جھاڑو لگانے سے تھوڑی بہت دھول مٹی اڑتی ہے، مگر کچھ ہی دیر میں پوری سڑک صاف ہو جاتی ہے۔ ایک دن میں نے کچرا اٹھانے والے کو کچرےکا ڈبہ دیا۔ اس نے کہا، “باجی، پانی پلا دو۔” میں نے اسے پانی دیا تو اس نے منع کر دیا اور بولا، “باجی، میں شیشے کے گلاس میں نہیں پیوں گا۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “کیوں؟ یہ گلاس تو صاف ہے۔” اس نے آہستگی سے کہا، “بات صفائی کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ ایسے گلاس میں پ...

دسمبر کی شادیاں

Image
  دسمبر کی شادیاں بھئی ویسے تو ہم خود بھی دسمبر کی پیدائش ہیں ، مگر یہ دسمبر تو جیسے شادیوں کا باقاعدہ سیزن ہی بن چکا ہے۔ جدھر دیکھو، شادی ہی شادی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ شادی نہ کریں، مگر بیچارے اور بھی تو مہینے ہیں جو برسوں سے منتظر ہیں۔ ان مہینوں کا کیا قصور ہے؟ ویسے بھی کراچی میں سردی کا تو نام ہی بدنام ہے، مگر مان لیتے ہیں، تھوڑی بہت ہوتی تو ہے۔ اب اگر وہ بھی شادیوں میں ہی دن گزار دے تو ہم رضائی اوڑھ کر کب سوئیں گے؟ پھر کیا پتا سردی کب آئی اور کب چلی گئی۔  خیر، بات تو ہم شادیوں ہی کی کر رہے تھے۔ بچپن میں تو ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہوتا تھا۔ شادیاں ہمارے لیے بس ایک چھوٹی سی خوشی ہوتی تھیں۔ خوشی بھی ایسی کہ اچھے کپڑے پہننے کو مل جائیں گے یا کولڈ ڈرنک ملے گی، اور جتنا دل چاہے پی لو۔ اور پہلے تو بس بریانی یا قورمہ ہی عام ہوتا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ پوری دیگ صاف کر دیں، مگر سچ پوچھیں تو ایک پلیٹ سے زیادہ کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔ کھانا دیکھ کر ہی دل بھر جاتا تھا۔  اوپر سے کولڈ ڈرنک نے الگ ہی بھر دیا ہوتا تھا اور وہ منظر تو آج بھی یاد ہے جب لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے تھے او...

میرا ساتھی

میرا ساتھی  ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا  ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر  ہم  اپنی   زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...

کچھ نہ کہہ سکا

Image
 عنوان: کچھ نہ کہہ سکّا وہ کتنی چلبلی تھی… چہرے پر شرارت، آنکھوں میں شوخی، اور بات کرتے وقت ایسا لگتا تھا جیسے ہر جملہ کسی رنگین تتلی کی طرح اس کے ہونٹوں سے اڑ کر فضا میں بکھر رہا ہو۔ جینز پہنتی، اس پر رنگ برنگی کرتی، لمبی ہِیل والی سینڈلز، اور چہرہ… ہمیشہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا۔ میں آج بھی وہ دن نہیں بھولا جب یونیورسٹی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا، ماسٹرز کی تکمیل قریب تھی، اور مجھے ’’بیسٹ اسٹوڈنٹ‘‘ کا ایوارڈ ملا تھا۔  اسٹیج سے نیچے اترا تو سب سے پہلے وہ ہی آئی تھی سائرہ۔ اس کی خوشی مجھ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا، “ناصر، بہت بہت مبارک ہو!” اور بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اس کے نزدیک یہ عام سی بات تھی، وہ ایسی ہی تھی۔ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کے ساتھ وہ ایسے ہی پیش آتی ہم پانچ دوستوں کا گروپ تھا تین لڑکے، دو لڑکیاں مگر سائرہ کی بات ہی الگ تھی۔ میں پڑھائی میں ڈوبا رہنے والا لڑکا تھا۔ کتابیں، نوٹس، لائبریری… بس یہی میرا جہان تھا  مگر وہ جیسے ہی آکر بیٹھتی، میں کتاب بند کر دیتا، چاہے امتحان سر پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی باتوں میں ایک عجیب سی زندگی تھی۔ وہ بولتی رہتی...

گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ

Image
 گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ   (بچوں، گھروں اور روزمرہ زندگی کا بڑا مسئلہ): ہمارے ملک میں سردی کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلے جس چیز کی کمی شدید محسوس ہوتی ہے، وہ ہے گھریلو گیس۔ یہ مسئلہ آج کل اتنا بڑھ چکا ہے کہ صبح کے وقت چولہے جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ گھر جہاں اسکول جانے والے بچے ہیں، وہاں صبح کا وقت ایک دوڑ جیسا بن جاتا ہے۔ بچوں کو ساڑھے چھ بجے اٹھانا، نہلانا، تیار کرنا اور ناشتہ کروانا والدین کی روزمرہ ذمہ داری ہے، مگر جب گھر میں گیس ہی نہ ہو تو یہ سب محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے بچوں کا اسکول بھوکے جانا  ایک سنگین حقیقت: آج کل ہزاروں بچے صرف اس لیے ناشتہ نہیں کر پاتے کہ گھروں میں صبح گیس نہیں آتی اور  جن بچوں کی وین یا اسکول بس عموماً 7:15 پر آجاتی ہے، اور اس سے پہلے والدین کے پاس وقت تو ہوتا ہے، لیکن گیس نہیں ہوتی۔ نتیجہ؟  بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھوکے پیٹ پڑھنا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ بچے دورانِ دن چڑچڑے، تھکے ہوئے اور غیر توجہی محسوس کرتے ہیں۔  یہ وقت وہ ہے جب ان کا دماغ تازہ غذا کا سب سے زیادہ محتاج ہوتا ہے، او...

مکان کا حصہ

Image
مکان کا حصہ  "آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…" یہ جملےمیرےکانوں  میں  مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے  چھوٹے بھائی عمر  کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا   تھا۔ مگر ایک دن  کے حادثے  نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔ گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا  ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر  نے بھی دیا، لیکن...

صحت بخش غذائیں

Image
  صحت بخش غذائیں:  (آسان اور روزمرہ کی رہنمائی) آج کے مصروف اور تیز زندگی میں صحت مند رہنا سب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ فاسٹ فوڈ، مصروفیت اور کم ورزش کی وجہ سے ہم اپنی صحت پر دھیان نہیں دے پاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کا سب سے بڑا راز کھانے میں ہے۔ صحیح اور متوازن غذا نہ صرف جسم کو توانائی دیتی ہے بلکہ دماغ، جلد، دل اور ہاضمہ بھی بہتر رکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کھانے پینے کی چیزیں جو روزانہ زندگی میں شامل کر کے ہم اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ۱ ) پھل  کی نعمت: پھل ہمیشہ سے صحت مند غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں جو جسم کو اندر سے مضبوط رکھتے ہیں۔ سیب : ایک سیب روزانہ جسم کو صاف اور توانائی بخشتا ہے۔ کیلا : فوری توانائی کے لیے بہترین ہے۔ مالٹا، امرود، کنو : وٹامن سی سے بھرپور، جلد اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہیں  بیریز : اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزانہ کوئی بھی ایک  پھل کھانے سے آپ کی صحت میں واضح فرق آئے گا ۲ ) سبزیاں  کو کھانے کا حصہ بنائی...