Posts

ہائے میرا بیٹا

Image
 ہائے میرا بیٹا… ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو جب میں تجھے لوری سنا کر سلایا کرتی تھی، اور تو ضد کر کے سونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ تب دل میں ایک ہی خیال آتا تھا کہ تُو ہماری امیدوں کا چراغ ہے، ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ سوچتی تھی، جب تیرے بابا اپنی مزدوری سے تھک کر ایک دن گھر  بیٹھ جائیں گے، تو تُو اس گھر کا کفیل بنے گا، ہمارا سہارا  بنے گا۔ شاید اسی لیے لوگ بیٹے کی خواہش کرتے ہیں… مجھے آج بھی تیرا وہ پہلا دن یاد ہے جب تُو اسکول گیا تھا۔ اُس دن میں بہت روئی تھی… آج سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے کہ آخر رونا کیسا؟ بس چند گھنٹوں کی ہی تو جدائی تھی، مگر میرے لیے وہ لمحے بھی بہت بھاری تھے، کیونکہ تُو ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہنے والا بچہ تھا۔ پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ تُو کب بڑا ہو گیا، کب دسویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ تیری ہر کامیابی کے ساتھ ہماری امیدیں بھی بڑھتی گئیں۔ تُو ہماری واحد اولاد تھا، اس لیے تجھ سے جڑی ہر خوشی، ہر خواب اور بھی قیمتی تھا۔ تجھے اپنے قد سے اونچا دیکھ کر جو خوشی ملتی تھی، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ بیٹا، جب تُو کبھی ناراض ہوتا تھا تو مجھ سے کھ...

گناہ گار

Image
 گناہ گار ایک شبانہ تھی، جس کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ وہ روز طعنے سنتی تھی کہ ایک بیٹا بھی نہ جن سکی۔ ایک سارہ تھی، جو نوکری کرتی تھی، خودمختار بھی تھی، مگر اسے یہ سننا پڑتا تھا کہ جو عورت باہر کام کرے وہ گھر اچھی طرح نہیں سنبھال سکتی۔ بس اسی طرح کی باتیں وہ روز سنتی تھی۔ ایک نازیہ تھی، جس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ جب سے وہ آئی ہے، اس کے شوہر کی نوکری ختم ہو گئی۔ ایک اور “گناہ گار” عورت کی کہانی سن لیں اس کا نام عالیہ تھا، اس نے تو حد ہی کر دی، اپنے شوہر کو الگ گھر لے گئی، اور شوہر کو “جورو کا غلام” کا لقب مل گیا۔ ارے ہاں، ایک نایاب  بھی تھی، جس کی شادی کو دس سال ہو گئے مگر بچہ نہ ہوا، تو اسے “بانجھ” کا تمغہ دے دیا گیا۔ آپ نے ابھی صرف چند ہی “گناہ گار” عورتوں کی کہانیاں سنی ہیں، ابھی تو اور بھی بہت سی کہانیاں باقی ہیں، مگر آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ویسے تو یہ سب نام فرضی ہیں، مگر یہ کہانیاں سچی ہیں۔ کہیں نہ کہیں یہاں عورت کو ہی قصوروار ثابت کیا جاتا ہے۔ یہاں “گناہ گار” کا لفظ اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے باقاعدہ سزا دی جاتی ہے اور یہ سزا مار پیٹ نہیں ہوتی، بلکہ باتو...

معاف کر دو!

Image
  معاف کر دو ! یہ صرف تین لفظ ہیں، مگر کبھی کبھی ان تین لفظوں کا وزن انسان کے دل پر پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔ ہم اکثر ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلا تا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ، “معاف کر دو۔” ہم میں سے کچھ نظر چرا لیتے ہیں، کچھ خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر آج میں ان الفاظ کو کسی اور معنی میں یاد کر رہی ہوں۔ زندگی میں بھی اکثر یہی تین لفظ سننے کو ملتے ہیں  “معاف کر دو”۔ لوگ کہتے ہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی ہو جاتی ہے، دل بڑا رکھو اور معاف کر دو۔ بعض اوقات ہم خود بھی یہی کہتے ہیں کہ “معاف کر دو، کیونکہ غلطی تو ہم سے بھی ہو سکتی ہے۔” لیکن زندگی کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر یہ تین لفظ مرہم نہیں بن پاتے۔ اگر کسی کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو شاید وہ واپس مل جائے۔ اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو اس کا ہرجانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ مگر جو خوشیاں کسی کے دل سے چھین لی جائیں… جو خواب کسی کی وجہ سے آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں… جو سکون کسی کی زندگی سے چھین لیا جائے… ان کا ازالہ کون کر سکتا ہے؟ انسان مال واپس کر سکتا ہے، قرض چکا سکتا ہے، مگر کسی کے دل کی ٹوٹی ہوئی دنیا واپس ...

وقت

Image
 وقت کہتے ہیں کائنات میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے۔ سورج اپنی روشنی جس تیزی سے زمین اور دوسرے سیاروں تک پہنچاتا ہے، وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس وسیع کائنات کا ہر نظام ایک خاص ترتیب اور حساب کے ساتھ چل رہا ہے، جیسے کسی نے ہر لمحے کو ناپ تول کر اس کے حصے مقرر کر دیے ہوں۔ انسان نے ترقی کی لمبی منزلیں طے کر لی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، مشکل کام لمحوں میں ہو جاتے ہیں، مگر ایک حقیقت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی صدیوں پہلے تھی۔ انسان وقت کی رفتار کو نہ روک سکا ہے اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے موڑ سکا ہے۔ وقت ایک خاموش مسافر ہے جو کبھی رکتا نہیں۔ وہ کسی کے انتظار میں ٹھہرتا نہیں اور نہ ہی مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے۔ انسان چاہے جتنی کوشش کر لے، گزرے ہوئے لمحوں کو واپس نہیں لا سکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی لمحے میں کی گئی اپنی غلطی کو اس وقت غلطی نہیں سمجھتے۔ مگر جب وقت آگے بڑھ جاتا ہے اور شعور کی آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ لمحہ واپس آ جاتا اور ہم اسے بدل سکتے۔ مگر وقت کا دروازہ ایک بار بند ہو جائے تو پھر کبھی نہیں کھلتا۔...

نا پاک برتن

Image
ناپاک برتن  روز صبح فجر کی نماز کے بعد میری ایک مستقل روٹین ہے۔ میں بالکنی میں کھڑی ہو کر طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھتی ہوں۔ صبح کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا ہے۔ آسمان پر پرندے اپنی زبان میں اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہوتے ہیں، کچھ لوگ واک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور فضا میں ایک خاموشی اور تازگی ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد اسکول کے بچے اپنے والدین کے ساتھ وین کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آٹھ بج جاتے ہیں۔  اسی دوران میری نظر ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو قدرے میلے کپڑے پہنے، ہاتھ میں لمبا سا ڈنڈا لیے ہوتے ہیں جس کے نیچے جھاڑو لگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ جھاڑو لگانے سے تھوڑی بہت دھول مٹی اڑتی ہے، مگر کچھ ہی دیر میں پوری سڑک صاف ہو جاتی ہے۔ ایک دن میں نے کچرا اٹھانے والے کو کچرےکا ڈبہ دیا۔ اس نے کہا، “باجی، پانی پلا دو۔” میں نے اسے پانی دیا تو اس نے منع کر دیا اور بولا، “باجی، میں شیشے کے گلاس میں نہیں پیوں گا۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “کیوں؟ یہ گلاس تو صاف ہے۔” اس نے آہستگی سے کہا، “بات صفائی کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ ایسے گلاس میں پ...

دسمبر کی شادیاں

Image
  دسمبر کی شادیاں بھئی ویسے تو ہم خود بھی دسمبر کی پیدائش ہیں ، مگر یہ دسمبر تو جیسے شادیوں کا باقاعدہ سیزن ہی بن چکا ہے۔ جدھر دیکھو، شادی ہی شادی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ شادی نہ کریں، مگر بیچارے اور بھی تو مہینے ہیں جو برسوں سے منتظر ہیں۔ ان مہینوں کا کیا قصور ہے؟ ویسے بھی کراچی میں سردی کا تو نام ہی بدنام ہے، مگر مان لیتے ہیں، تھوڑی بہت ہوتی تو ہے۔ اب اگر وہ بھی شادیوں میں ہی دن گزار دے تو ہم رضائی اوڑھ کر کب سوئیں گے؟ پھر کیا پتا سردی کب آئی اور کب چلی گئی۔  خیر، بات تو ہم شادیوں ہی کی کر رہے تھے۔ بچپن میں تو ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہوتا تھا۔ شادیاں ہمارے لیے بس ایک چھوٹی سی خوشی ہوتی تھیں۔ خوشی بھی ایسی کہ اچھے کپڑے پہننے کو مل جائیں گے یا کولڈ ڈرنک ملے گی، اور جتنا دل چاہے پی لو۔ اور پہلے تو بس بریانی یا قورمہ ہی عام ہوتا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ پوری دیگ صاف کر دیں، مگر سچ پوچھیں تو ایک پلیٹ سے زیادہ کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔ کھانا دیکھ کر ہی دل بھر جاتا تھا۔  اوپر سے کولڈ ڈرنک نے الگ ہی بھر دیا ہوتا تھا اور وہ منظر تو آج بھی یاد ہے جب لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے تھے او...

میرا ساتھی

میرا ساتھی  ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا  ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر  ہم  اپنی   زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...