Posts

کیا جینا اتنا مشکل ہے؟

Image
 کیا جینا اتنا مشکل ہے ؟ کبھی دل چاہتا ہے کہ لکھنا ہی چھوڑ دوں، یا پھر بس کبھی کبھار ایک آدھ تحریر لکھ لیا کروں۔ اکثر یہ خیال آتا ہے کہ آج کے مصروف دور میں آخر کس کے پاس وقت ہے کہ کسی کی لکھی ہوئی باتیں پڑھے۔ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جنہیں کتابوں اور تحریروں سے محبت ہے، جو الفاظ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ پھر کچھ خبریں ایسی سامنے آتی ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا، اور لکھنا ایک مجبوری بن جاتا ہے۔ آج کل گردش کرنے والی خبروں پر نظر ڈالیں تو کہیں تیزاب گردی کا واقعہ ہے، کہیں ایک شوہر نے اپنی بیوی کی جان لے لی، اور کہیں ایک فرسٹ ایئر کی طالبہ زیادتی کے بعد قتل کر دی گئی۔ ان تینوں واقعات میں ایک بات مشترک ہے: نشانہ ایک عورت بنی۔ یقیناً جو کچھ ان خواتین کے ساتھ ہوا، وہ کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر حادثات اور سانحات جب وقوع پذیر ہوتے ہیں تو صرف ایک جان نہیں لیتے، اپنے پیچھے ایک طویل داستان چھوڑ جاتے ہیں۔ خاص طور پر ان والدین کے لیے جن کی بیٹیاں ہیں، ایسی خبریں خوف، بے یقینی اور بے شمار سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر بحثوں کا ایک نہ ختم ہونے ...

ہائے میرا بیٹا

Image
 ہائے میرا بیٹا… ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو جب میں تجھے لوری سنا کر سلایا کرتی تھی، اور تو ضد کر کے سونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ تب دل میں ایک ہی خیال آتا تھا کہ تُو ہماری امیدوں کا چراغ ہے، ہمارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ سوچتی تھی، جب تیرے بابا اپنی مزدوری سے تھک کر ایک دن گھر  بیٹھ جائیں گے، تو تُو اس گھر کا کفیل بنے گا، ہمارا سہارا  بنے گا۔ شاید اسی لیے لوگ بیٹے کی خواہش کرتے ہیں… مجھے آج بھی تیرا وہ پہلا دن یاد ہے جب تُو اسکول گیا تھا۔ اُس دن میں بہت روئی تھی… آج سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے کہ آخر رونا کیسا؟ بس چند گھنٹوں کی ہی تو جدائی تھی، مگر میرے لیے وہ لمحے بھی بہت بھاری تھے، کیونکہ تُو ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہنے والا بچہ تھا۔ پھر پتہ ہی نہیں چلا کہ تُو کب بڑا ہو گیا، کب دسویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ تیری ہر کامیابی کے ساتھ ہماری امیدیں بھی بڑھتی گئیں۔ تُو ہماری واحد اولاد تھا، اس لیے تجھ سے جڑی ہر خوشی، ہر خواب اور بھی قیمتی تھا۔ تجھے اپنے قد سے اونچا دیکھ کر جو خوشی ملتی تھی، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی۔ بیٹا، جب تُو کبھی ناراض ہوتا تھا تو مجھ سے کھ...

گناہ گار

Image
 گناہ گار ایک شبانہ تھی، جس کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ وہ روز طعنے سنتی تھی کہ ایک بیٹا بھی نہ جن سکی۔ ایک سارہ تھی، جو نوکری کرتی تھی، خودمختار بھی تھی، مگر اسے یہ سننا پڑتا تھا کہ جو عورت باہر کام کرے وہ گھر اچھی طرح نہیں سنبھال سکتی۔ بس اسی طرح کی باتیں وہ روز سنتی تھی۔ ایک نازیہ تھی، جس کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ جب سے وہ آئی ہے، اس کے شوہر کی نوکری ختم ہو گئی۔ ایک اور “گناہ گار” عورت کی کہانی سن لیں اس کا نام عالیہ تھا، اس نے تو حد ہی کر دی، اپنے شوہر کو الگ گھر لے گئی، اور شوہر کو “جورو کا غلام” کا لقب مل گیا۔ ارے ہاں، ایک نایاب  بھی تھی، جس کی شادی کو دس سال ہو گئے مگر بچہ نہ ہوا، تو اسے “بانجھ” کا تمغہ دے دیا گیا۔ آپ نے ابھی صرف چند ہی “گناہ گار” عورتوں کی کہانیاں سنی ہیں، ابھی تو اور بھی بہت سی کہانیاں باقی ہیں، مگر آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ویسے تو یہ سب نام فرضی ہیں، مگر یہ کہانیاں سچی ہیں۔ کہیں نہ کہیں یہاں عورت کو ہی قصوروار ثابت کیا جاتا ہے۔ یہاں “گناہ گار” کا لفظ اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے باقاعدہ سزا دی جاتی ہے اور یہ سزا مار پیٹ نہیں ہوتی، بلکہ باتو...

معاف کر دو!

Image
  معاف کر دو ! یہ صرف تین لفظ ہیں، مگر کبھی کبھی ان تین لفظوں کا وزن انسان کے دل پر پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔ ہم اکثر ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلا تا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ، “معاف کر دو۔” ہم میں سے کچھ نظر چرا لیتے ہیں، کچھ خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر آج میں ان الفاظ کو کسی اور معنی میں یاد کر رہی ہوں۔ زندگی میں بھی اکثر یہی تین لفظ سننے کو ملتے ہیں  “معاف کر دو”۔ لوگ کہتے ہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی ہو جاتی ہے، دل بڑا رکھو اور معاف کر دو۔ بعض اوقات ہم خود بھی یہی کہتے ہیں کہ “معاف کر دو، کیونکہ غلطی تو ہم سے بھی ہو سکتی ہے۔” لیکن زندگی کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر یہ تین لفظ مرہم نہیں بن پاتے۔ اگر کسی کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو شاید وہ واپس مل جائے۔ اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو اس کا ہرجانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ مگر جو خوشیاں کسی کے دل سے چھین لی جائیں… جو خواب کسی کی وجہ سے آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھر جائیں… جو سکون کسی کی زندگی سے چھین لیا جائے… ان کا ازالہ کون کر سکتا ہے؟ انسان مال واپس کر سکتا ہے، قرض چکا سکتا ہے، مگر کسی کے دل کی ٹوٹی ہوئی دنیا واپس ...

وقت

Image
 وقت کہتے ہیں کائنات میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے۔ سورج اپنی روشنی جس تیزی سے زمین اور دوسرے سیاروں تک پہنچاتا ہے، وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ اس وسیع کائنات کا ہر نظام ایک خاص ترتیب اور حساب کے ساتھ چل رہا ہے، جیسے کسی نے ہر لمحے کو ناپ تول کر اس کے حصے مقرر کر دیے ہوں۔ انسان نے ترقی کی لمبی منزلیں طے کر لی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، مشکل کام لمحوں میں ہو جاتے ہیں، مگر ایک حقیقت آج بھی ویسی ہی ہے جیسی صدیوں پہلے تھی۔ انسان وقت کی رفتار کو نہ روک سکا ہے اور نہ ہی اسے اپنی مرضی سے موڑ سکا ہے۔ وقت ایک خاموش مسافر ہے جو کبھی رکتا نہیں۔ وہ کسی کے انتظار میں ٹھہرتا نہیں اور نہ ہی مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے۔ انسان چاہے جتنی کوشش کر لے، گزرے ہوئے لمحوں کو واپس نہیں لا سکتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی لمحے میں کی گئی اپنی غلطی کو اس وقت غلطی نہیں سمجھتے۔ مگر جب وقت آگے بڑھ جاتا ہے اور شعور کی آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ لمحہ واپس آ جاتا اور ہم اسے بدل سکتے۔ مگر وقت کا دروازہ ایک بار بند ہو جائے تو پھر کبھی نہیں کھلتا۔...

نا پاک برتن

Image
ناپاک برتن  روز صبح فجر کی نماز کے بعد میری ایک مستقل روٹین ہے۔ میں بالکنی میں کھڑی ہو کر طلوعِ آفتاب کا منظر دیکھتی ہوں۔ صبح کا اپنا ہی ایک حسن ہوتا ہے۔ آسمان پر پرندے اپنی زبان میں اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہوتے ہیں، کچھ لوگ واک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور فضا میں ایک خاموشی اور تازگی ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد اسکول کے بچے اپنے والدین کے ساتھ وین کا انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ آٹھ بج جاتے ہیں۔  اسی دوران میری نظر ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو قدرے میلے کپڑے پہنے، ہاتھ میں لمبا سا ڈنڈا لیے ہوتے ہیں جس کے نیچے جھاڑو لگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔ جھاڑو لگانے سے تھوڑی بہت دھول مٹی اڑتی ہے، مگر کچھ ہی دیر میں پوری سڑک صاف ہو جاتی ہے۔ ایک دن میں نے کچرا اٹھانے والے کو کچرےکا ڈبہ دیا۔ اس نے کہا، “باجی، پانی پلا دو۔” میں نے اسے پانی دیا تو اس نے منع کر دیا اور بولا، “باجی، میں شیشے کے گلاس میں نہیں پیوں گا۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “کیوں؟ یہ گلاس تو صاف ہے۔” اس نے آہستگی سے کہا، “بات صفائی کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ ایسے گلاس میں پ...

دسمبر کی شادیاں

Image
  دسمبر کی شادیاں بھئی ویسے تو ہم خود بھی دسمبر کی پیدائش ہیں ، مگر یہ دسمبر تو جیسے شادیوں کا باقاعدہ سیزن ہی بن چکا ہے۔ جدھر دیکھو، شادی ہی شادی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ شادی نہ کریں، مگر بیچارے اور بھی تو مہینے ہیں جو برسوں سے منتظر ہیں۔ ان مہینوں کا کیا قصور ہے؟ ویسے بھی کراچی میں سردی کا تو نام ہی بدنام ہے، مگر مان لیتے ہیں، تھوڑی بہت ہوتی تو ہے۔ اب اگر وہ بھی شادیوں میں ہی دن گزار دے تو ہم رضائی اوڑھ کر کب سوئیں گے؟ پھر کیا پتا سردی کب آئی اور کب چلی گئی۔  خیر، بات تو ہم شادیوں ہی کی کر رہے تھے۔ بچپن میں تو ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہوتا تھا۔ شادیاں ہمارے لیے بس ایک چھوٹی سی خوشی ہوتی تھیں۔ خوشی بھی ایسی کہ اچھے کپڑے پہننے کو مل جائیں گے یا کولڈ ڈرنک ملے گی، اور جتنا دل چاہے پی لو۔ اور پہلے تو بس بریانی یا قورمہ ہی عام ہوتا تھا۔ دل تو چاہتا تھا کہ پوری دیگ صاف کر دیں، مگر سچ پوچھیں تو ایک پلیٹ سے زیادہ کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔ کھانا دیکھ کر ہی دل بھر جاتا تھا۔  اوپر سے کولڈ ڈرنک نے الگ ہی بھر دیا ہوتا تھا اور وہ منظر تو آج بھی یاد ہے جب لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے تھے او...

میرا ساتھی

میرا ساتھی  ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ آج میں نے سفید رنگ کی نئی قمیض شلوار پہنی ہے، وہی جو اسے بہت پسند تھی۔ کیا دن تھے وہ، جب زندگی میں کوئی ذمہ داریاں نہیں تھیں، بس پڑھائی کی فکر ہوتی تھی۔ مگر جب میں جوان ہوا اور جس دن میرا شناختی کارڈ بنا، اسی دن ابا جان نے کہا، “اب اپنے ذاتی خرچ خود اٹھاؤ۔” بس، وہیں سے محنت شروع ہو گئی۔ میرے زیادہ دوست نہیں تھے، بس ایک ہی بچپن کا دوست تھا جو میرے دل کے بہت قریب تھا  ناصر۔ میں اسے بھائیوں سے بڑھ کر سمجھتا تھا کیونکہ میرا کوئی بھائی نہیں تھا پھر  ہم  اپنی   زندگیوں میں اتنے مصروف ہو گئے کہ باتیں بس فون تک رہ گئیں، اور وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً ختم ہو گئیں۔ ایک دن میں نے اس کا وہ پتہ نکالا جو اس نے کبھی بتایا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بغیر بتائے جا کر اسے سرپرائز دیا جائے۔ اب ہم خود ساٹھ سال کے ہو چکے ہیں، مگر الحمدللہ آج کے جوانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ناصر حیدرآباد میں رہتا تھا۔ میں نے بس کا ٹکٹ لیا، شوگر فری سفید لڈو خریدے اور کچھ پھل بھی۔ سوچا، آج کا پورا دن اپنے دوست کے ساتھ گزاروں گا۔ جب وہاں پہنچ...

کچھ نہ کہہ سکا

Image
 عنوان: کچھ نہ کہہ سکّا وہ کتنی چلبلی تھی… چہرے پر شرارت، آنکھوں میں شوخی، اور بات کرتے وقت ایسا لگتا تھا جیسے ہر جملہ کسی رنگین تتلی کی طرح اس کے ہونٹوں سے اڑ کر فضا میں بکھر رہا ہو۔ جینز پہنتی، اس پر رنگ برنگی کرتی، لمبی ہِیل والی سینڈلز، اور چہرہ… ہمیشہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا۔ میں آج بھی وہ دن نہیں بھولا جب یونیورسٹی کا آخری سمسٹر چل رہا تھا، ماسٹرز کی تکمیل قریب تھی، اور مجھے ’’بیسٹ اسٹوڈنٹ‘‘ کا ایوارڈ ملا تھا۔  اسٹیج سے نیچے اترا تو سب سے پہلے وہ ہی آئی تھی سائرہ۔ اس کی خوشی مجھ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا، “ناصر، بہت بہت مبارک ہو!” اور بے تکلفی سے میرا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اس کے نزدیک یہ عام سی بات تھی، وہ ایسی ہی تھی۔ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کے ساتھ وہ ایسے ہی پیش آتی ہم پانچ دوستوں کا گروپ تھا تین لڑکے، دو لڑکیاں مگر سائرہ کی بات ہی الگ تھی۔ میں پڑھائی میں ڈوبا رہنے والا لڑکا تھا۔ کتابیں، نوٹس، لائبریری… بس یہی میرا جہان تھا  مگر وہ جیسے ہی آکر بیٹھتی، میں کتاب بند کر دیتا، چاہے امتحان سر پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی باتوں میں ایک عجیب سی زندگی تھی۔ وہ بولتی رہتی...

گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ

Image
 گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ   (بچوں، گھروں اور روزمرہ زندگی کا بڑا مسئلہ): ہمارے ملک میں سردی کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلے جس چیز کی کمی شدید محسوس ہوتی ہے، وہ ہے گھریلو گیس۔ یہ مسئلہ آج کل اتنا بڑھ چکا ہے کہ صبح کے وقت چولہے جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ گھر جہاں اسکول جانے والے بچے ہیں، وہاں صبح کا وقت ایک دوڑ جیسا بن جاتا ہے۔ بچوں کو ساڑھے چھ بجے اٹھانا، نہلانا، تیار کرنا اور ناشتہ کروانا والدین کی روزمرہ ذمہ داری ہے، مگر جب گھر میں گیس ہی نہ ہو تو یہ سب محض ایک خواہش بن کر رہ جاتا ہے بچوں کا اسکول بھوکے جانا  ایک سنگین حقیقت: آج کل ہزاروں بچے صرف اس لیے ناشتہ نہیں کر پاتے کہ گھروں میں صبح گیس نہیں آتی اور  جن بچوں کی وین یا اسکول بس عموماً 7:15 پر آجاتی ہے، اور اس سے پہلے والدین کے پاس وقت تو ہوتا ہے، لیکن گیس نہیں ہوتی۔ نتیجہ؟  بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بھوکے پیٹ پڑھنا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ بچے دورانِ دن چڑچڑے، تھکے ہوئے اور غیر توجہی محسوس کرتے ہیں۔  یہ وقت وہ ہے جب ان کا دماغ تازہ غذا کا سب سے زیادہ محتاج ہوتا ہے، او...

مکان کا حصہ

Image
مکان کا حصہ  "آپی بس ہمارا حق دے دیں تاکہ ہم الگ گھر خرید سکیں، آپ بھی خوش رہیں اور ہم بھی…" یہ جملےمیرےکانوں  میں  مسلسل گونج رہے تھے، جیسے کوئی ان دیکھی گونج دل کی دیواروں سے بار بار ٹکرا رہی ہو۔ یہ آواز میرے  چھوٹے بھائی عمر  کی تھی وہی بھائی جو مجھ سے صرف تین سال چھوٹا تھا ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ کبھی ہمارا گھر ہنسی، خوشی ،شور،اماں اور ابّا کی آوازوں سے گونجتا رہتا   تھا۔ مگر ایک دن  کے حادثے  نےسب کچھ بدل دیا۔ ماں باپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے، اور اس وادئ دنیا میں ہم بس چار کم عمر بہن بھائی رہ گئے۔ اُس وقت میں صرف سترہ سال کی تھی، میٹرک کے بعد کچھ بننے کا خواب ابھی آنکھوں میں ہی تھا کہ زندگی نے کان پکڑ کر حقیقت کے بیچوں بیچ لا کھڑا کیا۔ گھر چلانے کے مسئلے نے سب سے پہلے دروازہ کھٹکھٹایا  ابا کی پنشن ناکافی تھی۔ تو پھر میں نے وہ سب کیا جو ایک سترہ سال کی لڑکی کر سکتی تھی ٹیوشنز، اسکول میں پڑھانا، بچوں کو قرآن پڑھانا، سلائی کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا؟ چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی۔ کچھ ساتھ عمر  نے بھی دیا، لیکن...

صحت بخش غذائیں

Image
  صحت بخش غذائیں:  (آسان اور روزمرہ کی رہنمائی) آج کے مصروف اور تیز زندگی میں صحت مند رہنا سب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ فاسٹ فوڈ، مصروفیت اور کم ورزش کی وجہ سے ہم اپنی صحت پر دھیان نہیں دے پاتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کا سب سے بڑا راز کھانے میں ہے۔ صحیح اور متوازن غذا نہ صرف جسم کو توانائی دیتی ہے بلکہ دماغ، جلد، دل اور ہاضمہ بھی بہتر رکھتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کھانے پینے کی چیزیں جو روزانہ زندگی میں شامل کر کے ہم اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ۱ ) پھل  کی نعمت: پھل ہمیشہ سے صحت مند غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں جو جسم کو اندر سے مضبوط رکھتے ہیں۔ سیب : ایک سیب روزانہ جسم کو صاف اور توانائی بخشتا ہے۔ کیلا : فوری توانائی کے لیے بہترین ہے۔ مالٹا، امرود، کنو : وٹامن سی سے بھرپور، جلد اور مدافعتی نظام کے لیے فائدہ مند ہیں  بیریز : اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور، بڑھتی عمر کے اثرات کم کرتے ہیں۔ روزانہ کوئی بھی ایک  پھل کھانے سے آپ کی صحت میں واضح فرق آئے گا ۲ ) سبزیاں  کو کھانے کا حصہ بنائی...

کتابوں کی دکان(تین دن بندریے گی)

Image
کتابوں کی دکان  : ( دکان تین دن تک بند رہے گی )  کتابوں کی دکان پر لگا ہوا ایک چھوٹا سا نوٹس مجھے اس دن بہت بے چین کر گیا۔ اس پر لکھا تھا “دکان تین دن تک بند رہے گی۔” پڑھتے ہی دل میں عجیب سی گھبراہٹ اتر آئی، کیونکہ یہ دکان تو ہمیشہ کھلی رہتی تھی، چاہے اتوار ہو یا کوئی تہوار۔ میں برسوں سے اس راستے سے گزرتی تھی، اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ دکان کبھی بند ملی ہو۔ جب میں اسکول جاتی تھی تو یہ دکان میرے روزانہ کے راستے کا حصہ تھی۔ مجھے اور میری دوستوں کو جب بھی پنسل، ربڑ، شارپنر یا کاپی کی ضرورت پڑتی، ہم اسی دکان کا رُخ کرتے۔ دکان کے مالک ضیا انکل نہایت نرم دل اور شریف انسان تھے۔ ان کی دکان ہمیشہ صاف ستھری، تہذیب سے بھری اور ترتیب کا نمونہ ہوتی۔ کاپیاں ایک طرف سجی ہوتیں، رنگین پنسلوں کے ڈبے الگ رکھے ہوتے، اور جیومیٹری باکس اس طرح ترتیب سے رکھے ہوتے کہ دیکھ کر دل خوش ہو جائے۔ شاید ہی کوئی بچہ ہوتا جس کا وہاں سے کچھ خریدنے کو دل نہ چاہتا ہو۔ ہم روزانہ سلام کرتے اور وہ جتنے بھی مصروف ہوں، بڑی محبت سے جواب دیتے۔ ان کے انداز میں ایک خاص ملائمت تھی، جو بہت کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ اس لیے ...

ستاروں کا علم

Image
  ستاروں کا علم (آغاز سے آج تک) رات کے پچھلے پہر ایک شخص ساحل کنارے کھڑا ٹکٹکی باندھ کےآسمان تک رہا تھا۔ ستاروں کا سمندر اپنی روشنی سے ذہن کی کھڑکیاں کھول رہا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا: آخر یہ ستارے کیسے روشن ہیں؟ ان میں یہ توانائی کہاں سے آئی ؟ کیا یہ آسمان پر لٹکتے دیے   ہماری زندگی سے کچھ تعلق رکھتے ہیں یا صرف خوبصورتی کے لیے ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی اور پر اسرار مقصد پوشیدہ ہے؟ یہی سوالات اُس کے ذہن میں گھوم رہےتھے اور اسی جستجو نے انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ گویا یہیں سے ستاروں کا علم شروع ہوا۔ زمانئے قدیم میں ستاروں کے علم کی بنیاد انسان نے سب سے پہلے آسمان کو وقت ، سمت اور موسم جاننے کے لیے استعمال کیا۔ بابلی لوگ ستاروں کی حرکت کو نوٹ کرتے اور مٹی کی تختیوں پر لکھتے۔ ان کے نزدیک آسمان ایک کتاب تھی۔ وہ ستاروں کی مدد سے موسم اور زراعت کا حساب لگاتے۔ مصری لوگ اہرام کو ستاروں کی سمت کے مطابق بناتے۔ سورج اور چاند سے وقت معلوم کرتے۔ دریائے نیل کے کنارے کھڑے کسان ستاروں کی روشنی سے بیج بوتے۔ چینی لوگ آسمان میں تبدیلی کو بادشا...